• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈیفنس کراچی میں بہن بھائی پر تشدد کا مقدمہ با اثر خاتون پر درج


اسکرین گریب/ جیو نیوز
اسکرین گریب/ جیو نیوز 

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خاتون پر تشدد کے کیس میں تشدد کرنے والی خاتون پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔

پہلے ایس ایس پی فدا جانوری کی رشتے دار خاتون نے متاثرہ خاتون پر مقدمہ درج کروایا تھا، ملزمہ نے پولیس اہلکاروں کی معاونت سے خاتون اور اس کے بھائی پر تشدد کیا تھا، معاونت کرنے والے پولیس اہل کاروں پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس کے اپارٹمنٹ میں 21 اگست کو با اثر خاتون کی جانب سے بہن بھائی پر تشدد کیا گیا تھا، جس کی ویڈیو 28 اگست کو سامنے آئی تھی۔

سی سی ٹی وی ویڈیو میں ایک خاتون کو دوسری خاتون پر تشدد کرتے دیکھا گیا تھا، ہاتھ میں ایکسرسائز ڈمبل بھی دکھائی دے رہا تھا۔

پولیس اہل کار نے متاثرہ خاتون کے ساتھ موجود شخص کو دھکے دیے، متاثرہ فیملی نے تھانہ درخشاں میں درخواست جمع کروائی تھی، تشدد کا نشانہ بننے والے بہن بھائی ہیں جو والدہ کے ساتھ اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھے۔

بااثر خاتون کے بہن بھائی پر تشدد کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکوائری رپورٹ مکمل کرلی گئی، تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) فدا جانوری کو بھی واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری کی طرف سے معاملے میں انتظامی غفلت برتی گئی، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ متاثرہ فیملی کے خلاف درج مقدمے کو بی کلاس یعنی خارج کردیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق واقعے میں ڈسٹرکٹ کورنگی کے 4 اہلکاروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایس ایچ او درخشاں راشد علی، ایس آئی او عمران درخشاں اور پولیس موبائل افسر آفتاب منگی کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی ہوگی، جبکہ ویڈیو میں نظر آنے والی دو خواتین اور ایک مرد پر مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں متاثرہ فیملی پر تشدد کرنے والے تمام افراد فدا جانوری کے قریبی رشتے دار ہیں۔ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ذمے داران کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، تحقیقاتی کمیٹی کی انکوائری رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کو بھجوا دی گئی ہے۔

قومی خبریں سے مزید