قارئین ! آپ کو بتاتا چلوں کہ علاقائی سلامتی آج جذباتی نعرے سے نہیں بلکہ مشتر کہ ضرورت سے بنتی ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب مشتر کہ سلامتی اور اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں ۔ پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب3ایسے ممالک ہیں جن کے جغرافیے ، وسائل اور خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک کے سمندری راستے متاثر ہوں تو دوسرے کی معیشت کا نپتی ہے، ایک کی سرحد پر دہشت پھیلے تو تیسرے کا اندرونی سکون خطرے میں پڑتا ہے۔ اس لئے دفاعی ہم آہنگی محض سفارتی رسم نہیں،بقا کا سوال ہے۔ دفاعی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جائے تو تینوں کی قوتیں الگ الگ ہیں، مگر ایک دوسرے کی کمی پوری کر سکتی ہیں۔ پاکستان کے پاس تجربہ کار زمینی قوت، قابل اعتماد ایٹمی صلاحیت ، پہاڑی اور صحرائی جنگ کا وسیع تجربہ اور دفاعی پیداوار کی مستحکم بنیاد موجود ہے۔ اس کی سب سے بڑی ضرورت جدید ٹیکنا لوجی، پائیدار مالی وسائل اور فضائی و بحری نگرانی کا تسلسل ہے۔ ترکیہ صنعتی دفاع میں آگے ہے، بغیر پائلٹ طیارے، مقامی ہتھیار سازی، نیٹو معیارات کا تجربہ اور تربیت کا نظام اس کی پہچان ہیں۔ اسے توانائی کی حفاظت، بر آمدی منڈیوں اور طویل المدتی اسٹر ٹیجک گہرائی درکار ہے ۔سعودی عرب مالی طاقت ، توانائی کی عالمی حیثیت، جدید دفاعی خریداری اور مقدس مقامات کی ذمہ داری رکھتا ہے۔ گویا ایک کے پاس آدمی اور تجربہ ہے ، دوسرے کے پاس صنعت، تیسرے کے پاس سرمایہ۔ اتحادتب معنی رکھتا ہے جب یہ تینوں ستون ایک ہی چھت تلے آئیں۔ بہت سے حلقوں میں یہ احساس گہرا ہے کہ عالم اسلام کے منتشر ٹکڑوں کو الگ الگ کمزور رکھنے والی قو تیں دراصل ایک ہی کھیل کھیل رہی ہیں۔ یہ سہ فریقی قربت دہائیوں پرانے اس خواب کی خشت ِاول بن سکتی ہے جس میں مسلم ممالک صرف تقاریر میں نہیں، اداروں میں اکٹھے ہوں ۔ لازم ہے کہ دفاعی تعاون کو شخصی تعلقات اور دوروں سے نکال کر مستقل ڈھانچہ دیا جائے ۔ مشترکہ دفاعی کونسل، فوجی مشقوں کا سالانہ کیلنڈر، انٹیلی جنس کی محفوظ شرح تبادلہ ، دفاعی صنعت کے مشترکہ منصوبے اور بحران کے وقت فیصلہ کرنے کا واضح طریقہ کاراس ڈھانچے کے بغیر ناممکن ہے۔ اتحاد کاغذ پر رہا تو دشمن اسے سنجیدگی سے نہیں لے گا۔ دفاع کو معیشت سے الگ رکھنا یورپ کی اس غلطی کو دہرانا ہے جو جنگ کے بعد انہوں نے خود درست کی، یورپی یونین پہلے بازاربنی ، پھر سیاسی وزن پیدا ہوا۔ مسلم دنیا اسی تجربے سے فائدہ اٹھا کر اتحاد اور معاشی و سیاسی استحکام کا سفر شروع کر سکتی ہے۔ سعودی سرمایہ پاکستان میں توانائی، کان کنی، زراعت ، بندر گاہوں اور دفاعی صنعت میں لگ سکتا ہے، بدلے میں اسے غذا ، انسانی وسائل اور سمندری رسائی مل سکتی ہے۔ ترکیہ ٹیکنا لوجی ، تعمیرات ، ڈرون اور مشینری دے کر پاکستان و سعودی منڈی حاصل کر سکتا ہے، جبکہ اسے تیل ،گیس اور سرمایہ درکار ہے۔ پاکستان سستی مگر ہنر مند افرادی قوت ،زرعی پیداوار ، ٹیکسٹائل اور دفاعی اشتراک سے دونوں کو فائدہ دے سکتا ہے۔ مشتر کہ اسلامی بینکاری ، مقامی کرنسیوں میں تجارت، توانائی کے طویل معاہدے، فوڈ سیکورٹی کا ذخیرہ اور نوجوانوں کیلئے تکنیکی ادارے اس تعاون کو مستحکم کریں گے۔ اگر یہ3 دارالحکومت صرف فوجی بیانات پر رک گئے تو تاریخ انہیں ایک اور اعلامیہ کہہ کر بھول جائے گی۔ اگر دفاع ، بجٹ صنعت اور منڈی ایک لڑی میں پرودئیے گئے تو یہ اتحاد عالم اسلام کی بڑی وحدت کیلئے پہلا عملی قدم بن سکتا ہے۔ ضرورت جذبے کی نہیں ، ترتیب کی ہے، دفاع سے اعتماد، اعتماد سے تجارت، تجارت سے استحکام ، اسی ترتیب پر چلیں تو مشتر کہ سلامتی محض نعرہ نہیں ر ہے گی ۔
دوسری جانب مکران میں کالعدم بی ایل اے کی جانب سے 2 کم عمر لڑکیوں کو خودکش حملوں اور تنظیمی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی جبکہ16سالہ زینب اور اس کی12سالہ کزن فاطمہ کو بازیاب کرا لیا گیا۔وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا لانگو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بی ایل اے نے دونوں لڑکیوں کو جذباتی طور پر ورغلا کر تنظیم میں شامل ہونے پر آمادہ کیا۔ زینب کے شوہر سیف کو بھی تنظیم میں شامل ہونے سے انکار پر قتل کیا گیا اور بعد ازاں زینب کو یہ باور کرایا گیا کہ اس کے شوہر کو ریاستی اداروں نے قتل کیا۔زینب نے بتایا کہ اسے شوہر کے قتل کا بدلہ لینے پر اکسایا گیا، جبکہ اس کی کزن فاطمہ کو بھی اسی بیانیے کے ذریعے تنظیم کا حصہ بننے پر آمادہ کیا گیا۔ دونوں لڑکیوں کے مطابق انہیں تقریبا 40روز تک ایک نامعلوم مقام پر رکھا گیا جہاں انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔بلوچ عوام کی محرومیوں کے نام پر دہشتگردی کرنے والی کالعدم بی ایل اے کا ایک اور مکروہ چہرہ سامنے آ گیا ہے۔ کم عمر بچیوں کو ورغلا کر دہشتگردی اور خودکش حملوں کیلئے استعمال کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس گروہ کا بلوچ روایات، اقدار اور خواتین کے احترام سے کوئی تعلق نہیں۔اسی ذہنیت کے تحت لاپتہ افراد کے معاملے کو بھی ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی شخص کی بازیابی کے مطالبات سامنے آتے ہیں تو بعد میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ دہشتگردی میں مارا گیا۔بھارت بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو پاکستان کیخلاف طالبان رجیم کے توسط سے پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کرتا ہے۔دہشتگردوں کا اصل چہرہ اس وقت مزید بے نقاب ہوتا ہے جب وہ اپنی کارروائیوں کیلئے خواتین اور کم عمر بچیوں کو بھی ڈھال بناتے ہیں۔ بلوچ عوام کی محرومیوں کا نام لے کر ان بچیوں کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے والے عناصر دراصل انہی بلوچ روایات اور اقدار کی توہین کر رہے ہیں جن کا نام لے کر وہ اپنی دہشتگردی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے عناصر کیخلاف بلاامتیاز اور بھرپور کارروائیوں کی بلا تاخیر ضرورت ہے۔