عمارتیں پتھروں سے بنتی ہیں، مگر ریاستیں اعتماد، انصاف اور کردار سے تعمیر ہوتی ہیں۔پاکستان آج ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی متحرک سفارتکاری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دفاعی و تزویراتی بصیرت نے مایوسی کے دھندلکےمیں امید کے کئی چراغ روشن کیے ہیں۔ قیادت کی اصل آزمائش عالمی اجلاسوں کیساتھ اس وقت بھی ہوتی ہے جب کوئی مظلوم شہری انصاف کیلئے ریاست کی جانب دیکھ رہا ہو۔ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں نومولود بچوں کے وارڈ میں لگنے والی آگ نے 14معصوم زندگیاں چھین لیں۔ سوال یہ تھا کہ ریاست اس سانحے کے بعد خاموش رہتی ہے یا حرکت میں آتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے فوری تحقیقات کرائیں۔ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت آٹھ ذمہ دار افسروں اور اہلکاروں کو معطل کرکے انکے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کا حکم دیا گیا۔ ہر متاثرہ خاندان کیلئے 50لاکھ روپے کی امداد منظور ہوئی۔ یہ انسانی جان کی قیمت نہیں بلکہ غم زدہ والدین کیساتھ ریاست کے کھڑے ہونیکی علامت تھی۔ اسی آگ میں نرس رضیہ نورین اپنی جان کی پروا کیے بغیر وارڈ میں داخل ہوئیں اور ایک نومولود کو بچا لائیں۔ وزیراعظم نے انہیں ایک کروڑ روپے کا انعام دیا اور ستارۂ خدمت دینے کی منظوری دی۔ اندرون ملک جواب دہی کیساتھ عالمی سطح پر پاکستان کی دس کامیابیاں ایک بدلتی قومی تصویر پیش کرتی ہیں۔پہلی کامیابی:اکتوبر 2024ءمیں پاکستان نے اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کی میزبانی کی اور وزیر اعظم شہباز شریف نے صدارت کی۔ چین، روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان سمیت اہم ممالک کی شرکت نے اسلام آباد کو علاقائی سفارت کاری کا مرکز بنادیا۔اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، شاہراہوں، ریل، ڈیجیٹل رابطوں، مقامی کرنسیوں میں لین دین اور ایس سی او ترقیاتی فنڈ پر گفتگو ہوئی۔ سفارت کاری دراصل بند دروازوں پر دی جانیوالی وہ دستک ہے جسکی آواز بعد میں معیشت میں سنائی دیتی ہے۔ دوسری کامیابی: پاکستان182ووٹ حاصل کرکے 2025ء اور 2026ء کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا۔ عالمی سیاست میں ووٹ محض گنتی نہیں ہوتے، یہ اعتماد کی زبان ہوتے ہیں۔تیسری کامیابی: چین کے ساتھ سی پیک کا دوسرا مرحلہ اہم کامیابی ہے۔ اس منصوبے کا دائرہ سڑکوں اور توانائی سے آگے بڑھ کر زراعت، صنعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، برآمدات اور خصوصی اقتصادی زونز تک پھیل رہا ہے۔ چوتھی کامیابی: سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بھائی چارے سے آگے بڑھ کر اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہورہے ہیں۔ توانائی، معدنیات، زراعت، تعمیرات اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھا ہے۔ اس اعتماد سازی میں شہباز شریف کی سفارت کاری اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سعودی قیادت سے مضبوط تعلقات نمایاں ہیں۔پانچویں کامیابی:ترکیہ کیساتھ دفاع، تجارت، تعلیم، توانائی اور مواصلات سمیت مختلف شعبوں میں دو درجن سے زیادہ معاہدے ہوئے۔ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا۔ چھٹی کامیابی: متحدہ عرب امارات نے پاکستان میں دس ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی، جبکہ آذربائیجان کے ساتھ تقریباً دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوئے۔ سرمایہ ہمیشہ اعتماد کی سمت سفر کرتا ہے،ساتویں کامیابی:آئی ایم ایف سے تقریباً سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام کی منظوری ایک مشکل مگر ضروری پیشرفت تھی۔ قرض کسی قوم کی منزل نہیں ہوتا، لیکن کبھی سفر جاری رکھنےکیلئے ٹوٹا پل عبور کرنا پڑتا ہے۔ آٹھویں کامیابی:عالمی بینک کیساتھ دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک تعلیم، صحت، ماحول، روزگار اور انسانی ترقی کیلئے اہم ہے۔ حکومت کی اصل کامیابی صرف آج کا بجٹ سنبھالنا نہیں بلکہ آنیوالی نسل کیلئے اسکول، اسپتال اور روزگار کا راستہ بنانا ہے۔نویں کامیابی: لاہور کو 2026 ءاور 2027ء کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کا سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت منتخب کیا گیا۔ اقبال، فیض، منٹو، نورجہاں، لاہور قلعے اور بادشاہی مسجد کے شہر کو ملنے والا یہ اعزاز پاکستان کی تہذیبی طاقت کا عالمی اعتراف ہے۔ دسویں کامیابی: اگست 2026میں پاکستان اور کویت کے درمیان نیا دفاعی پروٹوکول طے پایا۔ اسکے تحت پاکستانی افواج تربیت، استعداد کار، سرحدی انتظام اور دیگر دفاعی شعبوں میں کویتی افواج سے تعاون کریں گی۔ یہ پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت پر دوست ممالک کے اعتماد کا ثبوت ہے۔ یہ کامیابیاں سرکاری فائل کے دس صفحات نہیں بلکہ بدلتے پاکستان کی دس روشن دلیلیں ہیں۔ تاہم اصل کامیابی تب ہوگی جب عالمی معاہدوں کے ثمرات عام پاکستانی کے گھر تک پہنچیں، اسپتال محفوظ ہوں، نوجوانوں کو روزگار ملے اور مظلوم کو انصاف کیلئے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے۔