چند دن پہلے میں اپنے ایک دوست سے ملنے گیا جو اندرونِ شہر کا باسی ہے۔ باسی اسلئے کہ اسکے درِ دولت تک پہنچتے پہنچتے میرا دم گھٹنے لگا۔ پھر کئی تاریک مقامات آئے۔ مجھے یوں محسوس ہوا، جیسے میں کسی سرنگ میں سے گزر رہا ہوں۔ یہاں پہنچ کر میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ مجھے اپنے ساتھ آکسیجن کے سلنڈر وغیرہ لانے چاہئیں تھے۔
بہرحال ایسے خیالات کے جملہ حقوق ہر ایرے غیرے کے پاس محفوظ ہیں۔ میں نے ان خیالات پر نظرِ ثانی کی اور انہیں ایک ایک کر کے دماغ کے کونے کھدروں سے کھُرچ ڈالا۔ اب ان کی جگہ خیالاتِ عالیہ کی آمدورفت شروع ہو گئی، یہی کہ میں آج تک مغل فرماں روائوں کی تاریخی عمارات ٹکٹیں لے لے کر دیکھا کرتا تھا۔ مجھے چپ چاپ یہاں آنا چاہیے تھا۔
میں نے یہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ اپنے گھروں کے تھڑوں پر بیٹھے ہیں۔ کوئی سری پائے کھا رہا ہے، کوئی مغز چاٹ رہا ہے۔ میں نےان لوگوں کے جسموں پر کپڑے وغیرہ تلاش کرنے شروع کیے مگر مجھے ان کے سر سے لے کر پیٹ تک سوائے بالوں کے اور کچھ نظر نہ آیا۔ ان کا سینہ اس بات کا گواہ تھا کہ اس میں رتی بھر کینہ نہیں۔ پیٹ کے نیچے انہوں نے جس قسم کے کپڑے کوستر پوشی کی زحمت دی تھی، وہ سراسر کنوارا تھا یعنی اسے درزی نے چھوا تک نہیں تھا۔
یہ کپڑا کھُلا تھا، اسلئے وہ اسے کئی ایک مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ وہ ناشتہ زدہ انگلیاں اسی کے ساتھ صاف کر رہے تھے۔ منہ بھی اسی کے ساتھ صاف کرتے تھے اور اپنی جیبوں سے پسینہ وغیرہ بھی پونچھ لیتے تھے۔ اس کپڑے کا رنگ ایسا تھا کہ وہ شوربے کے تمام نشانات اپنے اندر جذب کر رہا تھا۔
بہت سے آدمیوں کو میں نے اپنے گھروں کے باہر چار پائیوں پر سوتے بھی دیکھا۔ یہ آدمی نہ صرف سوئے ہوئے تھے بلکہ ادوائنوں میں سر دیے گہری نیند کا اظہار بھی خراٹوں کی صورت میں کر رہے تھے۔ یہ تمام مراحل طے کرنے کے بعد جب میں اپنے دوست کے گھر پہنچا تو دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔
پہلے تو میں نے نفاست سے دروازے پر دستک دی۔ میں نے سوچا کہ اگر اس قسم کی دستک میں شام تک بھی دیتا رہوں تو میں اس تاریخی دروازے کا کچھ نہیں بگاڑ سکوں گا؟ پھر میں نے دروازے پر مُکّے مارنے شروع کر دیے۔ان مُکّوں کا یہ فائدہ ہوا کہ ارد گرد کے گھروں سے کچھ لوگ باہر نکل آئے۔ ایک شخص نے مجھے لاہوری لہجے میں آواز دی۔ یہی آواز اگر کوئی مجھے لبِ سڑک دیتا تو شاید میرا فشارِ خون بلند ہو جاتا۔
تاہم اس آواز میں ہمدردی اور خلوص شامل تھا۔ آواز کے ذریعے مجھے پتا چلا کہ میرے پاس ایک اینٹ کا ٹکڑا پڑا ہے، یہ اسی دروازے کی مامتا جگانے کیلئے رکھا گیا ہے۔ جب میں نے اس خشت پارے کی مدد لی تو میرے دوست نے چھت سے اپنی سری نکالی۔ اس نے اشارے سے کہا کہ سیدھے اوپر چلے آئو۔ میں سیڑھیاں گنتا چھت پر چلا گیا۔
اس نے آناً فاناً میری تواضع کیلئے اندرونِ شہر کی خاص اشیائے خوردنی میرے سامنے لا رکھیں۔ یہ وہ اشیاء تھیں، جن کی آوازیں میں بچپن سے سنتا چلا آیا تھا۔ ان کا فائدہ یہ ہوا کہ کوئی بھی میرے معدے میں اپنا گھر نہ کر سکی۔ میں نے وہیں قے کی صورت میں اس کی ایک ایک امانت اسے واپس لوٹا دی۔ جب میں چھت پر کھڑا ہوا تھا مجھے سامنے والے گھر کا اندرونی منظر دکھائی دیا۔ وہ لوگ ناشتہ کر رہے تھے۔ ناشتے سے فارغ ہوئے تو وہ لوگ کپڑے تبدیل کرنے لگے۔ میں نے منہ پھیر لیا۔ میرے دوست نے کہا کہ یہاں ہم سب ایک گھرانے کی مانند رہتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے کھانے، پہننے اور باتھ روم جانے تک کے اوقات یاد ہیں۔ کسی کا کوئی مہمان آجائے تو اسے یہ بتا دیتے ہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے؟ بلکہ ہمیں تو ان کے تمام مہمانوں کے بارے میں بھی علم ہے۔ ہم ایک دوسرے سے اتنے باخبر ہیں کہ ایک دوسرے کے کپڑوں کی تعداد اور جرابوں بنیانوں کے ڈیزائن اور رنگ تک بتا سکتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ یہاں چور آ کر واپس نہیں جا سکتا۔ میں گھر آیا تو دیر تک ان بڑے بڑے بنگلوں کے بارے میں سوچتا رہا، جو ساتھ ساتھ ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے کتنے لاتعلق اور بے خبر ہوتے ہیں؟