• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

6 ستمبر مزاحمت کی داستان، 10 مئی صلاحیت کا اعلان!

6 ستمبر 1965ءکودنیاپر انکشاف ہوا کہ پاکستان کس شجاعت سے مزاحمت کرتا ہے جبکہ 10مئی 2025 ءکو دنیا کے تمام اندازے غلط ثابت کرتے ہوئے پاکستان نے دکھایا کہ وہ کیسے معرکے برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، 6 ستمبر کے شہدا کیلئے کروڑ وں دل آج بھی دعا گو ہیں جبکہ 10مئی کےجری فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت نے تو پوری امت مسلمہ کے دل جیت کر ثابت کردیا کہ پاکستان آرمی ہماری سرحدوں کی سچی محافظ ہے اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاکستان ائیر فورس دشمنوں کو فضا میں ہی ٹکڑے ٹکڑے کرنیکی صلاحیت رکھتی ہے، سچ تو یہ بھی ہے کہ اب کوئی بھی پاکستانی فوجی سربراہ یہ کہہ کربدنامی مول نہیں لے گاکہ بھارت سے جنگ لڑنے کیلئے ہمارے پاس تو ٹینکوں کیلئے پٹرول ہی نہیں ہے، فوجی قیادت کے شانہ بشانہ وزیر اعظم شہباز شریف سیاسی اور معاشی میدان میں ناممکنات کے حصول کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں، ماضی میں ہم اپنی سیاسی ومعاشی ناکامیوں کا ماتم کرتے رہے ہیںمگر معرکہ 10مئی نے ہماری تاریخ ہی بدل ڈالی ہے، اب دنیا جانتی ہے کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جسکے حالات کتنے بھی مخدوش ہوں یہ قومی دفاع اور وقار کیلئے کھڑے ہونے کا کمال حوصلہ رکھتی ہے، 10مئی صرف ایک جنگی واقعہ نہیں ، 10 مئی نے بھارت کو واضح پیغام دیا کہ طاقت کا گھمنڈ کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا،10مئی نے دنیا پر انکشاف کیا کہ پاکستان کو کمزور سمجھنے کے دن اب لد گئے، 10 مئی کو ایک چھوٹے سے ملک پاکستان نے وسیع دفاعی بجٹ اور مہنگے مغربی ہتھیاروں کی بنیاد پر کھڑے بھارت کی عسکری طاقت کے نشے کو اس طرح ہرن کیا جسکی مثال نہیں ملتی ، 10مئی کے بعد جنوبی ایشیا میں پاکستان اپنے پورے قد سے کھڑا ہے،10 مئی نے ایک ایسا شاندار موقع دیا ہے جسکے بعد اب پاکستان کو صرف فوجی کامیابی کا جشن مناتے رہنے کی بجائے مزید آگےبڑھنا ہوگا، پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیت کو صنعت میں، جنگی مہارت کو تحقیق میں، قومی جذبے کو قومی اتحاد میں اور وسائل کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنا ہوگا، اگر اب پاکستان JF-17، ڈرونز، تربیتی طیاروں، میزائل ٹیکنالوجی، فضائی دفاع اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیت کو منظم صنعتی پالیسی سے جوڑ دیتا ہے تو 10 مئی کی کامیابی صرف عسکری تاریخ کا باب نہیں رہے گی بلکہ قومی معیشت کیلئے ایک نئے شعبے کا آغاز بن سکتی ہے، اصل کامیابی تب ہوگی جب میدان جنگ میں حاصل ہونے والی ساکھ، پاکستان کی فیکٹریوں میں روزگار، برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی میں تبدیل ہوگی، اب پاکستانی قوم کو صلاحیت، سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت اور قومی اتحاد کیلئے بھرپورسرمایہ کاری کر کے دنیا کو یہ بھی دکھانا ہوگا کہ پاکستان صرف جنگ جیتنے والی قوم نہیں بلکہ تعمیر کرنے والی قوم بھی ہے۔ 6ستمبر 1965ءنے قوم کو سکھایا تھا کہ وطن کا دفاع ایمان کا حصہ ہے جبکہ 10مئی 2025 ءنے قوم کو بتایا کہ اکیسویں صدی میں وطن کے دفاع کیلئے صرف جذبہ کافی نہیں بلکہ جدید علم، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت بھی ضروری ہے،10 مئی 6 ستمبر کا متبادل نہیں بلکہ 6ستمبر کا تسلسل ہے،6 ستمبر نے دنیا کو بتایا تھا کہ پاکستان کبھی جھکے گا نہیں جبکہ 10مئی نے دنیا کو بتایا کہ ہم جواب دینا بھی جانتے ہیں، میں یہ سمجھتی ہوں کہ 10 مئی کے معرکے میں پاکستان کی سب سے بڑی فتح بھارتی طیاروں کو گرانا اور اہداف کو ہٹ کرنا نہ تھی بلکہ سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ پاکستان نے دشمن بھارت کے ذہن سے یہ وہم نکال باہر کیا کہ پاکستان ترنوالہ ہے اور بھارت جب چاہےاسے ملیا میٹ کر سکتا ہے ، آج بھارت پاکستان سے جتنا خوفزدہ ہے اس کا پورا زمانہ گواہ ہے،اب ہمیں وطن عزیز کو اس قدرمضبوط بنا نا ہے کہ دشمن ہم پر حملہ کرنے سے پہلے ایک بار نہیں ہزار بار سوچے، یہی ہماری اصل فتح ہوگی ،پاکستان زندہ باد۔

تازہ ترین