• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا اسرائیلی ایک بار پھر نیتن یاہو کو منتخب کریں گے؟

اسرائیلی ویزراعظم  نیتن یاہو---فائل فوٹو
اسرائیلی ویزراعظم  نیتن یاہو---فائل فوٹو 

اسرائیل میں 27 اکتوبر 2026ء کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں جنہیں وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی قیادت کے حوالے سے اہم ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں نیتن یاہو کا حکومتی اتحاد اپوزیشن کے مقابلے میں پیچھے دکھائی دے رہا ہے۔

ایک تازہ سروے میں اپوزیشن جماعتوں کو 57 نشستیں جبکہ نیتن یاہو کے بلاک کو 51 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے تاہم ایک دوسرے سروے میں دونوں دھڑوں کو 53، 53 نشستوں پر برابر دکھایا گیا ہے جس سے مقابلے کی سختی ظاہر ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والے رہنما ہیں، گزشتہ برسوں میں نیتن کی حکومت نے حماس کے ساتھ غزہ میں جنگ، حزب اللّٰہ کے ساتھ لبنان میں محاذ آرائی اور ایران کے ساتھ کشیدگی کو اپنی قومی سلامتی کی پالیسی کا مرکز بنایا لیکن انتخابات میں ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ صرف اپوزیشن نہیں بلکہ دائیں بازو کے اپنے اتحادیوں میں اختلافات بھی ہیں۔ 

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ چھوٹی جماعتوں کے الگ الگ الیکشن لڑنے سے ووٹ تقسیم ہونے کا خطرہ ہے جبکہ اسرائیل میں کسی جماعت کو پارلیمانی نمائندگی کے لیے کم از کم 3.25 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔

اس وقت نیتن یاہو کے دوبارہ وزیرِ اعظم بننے کا امکان ختم نہیں ہوا لیکن حالیہ پولز نیتن کو واضح پسندیدہ رہنما نہیں دکھا رہے۔ 

عرب میڈیا کے مطابق انتخابات کا اصل فیصلہ اس بات پر ہو گا کہ دائیں بازو کی جماعتیں اپنے ووٹ کو کس حد تک متحد رکھتی ہیں اور اپوزیشن 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کا انتظام کر پاتی ہے یا نہیں۔

عرب میڈیا کی خصوصی رپورٹ میں کیے گئے دعوے کے مطابق نیتن یاہو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا امکان موجود ہے مگر موجودہ سیاسی صورتِ حال میں انہیں سخت مقابلے کا سامنا ہے اور اپوزیشن اس وقت نسبتاً مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید