• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آسٹریا: اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

آسٹریا میں اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریا میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی 14 سال سے کم عمر بچیوں کے اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اس قانون کے تحت ملک بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں روایتی مسلم طرز کے سر ڈھانپنے والے لباس، جن میں حجاب اور برقع شامل ہیں، پہننے پر پابندی ہو گی۔

نئے قانون کے تحت اگر اساتذہ کسی طالبہ کو حجاب پہنے ہوئے دیکھیں گے تو انہیں پابندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے طالبہ اور اس کے قانونی سرپرستوں کے ساتھ کئی مراحل میں بات چیت کرنا ہو گی۔

خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں متعلقہ حکام کو بچوں کی بہبود سے متعلق خدمات کو مطلع کرنا ہو گا، جبکہ آخری اقدام کے طور پر سرپرستوں پر 800 یورو (685 پاؤنڈ) تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

قدامت پسند آسٹرین پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی وزیرِ انضمام کلاڈیا باؤر کا کہنا ہے کہ حجاب جبر کی علامت اور بچپن ہی سے بچیوں کو قابو میں رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ نیا قانون ملک میں مسلمانوں کے خلاف جذبات کو ہوا دے رہا ہے جو ممکنہ طور پر آئین سے متصادم ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ قانون تین معتدل جماعتوں پر مشتمل قدامت پسند قیادت والے اتحاد نے متعارف کرایا ہے، جس میں آسٹرین پیپلز پارٹی، سوشل ڈیموکریٹس اور لبرل جماعت نیوس شامل ہیں۔

ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون صنفی مساوات کے لیے واضح عزم کا اظہار ہے اور اس کا مقصد کم عمر بچیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید