• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’سرکیڈین ردھم‘‘ صحت مند زندگی کی قدرتی حیاتیاتی تال

انسانی جسم ایک حیرت انگیز حیاتیاتی نظام ہے، جس کا ہر عضو، ہر خلیہ اور ہر ہارمون ایک منظم ترتیب اور مقررہ وقت کے مطابق اپنے امور سر انجام دیتا ہے۔ یہ نظام کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ قدرت کی عطا کردہ ایک ایسی خاموش اندرونی گھڑی کا مرہونِ منّت ہے، جسے جدید سائنس سرکیڈین ردھم (Circadian Rhythm) یا ’’حیاتیاتی تال‘‘ کا نام دیتی ہے۔

یہی گھڑی طے کرتی ہے کہ انسان کب بے دار ہوگا، کب نیند محسوس کرے گا، کب ذہنی طور پر زیادہ متحرک ہوگا، کب خوراک بہتر ہضم ہوگی اورکب جسم اپنے خلیات کی مرمت اور قوتِ مدافعت مضبوط بنانے کے عمل میں مصروف ہوگا۔ اگر یہ حیاتیاتی تال متوازن رہے تو انسان جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر بہتر زندگی گزارتا ہے، لیکن اس میں معمولی سی بے ترتیبی بھی صحت پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

گزشتہ چند دہائیوں میں انسانی طرزِ زندگی میں غیر معمولی تبدیلیاں آئی ہیں۔ مصنوعی روشنی، اسمارٹ فون، کمپیوٹر، سوشل میڈیا، چوبیس گھنٹے جاری رہنے والی معاشی سرگرمیاں، نائٹ شفٹس اور بے ترتیب معمولات نے دن اور رات کے قدرتی فرق کو دھندلا دیا ہے۔ آج لاکھوں لوگ رات گئے تک جاگتے ، صُبح دیر سے اٹھتے ہیں، بے وقت کھانا کھاتے ہیں، سورج کی روشنی سے کم استفادہ کرتے ہیں اور زیادہ تر وقت بند کمروں یا اسکرینز کے سامنے گزارتے ہیں۔

بظاہر یہ جدید زندگی کی معمول کی عادات محسوس ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں یہی عوامل جسم کی حیاتیاتی گھڑی کو آہستہ آہستہ بے ترتیب کر دیتے ہیں۔ جدید طبی تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ سرکیڈین ردھم کی خرابی صرف بے خوابی یا تھکن کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ موٹاپے، ذیابطیس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں، ذہنی دباؤ، ڈیپریشن، یادداشت کی کمزوری، ہارمونل بے ترتیبی اور قوتِ مدافعت میں کمی سمیت متعدد غیر متعدی بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔

اسی لیے عالمی ادارۂ صحت اور دنیا کے ممتاز طبی و تحقیقی مراکز نیند اور حیاتیاتی گھڑی کو صحتِ عامہ کے بنیادی موضوعات میں شامل کر رہے ہیں۔ جب کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ مسئلہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ نوجوانوں میں اسکرین ٹائم کا غیر معمولی اضافہ، امتحانات اور کوچنگ کا دباؤ، 

غیر منظم دفتری اوقات، رات گئے سماجی تقریبات اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی ایک ایسے طرزِ زندگی کو فروغ دے رہے ہیں، جو فطرت کے اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔ اس کے نتیجے میں جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ذہنی اور سماجی مسائل بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور یہ صورتِ حال صرف انفرادی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا ’’پبلک ہیلتھ چیلنج‘‘ ہے، جس کے اثرات خاندان، تعلیم، معیشت اور قومی پیداوار تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

سرکیڈین ردھم کیا ہے؟

اس سے مراد انسانی جسم کی وہ قدرتی حیاتیاتی گھڑی ہے جو تقریباً چوبیس گھنٹوں کے دن اور رات کے چکر کے مطابق جسم کے مختلف افعال منظّم کرتی ہے۔ لفظ ’’سرکیڈین‘‘ لاطینی زبان کے دو الفاظـ" ـ"Circa یعنی ’’تقریباً‘‘ اور "Diem" یعنی ’’دن ‘‘سے ماخود ہے ،جس کا مفہوم ’’تقریباً ایک دن پر مشتمل حیاتیاتی چکر ‘‘ہے۔ یہ نظام صرف نیند اور بے داری تک محدود نہیں بلکہ جسم کے تقریباً ہر عضو اور ہر خلیے کی کارکردگی متاثر کرتا ہے۔

سرکیڈین ردھم دل کی دھڑکن، جسمانی درجۂ حرارت، بلڈ پریشر، ہارمونز کے اخراج، نظامِ ہاضمہ، میٹابولزم، انسولین کی کارکردگی، دماغی توجّہ، یادداشت، جذباتی توازن اور قوتِ مدافعت جیسے اہم افعال کو مناسب وقت کے مطابق منظّم رکھتا ہے۔ جب یہ حیاتیاتی تال فطری انداز میں چلتی رہتی ہے تو جسم کے تمام نظام باہم ہم آہنگ رہتے ہیں، لیکن جب انسان مسلسل راتیں جاگتا، بے وقت کھانا کھاتا یا دن اور رات کی قدرتی ترتیب کو نظر انداز کرتا ہے تو یہی تال بگڑنے لگتی ہے اور مختلف جسمانی و ذہنی مسائل جنم لیتے ہیں۔

یہ نظام صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ تقریباً تمام جان داروں میں موجود ہے۔ پرندوں کا طلوعِ آفتاب کے ساتھ متحرک ہونا، بعض جانوروں کا رات کو شکار کے لیے نکلنا، درختوں اور پودوں کا روشنی اور اندھیرے کے مطابق اپنی سرگرمیاں تبدیل کرنا اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ سرکیڈین ردھم دراصل فطرت کا ایک عالم گیر اصول ہے، جس پر زندگی کی ترتیب قائم ہے۔

جسم کی اندرونی گھڑی کیسے کام کرتی ہے؟

انسانی جسم میں سرکیڈین ردھم کا مرکزی کنٹرول دماغ کے ایک نہایت چھوٹے، مگر انتہائی اہم حصے، سپراکیازمیٹک نیوکلیئس (Suprachiasmatic Nucleus - SCN)، کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ یہ مرکز دماغ کے ہائپوتھیلمس میں واقع ہے اور تقریباً بیس ہزار عصبی خلیات پر مشتمل ہے۔ یہی حصہ جسم کی ’’ماسٹر کلاک ‘‘یا مرکزی حیاتیاتی گھڑی کے طور پر کام کرتا ہے۔ آنکھوں کے پردے (ریٹینا) میں موجود مخصوص روشنی محسوس کرنے والے خلیات سورج کی روشنی کو پہچان کر اس کی معلومات براہِ راست اس مرکز تک پہنچاتے ہیں۔

صبح کی روشنی دماغ کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اب بےداری، سرگرمی اور توانائی کا وقت ہے، جب کہ شام کا اندھیرا جسم کو آرام، مرمت اور نیند کی تیاری کا اشارہ دیتا ہے۔ دماغ کی یہ مرکزی گھڑی اکیلے کام نہیں کرتی بلکہ اعصابی اور ہارمونل نظام کے ذریعے پورے جسم کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتی ہے۔

جگر، دل، گردے، پھیپھڑے، لبلبہ، معدہ، آنتیں، عضلات اور یہاں تک کہ جلد کے خلیات میں بھی اپنی اپنی حیاتیاتی گھڑیاں موجود ہوتی ہیں، لیکن ان سب کی رفتار دماغ کی مرکزی گھڑی کے مطابق چلتی ہے۔ جب یہ تمام گھڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ رہتی ہیں تو جسم کے تمام افعال منظّم انداز میں انجام پاتے ہیں، لیکن اگر یہ ہم آہنگی متاثر ہو جائے تو مختلف جسمانی نظام بھی بے ترتیب ہونے لگتے ہیں۔

سرکیڈین ردھم کا سب سے نمایاں اثر ہارمونز کی پیداوار پر پڑتا ہے۔ صبح کے وقت ’’کورٹیسول‘‘ کی مقدار قدرتی طور پر بڑھ جاتی ہے، جو جسم کو توانائی فراہم کرتی، بلڈ پریشر کو معمول پر لاتی اور دماغ کو بے داری کے لیے تیار کرتی ہے۔ اس کے برعکس شام ڈھلتے ہی دماغ ’’میلٹونن‘‘ خارج کرنا شروع کرتا ہے، جو جسم کو نیند کے لیے تیار کرتا ہے۔

اگر اس وقت انسان مسلسل موبائل فون، کمپیوٹر یا ٹیلی ویژن کی نیلی روشنی میں مصروف رہے تو دماغ میلٹونن کا اخراج کم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں نیند تاخیر کا شکار ہوتی ہے اور حیاتیاتی گھڑی کی قدرتی ترتیب متاثر ہونے لگتی ہے۔ اسی حیاتیاتی تال کے مطابق جسم کا درجۂ حرارت، بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن بھی دن اور رات میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

دن کے اوقات میں جسم نسبتاً زیادہ متحرک ہوتا ہے، جب کہ رات کے وقت جسمانی درجہ ٔحرارت کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، تاکہ گہری اور پُرسکون نیند ممکن ہو سکے۔ اسی دوران جسم خلیات کی مرمت، بافتوں کی بحالی اور توانائی کے ذخائر کی تنظیم جیسے اہم کام انجام دیتا ہے، جو صحت مند زندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔

نظامِ ہاضمہ بھی اسی قدرتی گھڑی کا پابند ہے۔ دن کے وقت معدہ اور آنتیں خوراک کو زیادہ مؤثر انداز میں ہضم کرتی ہیں، انسولین بہتر کارکردگی دکھاتی ہے اور جسم غذائی اجزاء کو مناسب طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ اس کے برعکس رات گئے، بھاری غذا کھانے سے ہاضمہ سُست پڑ جاتا ہے، خون میں شوگر کا توازن متاثر ہوتا ہے اور اضافی توانائی چربی کی صورت جسم میں جمع ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے وقت کھانا اور مسلسل رات دیر تک جاگنا موٹاپے اور ذیابطیس کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔

صحت، دماغ، ہارمونز اور میٹابولزم پر اثرات

سرکیڈین ردھم صرف نیند کے اوقات کا تعین نہیں کرتا بلکہ انسانی صحت کا تقریباً ہر نظام متاثر کرتا ہے۔ جب حیاتیاتی گھڑی متوازن انداز میں کام کرتی ہے تو دماغی کارکردگی، یادداشت، جذباتی استحکام، ہارمونز کا توازن، نظامِ ہاضمہ، میٹابولزم اور قوتِ مدافعت اپنی بہترین حالت میں رہتے ہیں۔ لیکن اس قدرتی تال میں معمولی سی خرابی بھی آہستہ آہستہ متعدد جسمانی اور ذہنی مسائل جنم دے سکتی ہے۔

نیند کے دوران دماغ صرف آرام نہیں کرتا بلکہ نہایت اہم حیاتیاتی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔ پورے دن میں حاصل ہونے والی معلومات کو منظم کر کے یادداشت کا حصہ بنایا جاتا ہے، غیر ضروری معلومات کو الگ کیا جاتا ہے اور اعصابی خلیات کی مرمت ہوتی ہے۔ اسی دوران جسم ’’گروتھ ہارمون‘‘ خارج کرتا ہے، جو بچوں کی نشوونما، بالغ افراد میں پٹھوں کی بحالی اور بافتوں کی مرمت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اسی طرح قوتِ مدافعت بھی نیند کے دوران زیادہ مؤثر انداز میں کام کرتی ہے، جس سے جسم بیماریوں کے خلاف بہتر مزاحمت پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلسل کم یا بے ترتیب نیند رکھنے والے افراد میں انفیکشن، تھکن اور بیماریوں کا خطرہ نسبتاً زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

دماغی صحت کا بھی اس سے گہرا تعلق ہے۔ مناسب نیند اور منظّم معمولات توجہ، سیکھنے کی صلاحیت، تخلیقی سوچ اور درست فیصلہ سازی کو بہتر بناتے ہیں، جب کہ بے ترتیب نیند چڑچڑاپن، بے چینی، ذہنی دباؤ، یادداشت کی کم زوری اور ڈیپریشن جیسے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہوتے ہیں ،کیوں کہ ان کا دماغ مسلسل نشوونما کے مرحلے سے گزر رہا ہوتا ہے۔

اسی طرح جسم کا میٹابولزم بھی حیاتیاتی گھڑی کے مطابق کام کرتا ہے۔ دن کے وقت انسولین بہتر کارکردگی دکھاتی ہے اور خوراک مؤثر انداز میں توانائی میں تبدیل ہوتی ہے، لیکن رات گئے کھانے سے یہی نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً وزن میں اضافہ، انسولین کے خلاف مزاحمت، پری ذیابطیس اور ذیابطیس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید طبّی تحقیق صرف ’’کیا کھائیں‘‘ پر نہیں بلکہ ’’کب کھائیں‘‘ پر بھی یک ساں زور دیتی ہے۔

تمام سائنسی شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ سرکیڈین ردھم محض نیند کا نظام نہیں بلکہ انسانی صحت کی بنیاد ہے۔ جب انسان فطرت کے مطابق سوتا، جاگتا، کھاتا اور کام کرتا ہے تو جسم کے تمام نظام ایک دوسرے کے ساتھ بہترین ہم آہنگی میں رہتے ہیں اور یہی ہم آہنگی بہتر صحت، زیادہ توانائی اور طویل، فعال زندگی کی ضمانت بنتی ہے۔

’’ڈیجیٹل دور‘‘: بچے، نوجوان اور بگڑتی ہوئی حیاتیاتی تال

جدید ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایک ایسا خاموش مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے، جس پر اب دنیا بھر کے ماہرینِ صحت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسمارٹ فون، ٹیبلیٹ، کمپیوٹر، سوشل میڈیا، آن لائن گیمنگ اور ویڈیو اسٹریمنگ نے لوگوں کے روزمرہ معمولات کو اس حد تک بدل دیا ہے کہ دن اور رات کی قدرتی حدیں دھندلا گئی ہیں۔

آج لاکھوں افراد، خصوصاً بچے اور نوجوان، رات گئے تک اسکرینزکے سامنے وقت گزارتے ہیں، جس کے باعث ان کی حیاتیاتی گھڑی مسلسل دباؤ کا شکار رہتی ہے۔اسمارٹ فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے خارج ہونے والی نیلی روشنی دماغ کو یہ تاثر دیتی ہے کہ ابھی دن باقی ہے۔

نتیجتاً میلٹونن، جو نیند پیدا کرنے والا اہم ہارمون ہے، مناسب مقدار میں خارج نہیں ہو پاتا۔ انسان بستر پر تو چلا جاتا ہے، لیکن نیند دیر سے آتی ہے، بار بار آنکھ کھلتی ہے اور گہری نیند کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے۔ جب یہی صورت ِحال روزانہ دہرائی جائے تو سرکیڈین ردھم اپنی قدرتی ترتیب کھونے لگتا ہے اور اس کے اثرات پورے جسم پر ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں بچوں اور نوجوانوں کی روزمرہ زندگی بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ اسکول اور کالج کے بعد کوچنگ، اسائنمنیٹس، امتحانات کی تیاری اور باقی وقت سوشل میڈیا یا آن لائن تفریح میں گزرنے لگا ہے۔ کھلی فضا میں کھیل کود، جسمانی سرگرمی، صبح کی دھوپ سے استفادے اور خاندان کے ساتھ معیاری وقت گزارنے جیسی صحت مند عادات کم ہوتی جا رہی ہیں۔

اس طرزِ زندگی کا نتیجہ صرف نیند کی کمی نہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی صحت کی مجموعی خرابی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ ناکافی یا بے ترتیب نیند رکھنے والے بچّوں میں توجہ کی کمی، سیکھنے کی رفتار میں کمی، تعلیمی کارکردگی میں گراوٹ، یادداشت کی کم زوری، جذباتی عدم توازن اور چڑچڑاپن زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

ایسے بچوں میں موٹاپے، پری ذیابیطس اور جسمانی کمزوری کا خطرہ بھی نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ نوجوانوں میں مسلسل رات گئے جاگنے کی عادت اضطراب، ڈیپریشن، سماجی تنہائی اور نشہ آور اشیاء کے استعمال جیسے رویوں کے خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ ’’سوشل جیٹ لیگ‘‘ (Social Jet Lag) ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہفتے کے دنوں میں تعلیمی یا پیشہ ورانہ مجبوری کے باعث صبح جلدی اٹھنا پڑتا ہے، جب کہ تعطیلات میں لوگ رات دیر تک جاگتے اور دوپہر تک سوتے رہتے ہیں۔ اس بدلتے ہوئے شیڈول سے جسم کی حیاتیاتی گھڑی الجھن کا شکار رہتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے کوئی شخص بار بار مختلف ٹائم زون میں سفر کر رہا ہو۔

اس کے نتیجے میں تھکن، توجہ کی کمی، ذہنی دباؤ اور جسمانی کارکردگی میں کمی آسکتی ہے اور یہ مسئلہ صرف انفرادی عادات تک محدود نہیں بلکہ ایک اہم پبلک ہیلتھ چیلنج بن چکا ہے۔اس ضمن میں والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، میڈیا اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ بچوں اور نوجوانوں میں متوازن طرزِ زندگی، مناسب نیند، محدود اسکرین ٹائم اور جسمانی سرگرمیوں کی اہمیت کو فروغ دیں۔

اگر ابتدائی عمر ہی سے حیاتیاتی گھڑی کے مطابق زندگی گزاری جائے تو نہ صرف تعلیمی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ مستقبل میں متعدد غیر متعدی بیماریوں کے خطرات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔

بعض سائنسی مطالعات سے یہ اشارہ بھی ملا ہے کہ طویل عرصے تک حیاتیاتی گھڑی کی شدید خرابی بعض اقسام کے سرطان کے خطرے میں بھی اضافہ کر سکتی ہے، اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق جاری ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ سرکیڈین ردھم کو بڑی حد تک دوبارہ متوازن کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے منہگےعلاج سے زیادہ صحت مند روزمرہ معمولات اپنانے کی ضرورت ہے۔

روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا، صبح سورج کی قدرتی روشنی میں کچھ وقت گزارنا، رات کو سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل اور دیگر اسکرینز کا استعمال محدود کرنا، رات کا کھانا جلد اور ہلکا کھانا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اختیار کرنا، کیفین والے مشروبات خصوصاً شام کے بعد کم استعمال کرنا اور سونے کے کمرے کو تاریک، پرسکون اور آرام دہ رکھنا حیاتیاتی گھڑی کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔

نیز، اس حوالے سے بچّوں اور نوجوانوں کے معاملے میں والدین کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ اگر گھر میں کھانے، سونے، جاگنے اور اسکرین استعمال کرنے کے اوقات منظّم ہوں، تو بچے بھی انہی صحت مند عادات کو اپناتے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں نیند، ذہنی صحت اور ڈیجیٹل توازن سے متعلق آگاہی کو نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جانا چاہیے، تاکہ آنے والی نسل فطرت سے ہم آہنگ اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر سکے۔

اسلامی تعلیمات اور سرکیڈین ردھم: فطرت سے ہم آہنگ طرزِ زندگی

اسلام نے پندرہ صدیاں قبل انسان کو ایسا متوازن طرزِ زندگی عطا کیا، جس کی افادیت آج جدید سائنسی تحقیق بھی تسلیم کر رہی ہے۔ اس کے مطابق صبح کے وقت قدرتی سورج کی روشنی دماغ کی حیاتیاتی گھڑی فعال کرتی ہے، جسم میں توانائی پیدا کرنے والے ہارمونز کو متوازن بناتی ہے اور ذہنی بے داری میں اضافہ کرتی ہے، جب کہ رات کا اندھیرا میلٹونن کا اخراج بڑھا کر پُرسکون اور گہری نیند میں مدد دیتا ہے۔

یہی وہ فطری نظام ہے ،جس کی طرف اسلامی تعلیمات انسان کی رہنمائی کرتی ہیں۔ فجر کے وقت بے درای، صبح کی تازہ ہوا سے استفادہ، دن بھر اعتدال کے ساتھ کام اور رات کو مناسب آرام نہ صرف روحانی سکون کے ذرایعے ہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بھی بے حد مفید ثابت ہوتے ہیں۔ اس طرح اسلامی طرزِ زندگی اور جدید سائنسی حقائق ایک ہی بنیادی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فطرت کے مطابق منظّم زندگی ہی صحت مند زندگی کی بنیاد ہے۔

پبلک ہیلتھ کے تناظر میں ہماری ذمّے داری

سرکیڈین ردھم کی حفاظت صرف ایک فرد کا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ یہ صحتِ عامہ سے وابستہ ایک اہم قومی ذمّے داری بھی ہے۔ دنیا بھر میں غیر متعّدی بیماریوں، ذہنی صحت کے مسائل، موٹاپے اور ذیابطیس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور ان میں سے متعدد مسائل کا تعلق غیر صحت مند طرزِ زندگی اور حیاتیاتی گھڑی کی خرابی سے جوڑا جا رہا ہے۔

ایسے حالات میں صرف اسپتالوں، ادویات اور علاج پر انحصار کافی نہیں، بلکہ بیماریوں کی روک تھام پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچّوں کے سونے، جاگنے، کھانے اور اسکرین استعمال کرنے کے باقاعدہ اوقات مقرر کریں۔ تعلیمی اداروں کو نیند، جسمانی سرگرمی، ذہنی صحت اور ڈیجیٹل توازن کے موضوعات کو صحت کی تعلیم کا حصّہ بنانا چاہیے، جب کہ میڈیا کو بھی صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

اسی طرح صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو چاہیے کہ وہ مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کی روزمرہ عادات، نیند کے معیار اور حیاتیاتی گھڑی سے متعلق بھی رہنمائی فراہم کریں۔ اگر ہم بچپن ہی سے متوازن معمولات کو فروغ دیں گےتو آئندہ نسلوں کو متعدد دائمی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں نمایاں کام یابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

مختصراً یہ کہ سرکیڈین ردھم دراصل انسانی زندگی کی وہ خاموش حیاتیاتی تال ہے، جو ہماری صحت، توانائی، ذہنی صلاحیت، جذباتی توازن اور جسمانی افعال ایک منظم ترتیب میں رکھتی ہے۔ جب انسان فطرت کے مطابق سوتا، جاگتا، کھاتا اور کام کرتا ہے تو جسم کے تمام نظام بہترین ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں، لیکن جب ہم رات کو دن اور دن کو رات بنا دیتے ہیں، بے وقت کھانا کھاتے، مسلسل مصنوعی روشنی میں رہتے اور آرام کو نظر انداز کرتے ہیں تو یہی قدرتی ہم آہنگی متاثر ہونے لگتی ہے اور بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں سرکیڈین ردھم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جدید طب، پبلک ہیلتھ اور سائنسی تحقیق سب اس بات پر متفق ہیں کہ صحت مند زندگی صرف اچھی غذا، ورزش اور ادویہ ہی سے ممکن نہیں بلکہ مناسب نیند، قدرتی روشنی، منظّم معمولات اور جسم کی حیاتیاتی گھڑی کے احترام سے بھی وابستہ ہے۔

اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی کو فطرت کے اصولوں سے ہم آہنگ کر لیں، اپنے بچّوں اور نوجوانوں میں صحت مند عادات کو فروغ دیں اور معاشرے میں اس حوالے سے شعور بے دارکریں تو نہ صرف متعدد بیماریوں کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ ایک زیادہ صحت مند، فعال اور متوازن معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جا سکے گی۔ یہی سرکیڈین ردھم کا اصل پیغام اور صحت مند ، پُرسکون زندگی کی حقیقی راہ بھی ہے۔

(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت سندھ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید