• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ جنگ 1 سال پہلے ختم ہو سکتی تھی، یرغمالیوں کو بھی زندہ واپس لایا جا سکتا تھا: سابق اسرائیلی جنرل

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

سابق اسرائیلی میجر جنرل نیتزان الون نے کہا ہے کہ غزہ جنگ اور یرغمالیوں کی واپسی کا معاہدہ بہت پہلے طے ہو سکتا تھا، جنگ غیر ضروری طور پر طویل کی گئی۔

واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے ایک آن لائن مباحثے میں گفتگو کرتے ہوئے نیتزان الون نے کہا کہ اسرائیل تمام یرغمالیوں کی واپسی کا معاہدہ تقریباً 1 سال پہلے کر سکتا تھا، اس کے لیے جنگ کے دیگر بڑے تزویراتی اہداف پر کوئی بڑا اثر پڑنا ضروری نہیں تھا۔

سابق جنرل کے مطابق جنگ بہت طویل ہو گئی اور اسرائیل نے موقع گنوا دیا، اگر جنگ پہلے ختم ہو جاتی تو ممکن ہے وہ یرغمالی بھی زندہ واپس آ جاتے جو دورانِ حراست مارے گئے۔

نیتزان الون نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اس مؤقف کو بھی غلط قرار دیا کہ معاہدے سے قبل اسرائیل کو ’مکمل فتح‘ حاصل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے اکتوبر 2025ء میں ہونے والی جنگ بندی کو ایک تزویراتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں حماس کی عسکری طاقت کم ہوئی، یہ معاہدہ بہت پہلے بھی حاصل کیا جا سکتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ جنگ ایک سال پہلے ختم کر کے تمام یرغمالیوں کو واپس لایا جا سکتا تھا اور دونوں جانب ہزاروں جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

سابق اسرائیلی سفارت کار ایلن پنکس نے بھی کہا کہ حماس کے حملے کے فوراً بعد جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ممکن تھا مگر تقریباً 2 سال گزر گئے اور یرغمالیوں کی واپسی میں تاخیر ہوئی جو صرف ایک ضائع شدہ موقع نہیں بلکہ ایک المیہ ہے۔

اس سے قبل قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے بھی رواں ہفتے کہا تھا کہ حماس نے حملوں کے فوراً بعد تمام یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے محدود جنگ بندی کی تجویز دی تھی، اسرائیلی حکام نے اس تجویز پر بات چیت میں دلچسپی نہیں دکھائی۔

نیتزان الون کے یہ بیانات اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے 1 ماہ سے بھی کم عرصہ قبل سامنے آئے ہیں۔

ایلن پنکس کے مطابق ان بیانات سے انتخابی نتائج پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان کم ہے کیونکہ رائے عامہ کے جائزوں میں پہلے ہی نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف عوامی غصہ ظاہر ہو رہا ہے۔

ادھر اسرائیلی اخبار کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے 7 اکتوبر کے حملے سے قبل نیتن یاہو کو ممکنہ حملے سے خبردار کیا تھا۔

دوسری جانب نیتن یاہو نے اس رپورٹ کو من گھڑت اور غلط قرار دیتے ہوئے اخبار کے خلاف مقدمہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید