معروف بھارتی گلوکار، لائیو پرفارمر اور کمپوزر کیلاش کھیر کا کہنا ہے کہ گفتگو میں محتاط روی، نرمی اور شائستگی کے ساتھ تہذیب کے دائرے میں رہنا چاہیے۔
میرٹھ سے تعلق رکھنے والے 53 سالہ گلوکار نے یہ تبصرہ کامیڈی شو انڈیاز گاٹ لیٹنٹ میں بہار اور کشمیر سے متعلق کیے گئے مذاق پر ہونے والی تنقید کے تناظر میں کیا۔
کیلاش کھیر کا یہ تبصرہ کامیڈین سمے رائنا اور کامیڈین شارون ورما کے درمیان انڈیاز گاٹ لیٹنٹ کے سیزن 2 میں ہونے والی ایک گفتگو پر تنقید کے دوران سامنے آیا ہے۔ اس معاملے نے سیاسی توجہ بھی حاصل کی ہے کیونکہ اس میں بہار اور کشمیر سے متعلق مذاق کیے گئے تھے۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو کے دوران کیلاش کھیر نے کشمیری پنڈتوں اور بہاریوں سے متعلق بیانات اور شناخت کا مذاق اڑانے پر سوشل میڈیا پر اسٹینڈ اَپ کامیڈی پر جاری بحث کے حوالے سے کہا اگر میں آپ کو موسیقی کے حوالے سے سمجھاؤں تو موسیقی صرف ایک دھن نہیں ہے، بلکہ یہ ایسی چیز بھی ہے جو آپ کو ہنسا سکتی ہے اور یہ ایک نظم و ضبط کی شکل بھی ہے، اس لیے آپ کو موسیقی کے دائرے میں رہنا چاہیے۔
شارون ورما جو پہلے سیزن کی سابق امیدوار بھی رہ چکی ہیں، سمے رائنا، اوری، ارچنا پورن سنگھ اور نشنٹ سوری کے ساتھ پینل میں شامل ہوئی تھیں۔ قسط کے دوران رائنا نے ورما کے بہاری پس منظر اور روزگار کے لیے نقل مکانی سے متعلق عام تصورات کو بنیاد بنا کر ایک مذاق کیا۔ اس کے جواب میں ورما نے رائنا کی کشمیری شناخت اور پتھراؤ سے متعلق جملہ کسا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کم از کم اپنی ریاست اپنی مرضی سے چھوڑی ہے۔
انتہا پسند جماعت شیوسینا کے رہنما آنند دوبے نے سمے رائنا کی کامیڈی پر تنقید کی اور کہا کہ انھین کامیڈی میں ذات، ریاستوں یا مذاہب کو شامل کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
سمے رائنا اور شارون ورما نے ابھی تک اپنی گفتگو پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔