• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

”مکہ دفاعی معاہدہ“ جس کو استنبول اجلاس کے بعد ”مکہ دفاعی اتحاد“ کا باقاعدہ نام دیا گیا ہے اگر اسے پاکستان کے پس منظر اوروسیع تر تناظر میں دیکھاجائے تو اس کے مثبت اثرات بلوچستان پر پڑسکتے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے حساس جغرافیائی اور معاشی خطہ ہے۔ یہاں امن اور ترقی ایک دوسرے سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ اگر پاکستان کی مجموعی سکیورٹی بہتر ہوتی ہے، افغانستان کیساتھ یو اے ای سے تعلقات میں بہتری آتی ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتاہے تو بلوچستان میں ترقی کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔گوادر اس پورے منظرنامے کا مرکزی نقطہ بن سکتا ہے۔گوادر کو صرف ایک بندرگاہ کے طور پر دیکھنا بڑی غلطی ہوگی۔ گوادر خلیج، عرب سمندر، چین، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک اہم تجارتی پُل بن سکتا ہے۔ لیکن اس کیلئے سب سے پہلے امن ضروری ہے۔ اگر مکہ دفاعی اتحاد ایک وسیع علاقائی سکیورٹی نظام میں تبدیل ہوتا ہے تو گوادر کی تجارتی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسکے نتیجے میں بلوچستان میں سرمایہ کاری، روزگار، تجارت اور صنعتی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مقامی آبادی کو ترقی کے عمل میں حقیقی شراکت دار بنایا جائے۔ گوادر بندرگاہ کی ترقی اس وقت تک مکمل کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک اس کے اردگرد رہنے والے لوگوں کو روزگار، تعلیم، صحت اور کاروبار کے مواقع نہ ملیں۔ مکہ دفاعی اتحاد میں مستقبل میں دیگر مسلم ممالک کی شمولیت کے امکانات واضح ہیں۔مصر،قطر، بحرین، کویت اوراب بنگلہ دیش اس نظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اگر خلیج کے دیگر ممالک بھی اس سکیورٹی فریم ورک میں شامل ہوجاتے ہیں تو یہ ایک طاقت ور علاقائی اتحاد بن جائیگا۔ اگر اسے امن، دفاع، خودمختاری، دہشت گردی کے خاتمے، سمندری راستوں کی حفاظت اور علاقائی استحکام کے اصولوں پر قائم رکھا جائے تو اسکی عالمی قبولیت بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔یہی مکہ دفاعی اتحاد کی اصل طاقت ہوسکتی ہے۔دنیا کو آج ایک اور جنگی اتحاد کی نہیں بلکہ ایسے سکیورٹی نظام کی ضرورت ہے جو جنگ کو روک سکے۔ مسلم دنیا نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جنگوں، خانہ جنگیوں، دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم ممالک اپنی اجتماعی طاقت کو جنگ کیلئے نہیں جنگ روکنے کیلئے استعمال کریں۔پاکستان کیلئے یہ موقع غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اسلام آباد دانش مندی سے کام لے تو وہ صرف ایک دفاعی اتحاد کا بانی رکن نہیں بلکہ ایک نئے علاقائی امن کے نظام کا مرکزی کردار بن سکتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کیلئے بھی اصل چیلنج اب شروع ہوا ہے۔ معاہدے پر دستخط کرنا ایک مرحلہ تھا، اسے کامیاب اور مو ثر بنانا اصل امتحان ہے۔ اس کیلئے مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، انٹیلی جنس تعاون، انسداد دہشت گردی کے اقدامات، سائبر سکیورٹی، سمندری نگرانی، فضائی دفاع اور مسلسل سفارتی رابطے ضروری ہونگے۔ اگر اس معاہدے کو مرحلہ وار آگے بڑھایا گیا، دیگر مسلم ممالک کو شامل کیا گیا، ایران کے خدشات دور کیے گئے، افغانستان کے ساتھ امن کیلئےسعودی عرب اور ترکیہ کو استعمال کیا گیا، خلیجی ممالک کو اعتماد میں لیا گیا اور امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ اس اتحاد کا مقصد جارحیت نہیں علاقائی امن ہے تو مکہ دفاعی اتحاد اکیسویں صدی میں عالم اسلام کی سب سے اہم تزویراتی پیش رفت ہوگی۔ شرط صرف ایک ہے کہ اسے جذباتی نعروں کے بجائے دوراندیش سفارت کاری کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اگر اپنی مشترکہ طاقت کو اسی مقصد کیلئے استعمال کرتے ہیں تو مکہ سے اٹھنے والا یہ دفاعی پیغام ایک دن امن کے عالمی پیغام میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ اور شاید اس معاہدے کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوگی۔مکہ دفاعی اتحاد اس سوچ کو عملی حقیقت بنا دیتا ہے تو اس کے اثرات پوری مسلم دنیا کے سیاسی اور دفاعی نقشے پردیر تک محسوس کئے جائینگے۔ مکہ مکرمہ میں 7اگست 2026ء کو تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد اب اس اتحاد نے محض ایک سیاسی اعلان سے عملی تعاون کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ 31اگست کو ترکیہ کے شہر استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹرٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ تینوں ممالک نے اب اس معاہدے کو عملی شکل دینے کیلئے ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینا شروع کر دیا ہے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ اجتماعی دفاع، علاقائی استحکام اور امن کیلئے ہے۔ استنبول اجلاس کی سب سے بڑی پیش رفت سعودی عرب میں مشترکہ سیکرٹریٹ کے قیام پر اتفاق ہے۔ اس سیکرٹریٹ کی قیادت ابتدائی طور پر تین سال کیلئے پاکستانی سیکرٹری جنرل کرینگے۔ یہ فیصلہ پاکستان کیلئے سفارتی اور دفاعی اعتبار سے ایک اہم کامیابی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تینوں ممالک کے درمیان مستقبل کی دفاعی رابطہ کاری میں پاکستان کو مرکزی کردار حاصل ہوگا۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے واضح کیا ہے کہ یہ اتحاد دوسرے ممالک کی شمولیت کیلئے بھی کھلا ہے۔ اس حوالے سے مصر سمیت خطے کے بعض اہم ممالک کے ممکنہ کردار پر پہلے ہی بات ہو رہی ہے۔پاکستان کیلئے اس معاہدے کا ایک اہم پہلو دفاعی صنعت ہے۔ مکہ اتحاد کے تحت مشترکہ تحقیق، دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی شیئرنگ کا موثر نظام قائم ہوگیا تو پاکستان کی دفاعی صنعت کیلئے سعودی مارکیٹ اور ترکیہ کی جدید ٹیکنالوجی دونوں ایک بڑے موقع میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ مکہ دفاعی اتحاد ایک ابھرتا ہوا دفاعی فریم ورک ہے جسے ابھی ادارہ جاتی شکل، مشترکہ کمانڈ، رابطہ کاری، مشقوں، دفاعی پیداوار اور بحران کے وقت فیصلہ سازی کے واضح نظام کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین