لاہور میں ایک نئی فورس کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جو سڑکوں پر کچرا پھینکنے والوں کو جرمانے کریگی۔ اس پر کئی لوگ بہت غصے میں ہیں کہ یہ تو عوام کو تنگ کرنے والی بات ہے۔ سبحان اللہ۔ گویا کچرا پھینکنا درست ہے اور اس سے منع کرنا غلط۔ نصف ایمان بھی کئی لوگوں کو قبول نہیں۔ یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ لوگ جوس کے پیکٹ، سگریٹ، ٹشو پیپر اور دیگر کچر ا گاڑیوں سے سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ کیا اس عمل کی اجازت دینی چاہئے؟ ہم جس ماحول میں پلے بڑھے ہیں ہمیں لگتاہے کہ یہ سب چیزیں ہمارا کمفرٹ زون ہیں لہذا ہمیں اِن سے نہ روکا جائے۔ نہ ہیلمٹ پہننے کی پابندی ہو، نہ سیٹ بیلٹ لگانے کی، گاڑیاں دھواں دیتی پھریں، ٹریفک اشاروں پر کوئی نہ رکے، جہاں جی چاہے کچر اپھینک دیا جائے اور یوں ہمیں مزے کی زندگی جینے دی جائے۔ صاف ستھری اور ترتیب والی زندگی زیادہ تر لوگوں کو زہر لگتی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ عادت بھی حکومت کی نرمی کی وجہ سے پختہ ہوئی ہے۔ اس عادت کا توڑ یہی ہے کہ اب اس سے سختی سے نمٹا جائے۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ جب شروع شروع میں گاڑی میں سیٹ بیلٹ پہننے کی پابندی لگی تھی تو لوگوں کو یہ بہت عجیب سا لگتا تھا لیکن اب یہ حالت ہے کہ سیٹ بیلٹ نہ لگائی ہو تو عدم تحفظ کا احساس ہونے لگتاہے۔ دنیا بھر کی مثالیں دینے والوں کو اپنے ملک کا نظام بڑی تکلیف دیتاہے۔ ایسے لوگوں کو آپ جونہی مہذب ملک کی مثال دینگے یہ فوراً کہیں گے کہ فلاں فلاں کام بھی تو مہذب ملک جیسا ہونا چاہئے۔ گویا اگر ایک ہی رات میں کایا پلٹ سکتی ہے تو ٹھیک ورنہ دھیرے دھیرے سدھار کی طرف جانا منظور نہیں۔
٭ ٭ ٭
موسم انگڑائی لے رہا ہے۔ بچت کا سیزن شروع ہوا چاہتا ہے۔ بجلی کا بل معقول سطح پر آنے کیلئے تیار ہے۔حبس اور گرمی سے کملائے ہوئے چہرے کھل اٹھیں گے۔سرد رُتوں کا محبتی موسم اپنی آہٹ سے ایک سنسنی سی پیدا کر رہا ہے۔راتیں چھوٹی، دن لمبے، اونی کپڑے، گرم شالیں، دھواں دیتے مشروب اور ڈرائی فروٹ کی چٹختی کڑکڑاتی آوازیں اور دُھند میں لپٹا جادوئی منظر۔ سردیوں کی گاڑی اسٹیشن پر پہنچنے ہی والی ہے۔ استقبال کی تیاریاں کرلیجئے۔سکون اور سکوت بھری راتیں چند دنوں کے فاصلے پر ہیں۔ اگرچہ کچھ مسائل بھی ہوں گے مثلاً گیس شاید بہت کم دستیاب ہو۔ ٹھنڈا پانی کپکپی طاری کرے۔پھلوں کی ورائٹی کم ہو جائے، بدلتے موسم کی بیماریاں یکدم حملہ آور ہوں لیکن مجموعی طور پر سردیاں 75فیصد بہت اچھی ہوتی ہیں۔ اچھے کپڑے پہننے کو دل کرتا ہے۔ بوٹ اور جرابوں میں زیادہ طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ پنکھے بندہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی آوازیں زیادہ بہتر سنائی دینے لگتی ہیں۔ بجلی چلی بھی جائے تو چہرے کی مسکراہٹ نہیں جاتی، نیند خراب نہیں ہوتی۔ ٹرانسفارمر نہیں اُڑتے۔ بار بار ٹھنڈے پانی کی طلب نہیں ہوتی۔ خواتین کچن میں خوشی خوشی کام کرنا پسند کرتی ہیں۔ رضائیاں اور لحاف تحفظ سے بھرپور گرمائش کا احساس دلاتے ہیں۔ اسموکر حضرات سردیوں کا ایک اور بڑا فائدہ بتاتے ہیں کہ گرمیوں میں تو سارا سگریٹ پنکھا پی جاتا ہے البتہ سردیوں میں یہ آخری کش تک ساتھ نبھاتا ہے۔
٭ ٭ ٭
ایک معروف ایکٹر کا دعویٰ اِن دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ فرما رہے ہیں کہ ’میں جنات کا بادشاہ ہوں، میرے پاس اس وقت بھی ایک جن ہے اور اس کا نام نجیب ہے‘۔ یہ بھی فرمایا کہ’جنات کو دیکھا نہیں جاسکتا لیکن وہ اپنی موجودگی کااحساس دلاتے رہتے ہیں جیسا کہ’نجیب‘ اکثر میرے بچوں کی چھوٹی موٹی چیزیں شرارتاً غائب کر دیتا ہے اورپھر واپس رکھ دیتاہے‘۔ انکی یہ بات سن کر مجھے اپنا نجیب یاد آگیا۔ پانچویں جماعت میں میرا کلاس فیلو تھا اور اسی طرح دوسروں کے بستے سے چیزیں غائب کر دیتا تھا لیکن واپس کبھی نہیں رکھتا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قبلہ بہت اچھے ایکٹر ہیں۔ اُردو میں ایکٹر کو ڈرامہ باز بھی کہا جاتاہے۔مجھے سمجھ نہیں آئی کہ نجیب نامی جن اُن سے بات نہیں کرتا، نظر نہیں آتا تو اُنہیں کیسے پتا چلا کہ اُسکا نام نجیب ہے۔ جنات کے نام پر بعض لوگ ایسے ایسے دعوے کرجاتے ہیں کہ خود انہیں بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
مذہبی حوالوں سے جنات کی موجودگی تو ٹھیک لیکن یہ کیسے پتا چلے کہ جو بندہ جنات رکھنے کا دعویٰ کر رہاہے وہ درست ہے۔اور پھر اگر آپ جنات کے بادشاہ ہیں تو آپ کے پاس صرف نجیب کیوں ہے، آپ تو بادشاہ ہیں، آپ کے پاس صرف نجیب نہیں ’’نجیب الطرفین‘‘ہونے چاہئیں بلکہ باقی سارے جنات تو آپ کی رعایا ہونے چاہئیں۔میری دادی کو بھی جن نظر آتا تھالیکن جب کوئی اور دادی کے پاس بیٹھتا تو وہ جن غائب ہوجاتا تھا شائد مردوں سے پردہ کرتا تھا۔ ایک دفعہ غالباً سہیل وڑائچ صاحب نے نفسیاتی امراض کی علاج گاہ فاؤنٹین ہاؤس پر ایک پروگرام‘ ایک دن جیو کے ساتھ‘ کیا تھا۔ اس میں انہوں نے ایک پڑھے لکھے لڑکے سے وہاں آنیکا سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ ایک جن مجھے تنگ کرتاہے اور بلاوجہ میرے سامنے بیٹھ کر ہنستا رہتاہے۔ پوچھا کہ کیا وہ اس وقت بھی یہاں موجود ہے؟ اس پر لڑکے نے ایک طرف اشارہ کرکے کہا کہ ہاں! وہ سامنے بیٹھا ہنس رہا ہے۔
کچھ تصورات دماغ پر اتنے حاوی ہوجاتے ہیں کہ مجسم ہوکر نظر آنے لگتے ہیں۔اسی موضوع پر ایک انگریزی فلم ہے’fractured‘ موقع ملے تو ضرور دیکھئے گا یو ٹیوب پر موجود ہے۔ایکٹر صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ دیگر لوگ جنات کے حوالے سے جو دعوے کرتے ہیں وہ بالکل جھوٹ کہتے ہیں۔ میرا ایک دوست بھی جنات میں خاصا انٹرسٹڈ ہے اس نے جب ایکٹر صاحب کا یہ انٹرویو سنا تو اطمینان سے بولا ’بالکل جھوٹ کہتے ہیں‘۔