کراچی میں صفورا چوک کے قریب جامعہ کراچی کے پروفیسر پر تشدد کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق پروفیسر عارف خان ساقی کی مدعیت میں سچل تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ کونین علی گوہر شاہ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف درج کیا گیا جس میں اقدام قتل، مار پیٹ، زخمی کرنے اور حبسِ بےجا کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق پروفیسر عارف خان ساقی کا کہنا ہے کہ دو گن مینوں نے مجھے اور میرے بھتیجے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ صفورا چوک پر ہماری گاڑی کو نقصان پہنچانے پر ازالے کا مطالبہ کیا۔
ایف آر آر میں درج کیا گیا کہ زخمی ہونے کے بعد ملزمان مجھے اور میرے بھتیجے کو ہوٹل لے گئے۔ ہوٹل میں بھی مجھے اور بھتیجے کو حبسِ بےجا میں رکھ کر تشدد کیا گیا۔
پروفیسر عارف خان ساقی کے مطابق ملزمان کی جانب سے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ مسلح ملزمان بھتیجے کی گاڑی بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس موقع پر پہنچی، مجھے اور بھتیجے کو بازیاب کروایا جبکہ ملزمان فرار ہوگئے۔