کراچی (رفیق مانگٹ) امریکا میں 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے پچیس برس بعد جاری ایک جامع تحقیقی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اگرچہ مسلم امریکی آبادی، سماجی کردار اور سیاسی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منفی تصورات، تعصب اور امتیازی سلوک آج بھی بڑی حد تک موجود ہیں، مسلمان ملک پر منفی اثر ڈال رہے ہیں، 42فیصد امریکیوں کی رائے، 43 فیصد انہیں کم محب وطن سمجھتے ہیں،9/11 کے بعد نفرت انگیز جرائم میں دھماکہ خیز اضافہ، 2001 میں 481 کیسز رپورٹ، 2001 کے بعد 52فیصد مسلمانوں نے امتیازی سلوک کا سامنا کیا، 68فیصد نے میڈیا کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ نائن الیون کے اثرات آج بھی امریکی معاشرے کے رویّوں اور مسلم کمیونٹی کے تجربات پر گہرے انداز میں اثرانداز ہو رہے ہیں۔امریکی تھنک ٹینک کے سروے میں 43 فیصد امریکی بالغوں نے کہا کہ مسلمان دیگر امریکیوں کے مقابلے میں کم محب وطن ہیں، جبکہ 42 فیصد کے نزدیک مسلم امریکی ملک پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔51 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ اسلام دیگر مذاہب کے مقابلے میں تشدد کو فروغ دیتا ہے، جو کہ 2002 میں صرف 25 فیصد تھا۔ گزشتہ دہائی میں یہ شرح مسلسل 45 سے 52 فیصد کے درمیان رہی، جو بڑھتے ہوئے منفی رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں سیاسی تقسیم بھی واضح ہو چکی ہے۔ 76 فیصد ریپبلکن اور ان کے حامی اسلام کو تشدد سے جوڑتے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس اور ان کے حامیوں میں یہ شرح 29 فیصد ہے۔