• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقوامِ متحدہ کے نئے نقشے میں اروناچل پردیش علیحدہ خطہ قرار، بھارت میں کھلبلی

—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کیے گئے دنیا کے نئے نقشے نے ایک بار پھر توجہ حاصل کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کو دنیا کے موجودہ نقشے میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس، برطانیہ اور بھارت سمیت 164 ممالک نے افریقا کے حجم کو زیادہ درست انداز میں دکھائے جانے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ صرف امریکا نے اس نقشے کی مخالفت کی۔

اب اس نقشے میں بھارتی جغرافیائی حدود کو مختلف انداز میں دکھائے جانے کی بات سامنے آنے کے بعد ایک تنازع کو جنم دے دیا ہے۔

اس نقشے میں اروناچل پردیش اور اکسائی چن کو بھارت اور چین کے باہمی سرحدی دعوؤں کے درمیان الگ خطوں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

نئی دہلی اروناچل پردیش کو بھارت کا حصہ جبکہ اکسائی چن کو لداخ کا حصہ قرار دیتا ہے۔

یہ نقشہ یکم جولائی کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد سے متعلق مباحثے کے دوران پہلی مرتبہ جاری کیا گیا تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت نے نقشے کی تصحیح (Correct the Map) کے عنوان سے پیش کی گئی اس قرارداد کی حمایت کی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نقشے میں اروناچل پردیش کی ناگالینڈ کے ساتھ سرحد ختم کر دی گئی ہے جبکہ اس خطے کو ایک علیحدہ ریاست کے طور پر دکھایا گیا ہے، جس کی سرحدیں آسام اور چین سے ملتی ہیں۔

اسی طرح نقشے میں اکسائی چن کو بھی ایک علیحدہ خطے کے طور پر دکھایا گیا ہے، جس کے مغربی جانب بھارت جبکہ مشرقی جانب چین کی سرحد ظاہر کی گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے نقشے میں کی گئی ان تبدیلیوں کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔

اقوامِ متحدہ نے نیا نقشہ منظور کر لیا

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گزشتہ ہفتے افریقی یونین کی حمایت سے پیش کی گئی نقشے کی تصحیح (Correct the Map) کے عنوان سے قرارداد منظور کی۔

قرارداد میں دنیا کے مختلف خطوں، بالخصوص افریقا کی نقشہ سازی میں زیادہ درست اور منصفانہ جغرافیائی نمائندگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں ہے، تاہم سمجھا جاتا ہے کہ اسے دنیا بھر کے کثیرالجہتی اداروں کی جانب سے دنیا کے معیاری نقشے میں شامل کر لیا جائے گا اور عالمی سطح پر نقشے کی معمول کی عکاسی میں اسے اپنایا جائے گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید