کراچی کے علاقے منگھو پیر میں نوجوان کے قتل کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ لواحقین اور علاقہ مکین منگھو پیر تھانے کے باہر 24 گھنٹوں سے دھرنا دے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔
ورثا نے اب تک تدفین بھی نہیں کی ہے، منگل کو منگھو پیر کے علاقے میں ڈاکوئوں کی فائرنگ سے روشم نامی نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا جو آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔
واقعے کے بعد روشم کے اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے منگھو پیر تھانے کے باہر احتجاج شروع کیا، اس دوران ایس ایس پی ویسٹ طارق مستوئی نے مذاکرات بھی کیے لیکن احتجاج ختم نہ ہوسکا۔
بدھ کو ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے ایس ایچ او منگھو پیر انسپکٹر ذوالفقار کو معطل کر دیا۔ اس کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری رہا، مظاہرین کا کہنا ہے کہ روشم کے قتل میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ روشم کے قاتلوں کی گرفتاری تک روشم کی تدفین بھی نہیں کریں گے۔