• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتظامی افادیت، شناخت و تشخص کے تحفظ اور طاقت کی جمع تفریق میں توازن کے ذریعے پاکستان ایک بار پھر اس بحث میں مصروف ہے کہ وفاق سے نیچے کی سطح پر ملک کو کس ڈھانچے کے تحت چلایا جائے۔ کچھ لوگ نئے صوبوں کے حق میں ہیں۔ کچھ چھوٹی انتظامی اکائیوں کی بات کرتے ہیں اور کچھ کا خیال ہے کہ اصل حل بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں ہے۔ جو بظاہر انتظامی حدود کے بارے میں ایک ہی بحث معلوم ہوتی ہے، دراصل کم از کم تین الگ بحثیں ہیں: انتظامی افادیت کی بحث، شناخت اور تشخص کے تحفظ کی بحث اور طاقت کی جمع تفریق کی بحث۔ ان میں سے کسی ایک کو دوسروں کی قیمت پر حد سے بڑھانا دانشمندی نہیں، اور نہ ہی کسی ایک کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ اصل کام ان تینوں کے درمیان ایک قابلِ قبول اور پائیدار مفاہمت پیدا کرنا ہے۔

انتظامی افادیت اور شناخت و تشخص

پاکستان کے صوبے غیر معمولی حد تک بڑی حکومتی اکائیاں ہیں، اکیلے پنجاب کی آبادی کسی بڑے ملک کے برابر ہے۔ تاہم چھوٹی اکائی ہمیشہ بہتر نہیں ہوتی: کوئی اکائی اتنی بڑی ہو سکتی ہے کہ عوام کی رسائی متاثر ہو، یا اتنی چھوٹی کہ اسکے پاس مناسب انتظامی صلاحیت اور سیاسی وزن ہی نہ رہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت کو کتنا چھوٹا بنایا جائے، بلکہ یہ ہے کہ کون سی ذمہ داری کس سطح پر بہترین طریقے سے انجام دی جا سکتی ہے۔یہ نکتہ ہمیں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی طرف لے جاتا ہےمگر اسکا مطلب صوبوں کا خاتمہ نہیں۔ پاکستان کے صوبوں کے ساتھ گہرے تاریخی، لسانی اور سیاسی معنی وابستہ ہیں؛ انہیں محض انتظامی رکاوٹ سمجھنا انتظامی مسائل حل کرنیکی کوشش میں نئے سیاسی مسائل پیدا کرنے کا خطرہ مول لینا ہے۔ آئین بھی صوبوں اور بلدیاتی نظام کے درمیان کسی ایک کے انتخاب کا تقاضا نہیں کرتا: دفعہ 140-A کے تحت ہر صوبے کیلئے لازم ہے کہ وہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار تفویض کرے۔ صوبہ پہلے سے موجود ہے؛ بلدیاتی نظام کو پہلے ہی آئینی حیثیت حاصل ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان زیادہ مؤثر تعلق کیسے قائم کیا جائے۔

طاقت: وہ متغیر جو نظر انداز ہو جاتا ہے

انتظامی اصلاحات پر عموماً اس انداز میں گفتگو کی جاتی ہے جیسے سیاسی مفادات محض ناخوشگوار پیچیدگیاں ہوں، جو کسی بہتر تکنیکی حل کے ملتے ہی خود بخود ختم ہو جائیں گی۔ ایسا نہیں ہوتا۔ حکومت کی ہر بامعنی ازسرِنو تشکیل اختیار کو نئے سرے سے تقسیم کرتی ہے، اگر فرائض نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں تو اوپر والوں کے اختیار میں کمی آتی ہےاور اگر بلدیاتی ادارے مضبوط ہوں تو صوبائی حکومت کو اپنے نیچے ایک زیادہ باوزن ادارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ اصلاحات کے حادثاتی نتائج نہیں، بلکہ خود اصلاحات کا حصہ ہیں۔ چنانچہ طاقت کو انتظامی افادیت اور شناخت و تشخص کے ساتھ واضح طور پر تیسرا متغیر تسلیم کیا جانا چاہیے، اسلئے نہیں کہ ہر ذاتی مفاد کو جائز قرار دیا جائے، بلکہ اسلئے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ اختیار کس کے ہاتھ میں اور کتنا ہو، یہ خود سیاست کا جائز کاروبار ہے۔

طاقت کی جمع تفریق

اس مضمون کی مرکزی تجویز یہ ہے: اگر کسی ایک شعبے میں کسی جائز سیاسی فریق سے اختیار کم کیا جائے، تو ممکن ہے کہ اس کا ازالہ کسی دوسرے شعبے میں اختیار، نمائندگی یا مواقع کی صورت میں کیا جائے۔ یہ کوئی حسابی جمع تفریق نہیں،سیاسی طاقت کو اکائی در اکائی ناپا اور بدلا نہیں جا سکتا بلکہ یہ اداروں کی پائیداری کا ایک اصول ہے۔ جو اصلاح ایسے طاقتور گروہ پیدا کرے جنکے پاس اسے ختم کرنےکے مضبوط محرکات ہوں، وہ اسی وقت تک قائم رہ سکتی ہے جب تک وہی سیاسی حالات برقرار رہیں جنہوں نے اسے جنم دیا۔پاکستان کا بلدیاتی نظام اسی طرز کی عکاسی کرتا ہے۔ وقتاً فوقتاً مضبوط بلدیاتی نظام رائج کیے گئے، مگر انکا تسلسل ہمیشہ متنازع رہا غالباً اس لیے کہ صوبائی سیاسی قیادت نے اختیارات کی منتقلی کو صوبے سے دور ہوتے اختیار کے طور پر محسوس کیا، بغیر کسی ایسے سیاسی بندوبست کے جس میں صوبائی سیاسی طبقے کو بھی خاطر خواہ حصہ ملے۔ سبق یہ نہیں کہ بلدیاتی نظام کمزور ہی رہے، بلکہ یہ کہ اسے ایک زیادہ پائیدار سیاسی مفاہمت درکار ہے۔

ازالے کے علاوہ ایک دوسرا طریقہ بھی ہے: وسعت۔ ادارہ جاتی ازسرِنو تشکیل صرف طاقت کی ایک مقررہ مقدار کو تقسیم کرنے تک محدود نہیں یہ بالکل نئی سیاسی گنجائش بھی پیدا کر سکتی ہے۔ ایک نیا نمائندہ ادارہ سیاسی سرگرمی کا نیا میدان تخلیق کرتا ہے؛ مضبوط بلدیاتی ادارے مقامی قیادت کیلئےمیدان وسیع کرتے ہیں۔

ایک ادارہ جاتی تجویز

ان تمام نکات کو یکجا کریں تو: موجودہ صوبے برقرار رکھے جا سکتے ہیں۔ آئینی طورپر تسلیم شدہ بلدیاتی نظام کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان، ہر صوبے میں محدود تعداد میںابتدائی طورپر تین سےچھ کے درمیان ذیلی صوبے قائم کیے جا سکتے ہیں: یہ وفاق کے اضافی صوبے نہیں ہوں گے، بلکہ ایک انتظامی سطح ہوگی جو ان فرائض کو انجام دے گی جو کسی ضلع کیلئےبہت بڑے ہیں مگر صوبائی دارالحکومت میں مرتکز رہنے کی ضرورت نہیں رکھتے۔

اس انتظامی پْل کے ساتھ ایک نمائندہ پْل کی بھی ضرورت ہے: صوبائی سینیٹ۔ صوبائی اسمبلی آبادی کی نمائندگی کرے گی؛ سینیٹ ذیلی صوبائی علاقوں کی نمائندگی کرے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ سینیٹرز کا انتخاب نہ تو صوبائی اسمبلی کرے (جو محض وہی سیاسی ڈھانچہ دہرائے گی) اور نہ براہِ راست عوامی ووٹ سے ہو (جو ایک اور متصادم مینڈیٹ پیدا کرے گا)، بلکہ ایک ایسے انتخابی کالج کے ذریعے ہو جو ہر ذیلی صوبے کے اندر بلدیاتی اداروں کی منتخب قیادت پر مشتمل ہو۔ جمہوری زنجیر یوں بنے گی:عوام ، بلدیاتی ادارے، ذیلی صوبائی انتخابی کالج، صوبائی سینیٹ۔ اس طرح بلدیاتی نظام کو وہ چیز میسر آئیگی جسکی اسے اب تک کمی ہے،صوبائی مقننہ تک ایک ادارہ جاتی راستہ، نہ کہ محض باہر سے اوپر کی سطح سے مذاکرات۔

ایک ایسا بندوبست جو برقرار رکھنے کے قابل ہو

انتظامی افادیت یہ سوال کرتی ہے کہ آیا کوئی بندوبست عملی طور پر کام کر سکتا ہے۔ شناخت اور تشخص کا تحفظ یہ سوال کرتا ہے کہ آیا اسے قبول کیے جانے کیلئے کافی جواز حاصل ہے۔ اور طاقت کی جمع تفریق یہ سوال کرتی ہے کہ آیا اسے چلانے کیلئے درکار فریق اسے برقرار رکھنے کی کافی وجہ رکھتے ہیں۔ انتظامی افادیت، شناخت و تشخص کے تحفظ یا طاقت کی جمع تفریق کو الگ الگ حد سے بڑھانے سے کسی پائیدار ازسرِنو تشکیل کا امکان کم ہے۔ مقصد ایک ایسا بندوبست ہونا چاہیے جس میں تینوں کو تسلیم کیا جائے، کوئی ایک بھی مطلق نہ ہو، اور ہر ایک کو اتنی گنجائش دی جائے کہ پورا نظام قابلِ عمل بھی رہے اور برقرار رکھنے کے قابل بھی۔

Note (retained flag) : the fuller "not an accounting formula" line including the settled "shared business of our common Pakistani biradari" phrase

(ہم سب کی سانجھی پاکستانی برادری کے کاروبار کی جمع تفریق)

was shortened here for length. Whether/how to reinsert it in this condensed draft is an open item.

تازہ ترین