پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث ایک مرتبہ پھر سیاسی اور عوامی گفتگو کا حصہ ہے۔ کبھی جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانےمطالبہ سامنے آتا ہے، کبھی بہاولپور کی تاریخی شناخت اور کبھی ہزارہ کی الگ انتظامی حیثیت کی بات ہوتی ہے۔ کبھی مزید صوبوں کی تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے مسائل صوبوں کی تعداد کیوجہ سے ہیں یا اختیارات کے غیر متوازن ارتکاز کی وجہ سے؟دنیا بھر میں انتظامی ڈھانچے بدلتے رہے۔ کہیں نئی اکائیاں بنیں، پرانی اکائیاں ضم ہوئیں اور کہیں اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کیے گئے۔ اچھی حکمرانی کا تعلق صرف صوبوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ فیصلہ سازی، وسائل اور جواب دہی سے ہے۔او ای سی ڈی کا تجربہ بھی اہم ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو مختلف ممالک کی معیشت، حکمرانی اور عوامی پالیسیوں کا جائزہ لے کر بہتر نظام کیلئے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسکا بنیادی سبق یہ ہے کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تو مالی وسائل، انتظامی اختیار اور جواب دہی بھی اسی سطح تک پہنچنی چاہیےورنہ انتظامی تقسیم صرف نقشے کی تبدیلی بن جاتی ہے۔نئے صوبوں کی بحث کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اگر نیا صوبہ بنا دیا جائے، نیا دارالحکومت، اسمبلی اور وزارتیں قائم ہو جائیں، لیکن عام آدمی کے مسائل وہیں رہیں تو حاصل کیا ہوا؟بھارت کی مثال لے لیں۔ آزادی کے بعد لسانی بنیادوں پر ریاستیں بنانےپر اختلاف ہوا اور قومی وحدت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ مگر 1956 میں ریاستوں کی تنظیم نو کی گئی۔ بعد میں مہاراشٹر اور گجرات بھی الگ ریاستیں بنیں۔ اس تجربے سے ظاہر ہوا کہ انتظامی تقسیم لازماً قومی وحدت کے خلاف نہیں، اگر مقصد عوامی ضرورت، انتظامی کارکردگی اور بہتر حکمرانی ہو۔پاکستان میں اگر نئے صوبوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے، مگر واضح معیار کے ساتھ۔ صرف آبادی، زبان یا تاریخی شناخت کافی نہیں۔ نئی انتظامی اکائی سے پہلے معاشی استعداد، جغرافیہ، وسائل، انتظامی اخراجات، عوامی رضامندی اور حکمرانی کی صلاحیت کو دیکھنا ہوگا۔پاکستان کے مختلف علاقوں کی معاشی حقیقتیں بھی اس بحث کا اہم حصہ ہیں۔ فیصل آباد بڑا صنعتی مرکز ہے، سیالکوٹ برآمدی صنعت میں عالمی شناخت رکھتا ہے، گوجرانوالہ صنعتی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے، ملتان جنوبی پنجاب کی زراعت، تجارت اور تہذیبی زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ کراچی تجارت، بندرگاہ، صنعت اور مالیاتی سرگرمیوں کا بڑا مرکز ہے۔ لیکن کسی شہر کی معاشی اہمیت خود بخود اسے الگ صوبہ بنانے کی دلیل نہیں بنتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشی جغرافیے کو سمجھ کر انتظامی نظام بنایا جائے۔یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ صنعتی علاقوں میں فیصلے کتنے مقامی ہیں، زرعی علاقوں میں پانی، منڈی، سڑک اور ذخیرہ کرنے کے وسائل کے فیصلے کس سطح پر ہوتے ہیں اور بڑے شہروں میں آمدورفت، صفائی، پانی اور شہری منصوبہ بندی کا اختیار کس کے پاس ہے۔ اگر یہ اختیارات عوام کے قریب نہیں تو مسئلہ صوبوں کی تعداد سے بڑا ہے۔پاکستان کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے صوبائی حکومتوں کے اختیارات پر تو بہت بحث کی، مگر مقامی حکومتوں کو حقیقی طاقت اور مالی وسائل نہیں دیے۔ عام شہری کیلئےحکومت وہی ہے جو اسکے قریب ہو۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محلے کی سڑک کون بنائیگا، پانی کون دئیگا، کچرا کون اٹھائیگااور آمدورفت کا مسئلہ کون حل کرئیگا۔اسی لیے صوبوں کی بحث کو مقامی حکومتوں کے سوال سے جوڑنا ضروری ہے۔ اگر نیا صوبہ بن بھی جائے لیکن اختیارات نچلی سطح تک نہ پہنچیں تو عام آدمی کیلئے تبدیلی محدود رہے گی۔ ایک صوبائی دارالحکومت کی جگہ دوسرا آ سکتا ہے، مگر فیصلہ سازی پھر بھی عوام سے دور رہ سکتی ہے۔ حقیقی اختیارات کی منتقلی تب ہوگی جب مقامی منتخب نمائندوں کو واضح اختیارات، مستقل مالی وسائل اور فیصلوں کی ذمہ داری دی جائیگی۔جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور دوسرے علاقوں کے احساسِ محرومی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں عوام انتظامی یا سیاسی محرومی محسوس کرتے ہیں، انکی آواز سنی جانی چاہیے۔ نئے صوبے کسی سیاسی جماعت کا انتخابی وعدہ نہیں ہونے چاہئیں۔ یہ قومی فیصلہ ہونا چاہیے، جس کیلئے پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث، ماہرین کی رائے، معاشی و انتظامی جائزہ اور عوامی خواہشات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ نیا صوبہ بننے کے بعد اختیار کہاں منتقل ہوگا۔ اگر اختیار صرف ایک بڑے صوبائی دارالحکومت سے نئے دارالحکومت تک منتقل ہونا ہے تو عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آئیگی ۔ یہ اختیارات کی حقیقی منتقلی نہیں بلکہ مرکز کی جگہ تبدیل کرنا ہوگا۔پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن اس سے پہلے بہتر حکمرانی کے اصول ضروری ہیں۔ ایسا نظام درکار ہے جس میں صوبے بااختیار ہوں، مقامی حکومتیں بھی حقیقی اختیار رکھتی ہوں، منتخب نمائندوں کے پاس مالی وسائل ہوں اور وہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔نئے صوبوں کی بحث کو ختم نہیں کرنا چاہیے، بلکہ درست سوالات کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے۔ کتنے صوبے ہونے چاہئیں، اسکے ساتھ یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ حکومت عوام کے کتنے قریب ہونی چاہیے۔ صوبہ کتنا بڑا یا چھوٹا ہو، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اختیار کس سطح پر ہونا چاہیے۔ نیا دارالحکومت کہاں ہوگا، اس سے پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ عام آدمی کا کام کہاں اور کتنی آسانی سے ہوگا۔آخرکار مسئلہ نقشے کا نہیں، نظام کا ہے۔ نقشہ بدلنے سے اگر اختیار، وسائل اور جواب دہی کی پرانی ترتیب برقرار رہتی ہے تو عوام کے مسائل بھی وہیں رہیں گے۔ لیکن اگر اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں، وسائل منصفانہ تقسیم ہوں، مقامی حکومتیں مضبوط ہوں اور حکمران جواب دہ ہوں تو شاید ہر مسئلے کے حل کیلئے نئے صوبے بنانے کی ضرورت نہ پڑے۔
نقشے ضرور بدلیں، اگر واقعی ضرورت ہو، مگر اس سے پہلے وہ نظام بدلنا ہوگا جس نے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا کر رکھا ہے۔