• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی اصل طاقت اس باہمی اعتماد، تاریخی وابستگی اور عوامی سطح پر موجود محبت میں ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد شراکت داری کی شکل اختیار کی ہے۔ انقرہ میں پاکستان کے یومِ دفاع و شہدا کی مناسبت سے منعقدہ تقریب اسی غیر معمولی تعلق کی ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جسے محض ایک سفارتی تقریب قرار دینا اس کی حقیقی اہمیت کو کم کرنا ہوگا۔پاکستانی سفارتخانے انقرہ میں منعقدہ اس تقریب میں ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاشار گیولر کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت اور ترک مسلح افواج کی اعلیٰ ترین قیادت کی بھرپور موجودگی اس امر کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات ایک غیر معمولی مقام حاصل کرچکے ہیں۔ترکیہ کی سیاسی اور عسکری قیادت پاکستان کے قومی تہواروں اور اہم مواقع پر جس تسلسل کے ساتھ شرکت کرتی ہے، وہ دونوں ممالک کے درمیان موجود غیر معمولی قربت کی عکاس ہے۔ یومِ دفاع و شہدا کی تقریب کا ایک پہلو پاکستان کی قومی تاریخ سے جڑا ہوا تھا، لیکن اس کا دوسرا اور زیادہ وسیع پہلو پاک ترک تعلقات کا مستقبل تھا۔ 6 ستمبر 1965ء پاکستان کی تاریخ میں قومی عزم، جرأت اور قربانی کی علامت ہے۔ اس دن کو شہدا کی یاد میں منانا دراصل آنیوالی نسلوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں بلکہ اس کیلئے قربانی، اتحاد، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی بھی ضروری ہے۔تقریب میں پاکستان کے دفاعی و فضائی اتاشی ایئر کموڈور محمد آصف بھٹی نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے پاکستان کے امن پسندانہ مؤقف کے ساتھ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔پاکستان کے ترکیہ میں سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے اپنے خطاب میں شہدا اور قومی دفاع میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے قدرتی آفات، اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور قومی دفاع میں پاکستانی اہلکاروں کی خدمات کو اجاگر کرکے یہ واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج کا کردار صرف جنگی محاذ تک محدود نہیں بلکہ عالمی امن اور انسانی خدمت کے شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ تاہم اس تقریب کا سب سے اہم پیغام شاید ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاشارگیولر کا خطاب تھا۔ انہوں نے پاکستان کو ترکیہ کا تزویراتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کو اجاگر کیا۔ یہ الفاظ محض سفارتی آداب کا حصہ نہیں سمجھے جانے چاہئیں۔ پاک ترک تعلقات گزشتہ برسوں میں جس سمت آگے بڑھے ہیں، ان میں دفاعی تعاون نے بنیادی ستون کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔دنیا کے متعدد ممالک ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی معاہدے کرتے ہیں، اسلحہ خریدتے اور فروخت کرتے ہیں اور مشترکہ دفاعی منصوبوں پر کام کرتے ہیں، لیکن پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعاون کی نوعیت اس سے کہیں آگے ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو پاک ترکیہ دفاعی تعلقات کو دیگر کئی دوطرفہ دفاعی روابط سے ممتاز کرتا ہے۔دفاعی صنعت میں باہمی تعاون دراصل مستقبل کی جنگی ضروریات اور جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں کا جواب ہے۔ آج کی دنیا میں دفاعی طاقت کا تعین صرف فوجیوں کی تعداد یا روایتی ہتھیاروں سے نہیں ہوتا بلکہ مصنوعی ذہانت، بغیر پائلٹ نظام، جدید بحری پلیٹ فارمز، الیکٹرانک وارفیئر، نگرانی کے نظام، سائبر صلاحیتوں اور مقامی سطح پر دفاعی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی استعداد بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان اور ترکیہ دونوں اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور اسی لیے ان کا دفاعی تعاون بتدریج ایک جامع دفاعی شراکت داری میں تبدیل ہو رہا ہے۔اگردونوں ممالک کی صلاحیتوں کو یکجا کیا جائے تو مشترکہ تحقیق اور پیداوار کے ذریعے نہ صرف دفاعی خود انحصاری میں اضافہ ہوسکتاہے بلکہ عالمی دفاعی منڈی میں بھی دونوں ممالک کی مشترکہ موجودگی مضبوط ہوسکتی ہے۔اسی تناظر میں یاشارگیولر کی جانب سے ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی اتحاد کو تاریخی قدم قرار دینا خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اجتماعی دفاع، تزویراتی تعاون، بازدار قوت اور علاقائی استحکام کے حوالے سے اس اتحاد کا تصور مستقبل میں خطے کے دفاعی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ یہاں ایک اور حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوتے۔ سیاسی قیادتیں بدلتی رہی ہیں، عالمی حالات تبدیل ہوتے رہے ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی بنیاد اپنی جگہ قائم رہی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ تعلقات ریاستی مفادات کے ساتھ ساتھ عوامی جذبات اور تاریخی وابستگی پر بھی قائم ہیں۔اس موقع پر پاکستان کے ترکیہ میں سفیر ڈاکٹر یوسف جنید کی سفارتی کاوشوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی دوطرفہ تعلق کو مضبوط بنانے میں سفارتکار کا کردار صرف سرکاری ملاقاتوں کے انعقاد تک محدود نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب سفارتکاری ریاستی اداروں، عسکری قیادت، سیاسی حلقوں، کاروباری طبقے، دانشوروں اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوط کرے۔ انقرہ میں پاکستانی سفارتخانے کی سرگرمیاں اور ترک قیادت کی پاکستان سے متعلق تقریبات میں بھر پور طریقے سے مسلسل شرکت اس سفارتی محنت کی ایک نمایاں جھلک ہے۔یومِ دفاع و شہدا کی یہ تقریب ہمیں یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کی دوستی اب محض ماضی کی مشترکہ یادوں کا نام نہیں بلکہ مستقبل کی مشترکہ حکمتِ عملی کا عنوان بن چکی ہے۔ دنیا میں بہت سے ممالک ایک دوسرے کے اتحادی ہوتے ہیں، لیکن ہر اتحاد میں اعتماد، جذباتی وابستگی اور باہمی احترام کی وہ گہرائی نہیں ہوتی جو پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات میں دکھائی دیتی ہے۔ انقرہ میں یومِ دفاع و شہدا کی تقریب اسی تعلق کی ایک واضح تصویر تھی۔یہ تصویر دراصل صرف پاکستان کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی تصویر نہیں تھی؛ یہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اس عہد کی بھی تصویر تھی کہ دونوں ممالک امن، سلامتی، خودمختاری اور باہمی تعاون کے سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ یہی وہ رشتہ ہے جو پاک ترک دوستی کو محض سفارتی تعلق نہیں بلکہ ایک قابلِ تقلید تزویراتی شراکت داری بناتا ہے۔

تازہ ترین