حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سے غذائی نالی کے ایک مخصوص قسم کے کینسر، اسکویمس سیل کارسینوما (SCC) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر کیرن پیپیئر کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق میں برطانیہ کے 9 لاکھ 80 ہزار افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جن کا تقریباً 14 سال تک مشاہدہ کیا گیا۔
شرکاء سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے مشروبات کس درجۂ حرارت پر پینا پسند کرتے ہیں؟ جس کے جواب میں ’بہت گرم‘، ’گرم‘ یا ’نیم گرم‘ کے آپشنز دیے گئے۔
تحقیق کے مطابق بہت گرم مشروبات پینے والے افراد میں غذائی نالی کے اسکویمس سیل کارسینوما کا خطرہ نیم گرم مشروبات پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زیادہ پایا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ خطرہ مشروبات کے استعمال کی مقدار سے منسلک تھا، روزانہ 6 یا اس سے زیادہ گرم مشروبات پینے والے افراد میں 6 سے کم گرم مشروبات استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں اسکویمس سیل کارسینوما کا خطرہ 71 فیصد زیادہ تھا۔
تاہم محققین کو گرم مشروبات اور غذائی نالی کے دوسرے بڑے کینسر ایڈینوکارسینوما کے درمیان واضح تعلق نہیں ملا۔
محققین کا خیال ہے کہ انتہائی گرم مشروبات کی بار بار گرمی غذائی نالی کی اندرونی تہہ میں موجود خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جو ممکنہ طور پر کینسر کی افزائش میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق شراب نوشی اور تمباکو نوشی بھی غذائی نالی کے کینسر کے اہم عوامل میں شامل ہیں۔
بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیقِ سرطان نے 2016ء میں انتہائی گرم مشروبات کو انسانوں کے لیے ’ممکنہ طور پر سرطان کا باعث‘ قرار دیا تھا۔
کینسر ریسرچ یو کے نے خطرے سے متعلق تشویش رکھنے والے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ چائے یا کافی کو پینے سے پہلے اتنا ٹھنڈا ہونے دیں کہ اسے آرام سے پیا جا سکے، بجائے اس کے کہ اسے انتہائی گرم حالت میں استعمال کیا جائے۔
کوئین میری یونیورسٹی آف لندن کے پروفیسر میو ٹیک نے تحقیق کی ایک اہم حد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشروبات کا درجۂ حرارت محسوس کرنا ہر شخص کے لیے مختلف ہوتا ہے، یہ واضح نہیں کہ بہت گرم مشروبات پسند کرنے والے افراد میں درجۂ حرارت محسوس کرنے کی صلاحیت یا غذائی نالی کی حساسیت مختلف ہے یا نہیں اور یہی خصوصیت کینسر کے خطرے سے بھی متعلق ہو سکتی ہے۔
