وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ سانحہ پمز میں قصور وار قرار دیے گئے 8 افراد پر مقدمات درج ہوں گے، صحافی نے سوال کیا کیا فوجداری دفعات کے تحت مقدمات درج ہوں گے؟
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جی بالکل، 8 افراد کےخلاف فوجداری مقدمات کے تحت کارروائی ہوگی، سانحے میں جس کا جتنا قصور ہوا اسے اتنی ہی سزا ملے گی۔
وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ سانحہ پمز ہم نہ بھولے ہیں نہ بھولیں گے، تحقیقاتی کمیٹی مزید تفصیلات تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے، بہت محتاط انداز میں تحقیقات ہو رہی ہیں، ذمہ داران کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز نے پمز اسپتال میں میڈیا سے گفتگو میں کہا غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، کوشش ہونی چاہیے کہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔
خیال رہے کہ 26 اگست کو پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔
پمز اسپتال آتشزدگی میں جاں بحق بچے کی والدہ نے دہائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی ڈاکٹر کو کچھ نہیں ہوا، صرف بچے جلنے تھے۔
سی ڈی اے کے فائر ڈپارٹمنٹ نے رپورٹ دی تھی کہ پمز میں آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات ناکافی تھے۔ یہ بھی کہا کہ ہنگامی اخراج کے راستے باہر سے مستقل طور پر بند تھے۔