• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بعض یادیں پورے عہد کی امانت ہوتی ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، چہرے بدل جاتے ہیں ، نئی نسلیں اپنے مسائل اور ترجیحات کیساتھ آگے بڑھتی ہیں، مگر کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے اندر کہیں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ راقم کی یادداشت کے نہاں خانے میں بھی ایسی بہت سی تصویریں محفوظ ہیں۔ ان میں سے ایک تصویر1965ء کے ستمبر کے اس ماحول کی ہے جس میں میں نے ایسے پاکستان کو دیکھا تھا جو آج کے پاکستان سے جغرافیائی اعتبار سے بھی مختلف تھا اور سیاسی اعتبار سے بھی ۔دنیا بھر کے ملکوں میں انتظامی ضروریات کیلئے بعض تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اسوقت کا پاکستان انتظامی بندوبست اورطرز حکومت کے اعتبار سے 1947ء کےپاکستان سے اور آج کے پاکستان سے بھی قدرے مختلف تھا۔ 7؍اکتوبر1958ء کے مارشل لاکے بعد27اکتوبر 1958ء کو جنرل ایوب کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے وقت سے ملک میں صدارتی طرز حکومت چل رہاتھا ۔ یہ وضاحت اسلئے ضروری ہے کہ 1965ء کی جنگ کو آج کے نقشے اور انتظامی تقسیم کے حوالے سے دیکھنے سے نئی نسل کے سامنے اس زمانے کی اصل تصویر پوری طرح سامنے نہیں آتی۔ میں ستمبر1965ء کی پاک بھارت جنگ کے شب وروز اپنی یادداشت میں تازہ کرتا ہوں تو یہ بھی واضح طور پر محسوس کرتا ہوں کہ دشمن ملک کی طرف سے کئے گئے حملے سے دفاع کی جنگ صرف زمینی سرحدوں، سمندروں اور فضائی محاذوں میں نہیں لڑی جارہی تھی۔وطن پاک کا ہر گھر ،ہر محلہ، ہر شہر اسکا مورچہ یاقلعہ تھا۔ 6ستمبر کی صبح لاہور پر قبضہ کی ناکام تگ ودو میں غیر ملکی افواج کی واہگہ میں آمد کی کیفیت ہو یا قصور پر حملہ۔ سات اور آٹھ ستمبر کی درمیانی رات شروع ہونیوالے سیالکوٹ کے محاذ کے عالمی جنگی تاریخ کا حصہ بننے کی تفصیل ہو یا کسی اور معرکےکاتذکرہ۔ سب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے افسروں اور جوانوں نے اپنی موثر حکمت عملی اورجاں بازی سے دشمن کےہر طرح کے ہتھکنڈے ناکام بنا دئیے۔ ہماری فضائیہ نے ایسے کارنامے انجام دئیے جو عالمی جنگی تاریخ کا عنوان بن گئے۔ہماری بحریہ نے دوارکا کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رقبے اور وسائل کے اعتبار سے کئی گنا بڑے دشمن کو وہ سبق دیا جسکا اس کیلئے تصور بھی ممکن نہ تھا۔ان سب تفصیلات سے پاکستانی قوم ہی نہیں دنیا آگاہ ہے۔ 6 ستمبر کو رات کے اندھیرے میں سرحدوں کے قریب فوجی نقل وحرکت سے لاہور اور سرحدی شہروں کے لوگوں کو کسی نہ کسی طرح اس دشمن ملک کی کھلی جارحیت کا اندازہ ہوگیا جس کے مختلف سطحوں کے لیڈر قیام پاکستان کے وقت سے اس ملک کے خاتمے کی پیش گوئیاں کرتے اور وقتا فوقتاً تاریخیں بھی دیتے رہے ۔ لاہور کے شہریوں تک بعد میں یہ خبر بھی پہنچ گئی کہ واہگہ ، جو لاہور کا دروازہ کہلاتا ہے، وہاں پہنچنے والے بھارتی فوجیوں نے مسجد واہگہ کے امام کوعین اس وقت گولیاںمار کر شہید کر دیا جب وہ فجر کی اذان دے رہے تھے۔ امام مسجد اپنے رب کے حضور سرخ رو ہونے کیساتھ پاک بھارت جنگ کے اولین شہیدکے طورپر تاریخ کاحصہ بن گئے۔ جبکہ انکی شہادت پر لکھی گئی رئیس امروہوی کی نظم’’ شہید کی وہ اذاں لاالہ الا اللہ‘‘ بھی تاریخ کا حصہ بن گئی۔ کراچی سمیت سرحد سے دور کے شہروں اور مشرقی پاکستان میں بھارتی حملے کی خبر ریڈیواور دیگر ذرائع سے پہنچی جن میں بی بی سی کا نام اس بنا پر سرفہرست آجاتا ہے کہ بہت سے ملکوں کےمقامی نشریاتی اداروں کا دائرہ محدود تھا۔ ریڈیو پر اعلان ہوا کہ صدر مملکت ایوب خان کا خطاب کچھ دیر بعد نشر کیا جائیگا۔ اس وقت صدر ایوب اپنے دور اقتدار کی کم ترین مقبولیت کی سطح پرتھے۔ کالے قوانین اور انسانی حقوق کے منافی اقدامات کے باعث پیدا ہونے والی بیزاری اس وقت نکتہ عروج پر پہنچ گئی جب انہوں نے اپنے1962میں نافذ کئے گئے آئین کے تحت صدارتی انتخابات میں قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو، جو مادر ملت کہلاتی تھیں،2جنوری 1965ء کے انتخابات میں شکست دی۔ بنیادی جمہوریت کے نظام کے تحت 80ہزار کونسلروں کو انتخابی کالج قرار دے کر بالواسطہ کرائے گئے اس انتخاب کے نتیجے پر عام لوگوں کے تحفظات شدید تھے۔ حبیب جالب کی نظم ’’میں نہیں مانتا ‘‘ اسی دور کے سیاسی رحجان کی عکاسی کرتی ہے۔ مگر ایسے وقت کہ بھارتی فوجوں کے پاکستانی سرحدوں پر حملے کی اطلاعات تھیں قوم کے بوڑھے ،بچے،جوان صدر مملکت کا خطاب کو سننے کیلئے ہمہ تن گوش ہوگئے ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کے مبارک کلمات سے شروع ہونیوالی تقریر کا اختتام ان الفاظ پر ہوا ’’میرے ہم وطنو! آگے بڑھو اور دشمن کا مقابلہ کرو۔ خدا تمہارا حامی وناصر ہو۔آمین، پاکستان پائندہ باد‘‘ تو پوری قوم تمام شکایتیں اور اختلافات بھلاکر ایوب خاں کی آواز سے آواز ملا رہی تھی۔

مشرقی ومغربی پاکستان کے ہر حصے سے تکبیر کے فلک شگاف نعرے بلند ہورہے تھے۔ پوری قوم یوں متحرک ہوگئی جیسے شیر انگڑائی لیکر کھڑا ہوجاتا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح کا بھی ایک بیان آیا جسکا خلاصہ یہ تھا کہ دشمن کے مذموم عزائم ناکام بنا دیئے جائیں، یوں پوری قوم وطن کے دفاع کیلئے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہونے کیساتھ ساتھ حکمرانوں کے ہاتھ بھی مضبوط کرتی نظر آئی۔ 23ستمبر کو سلامتی کونسل کی قرارداد کے بموجب جنگ ختم ہوگئی توحالات معمول پر آنے لگے ۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس وقت کے حکمراں جنگ کے دوران پیدا ہونیوالی یک جہتی کو اپنے مفادات پر فوقیت دیتے اور عوامی رحجانات کو سمجھتے مگر انکا رویہ اس عوامی غصے اور تحریک کا موجب بنا جسکے باعث ایوب خاں کو اقتدار سے رخصت ہونا پڑا ۔ وہ جاتے جاتے ایک اور غلطی کرگئے جسکے نقصانات بعد میں سامنے آئے۔ اگر وہ خود اپنے نافذ کردہ1962ء کے آئین کے تحت اقتدار قومی اسمبلی کے اسپیکر کو منتقل کرکے جاتے تو شاید بعد کی صورتحال بہتر ہوتی۔ 1965کی جنگ نے پاکستانی قوم کو یہ احساس دلایا کہ مشکل وقت میں اختلافات بھلاکر ایک مقصد کیلئے متحد ہوا جاسکتا ہے۔ مئی2025کی(7تا10تاریخ کی) چار روزہ جنگ نے اسی احساس کی تجدید کی اور پاکستانی قوم کو عالمی برادری میں ایک نئے وقار واعتماد کیساتھ نمایاں کردیا۔ آج خطے اور کرہ ارض کے حالات کئی ملکوں میں سنگین بحرانوں کے اشارے دے رہے ہیں تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری تمام سیاسی وسماجی قوتیں باہمی اختلافات پس پشت ڈال کر مشترکہ قومی مقاصد کیلئے مل جل کرکام کرتی نظر آئیں۔

تازہ ترین