• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے قیام کیساتھ ایک نئی ریاست نے جنم لیا، مگر اسے صرف ایک نیا پرچم، نیا آئینی و انتظامی ڈھانچہ اور نئی سرحدیں ہی ورثے میں نہیں ملیں۔ اسے ایک ایسا معاشرہ بھی ورثے میں ملا جو صدیوں سے مذہب، ذات، طبقے اور سماجی حیثیت کی مختلف سطحوں میں بٹا ہوا تھا۔ چنانچہ نئے پاکستان کے سامنے سب سے بنیادی سوالوں میں ایک یہ بھی تھا کہ اس نئی ریاست میں شہریت کا مفہوم کیا ہوگا اور مختلف مذاہب، برادریوں اور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے آپکو اس ریاست میں کس مقام پر دیکھیں گے۔قائداعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی سے اپنے تاریخی خطاب میں اس سوال کا ایک واضح اور اصولی جواب دیا۔ انہوں نے مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ اور شہریوں کی مساوات پر زور دیتے ہوئے ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا جہاں ریاست اپنے شہریوں کیساتھ انکے مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہ کرے۔ یہ خطاب پاکستان کے شہری تصور اور اقلیتوں کے حقوق کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل بن گیا۔ لیکن کسی اصول کا اعلان اور اسے معاشرے میں عملی حقیقت بنانا دو الگ مرحلے ہیں۔ مساوات کا وعدہ اپنی جگہ اہم تھا، مگر نئی ریاست کو ان تاریخی محرومیوں کا بھی سامنا تھا جو صدیوں کے سماجی ڈھانچوں میں گہری جڑیں پکڑ چکی تھیں۔ برصغیر میں ”شیڈولڈ کاسٹس“ کی اصطلاح بھی اسی تاریخی پس منظر میں سامنے آئی۔ برطانوی ہندوستان میں 1935ء اور 1936ء کے ایکٹ کے تحت ان برادریوں کی شناخت اور ان کیلئے مخصوص تحفظات کی قانونی بنیاد قائم ہوئی جنہیں سماجی محرومی، چھوت چھات اور امتیازی سلوک کا سامنا رہا۔ یہاں ایک اہم تاریخی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان میں 1948ء کا شیڈولڈ کاسٹس کوٹہ کسی نئی قانون سازی کے ذریعے اچانک وجود میں نہیں آیا تھا۔ اسکی بنیاد برطانوی ہندوستان کے اس انتظامی اور قانونی ورثے میں موجود تھی جس میں تاریخی طور پر محروم طبقات کی سرکاری اداروں میں نمائندگی کے مسئلے کو پہلے ہی تسلیم کیا جا چکا تھا۔ پاکستان کے قیام کے صرف ایک سال بعد، 19 اکتوبر 1948ء کو ایک اہم انتظامی فیصلہ کیا گیا جس میں آل پاکستان سپیریئر سروسز اور سینٹرل سروسزمیں براہِ راست بھرتی کے ذریعے پُر کی جانیوالی چھ فیصد خالی اسامیوں کو شیڈولڈ کاسٹس کے امیدواروں کیلئے مخصوص کیا گیا۔مگر کسی پالیسی کی اصل کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ نوٹیفکیشن میں کیا لکھا گیا تھا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ اس نوٹیفکیشن کا اثر عملی زندگی میں کہاں اور کتنا دکھائی دیا۔ یہی سوال چند برس بعد خود حکومت کے ریکارڈ میں بھی ابھرتا ہے۔ 30 اکتوبر 1957ء کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ریکارڈ میں نشاندہی کی گئی کہ مخصوص چھ فیصد اسامیاں پوری طرح پُر نہیں ہو رہی تھیں، جسکی ایک بڑی وجہ مطلوبہ قابلیت رکھنے والے امیدواروں کی عدم دستیابی بتائی گئی۔ حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہدایت کی کہ شیڈولڈ کاسٹس کی آبادی والے علاقوں میں سرکاری ملازمتوں کی خالی اسامیوں کی مناسب تشہیر کی جائے تاکہ ان برادریوں کو سرکاری ملازمتوں میں انکی جائز نمائندگی حاصل ہو سکے۔ یہ حکم اپنے اندر آج کیلئے بھی ایک گہرا سبق رکھتا ہےکہ صرف کوٹہ مقرر کرنا کافی نہیں، کوٹے تک رسائی کا راستہ بھی ہموار کرنا پڑتا ہے۔ وقت کیساتھ ملک کا آئینی اور سیاسی نظام تبدیل ہوا، ریاستی ترجیحات بدلیں اور سرکاری پالیسیوں کے رخ بھی تبدیل ہوتے رہے۔ بالآخر 24ستمبر 1996ء کو شیڈولڈ کاسٹس کا چھ فیصد مخصوص کوٹہ واپس لے لیا گیا۔ اسکے بعد شیڈولڈ کاسٹس کے امیدوار اپنے صوبے کے دیگر امیدواروں کیساتھ مقابلے کے عمومی نظام کا حصہ بن گئے۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔20 مئی 2009ء کو وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کیلئے پانچ فیصد کوٹہ مقرر کرنیکا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کو عملی شکل دینے کیلئے 26مئی 2009ء کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا، جسکے تحت وفاقی حکومت کی براہِ راست بھرتی والی ملازمتوں میں پانچ فیصد اسامیاں غیر مسلم اقلیتوں کیلئے مخصوص کر دی گئیں جبکہ اقلیتی امیدواروں کا اوپن میرٹ پر مقابلہ کرنیکا حق بھی برقرار رکھا گیا۔ 2009ء کی پالیسی میں ایک اور اہم اصول بھی شامل تھا۔ اگر کسی بھرتی میں اقلیتی کوٹے کیلئے موزوں امیدوار دستیاب نہ ہو تو ان اسامیوں کو ختم نہیں کیا جانا تھا بلکہ Carry forward کیا جانا تھا، تاکہ آئندہ انہیں اقلیتی امیدواروں سے پُر کیا جا سکے۔ یوں پاکستان کی تاریخ میں ایک دلچسپ مگر غور طلب تسلسل سامنے آتاہے۔ آزادی کے بعد شیڈولڈ کاسٹس کیلئے چھ فیصد مخصوص کوٹہ، 1996ء میں اسکا خاتمہ، اور پھر 2009ء میں تمام غیر مسلم اقلیتوں کیلئےپانچ فیصد وفاقی روزگار کوٹہ۔ کاغذات دیکھیے تو پالیسی موجود ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوٹہ واقعی سرکاری دفاتر تک پہنچا؟ کتنی اسامیاں منظور ہوئیں؟ کتنی خالی ہوئیں؟ کتنی Carry forward ہوئیں؟ اور آج وفاقی حکومت کی ہر وزارت، ڈویژن اور ادارے میں اقلیتی ملازمین کی مجموعی تعداد کتنی ہے؟۔ ایک جدید سرکاری نظام میں یہ اعداد و شمار باقاعدگی سے مرتب اور محفوظ ہونے چاہئیں۔ اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پالیسی تو موجود ہو، مگر اسکے عملی نتائج کے جامع، شفاف اور عوام کے سامنے قابلِ رسائی اعداد و شمار دکھائی نہ دیں۔ آج اقلیتی برادریوں کے نوجوان انجینئرنگ، طب، قانون، آئی ٹی، تدریس، انتظامیہ، تحقیق اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں وہ اپنی قابلیت منوا رہے ہیں اور کسی بھی کھلے مقابلے میں اپنی صلاحیت کے بل پر کامیابی حاصل کرنیکی اہلیت رکھتے ہیں۔لیکن جب ریاست خود کسی تاریخی محرومی کو تسلیم کرتے ہوئے ایک مخصوص کوٹہ مقرر کرتی ہے تو اس کوٹے سے عملی فائدہ اٹھانا بھی انکا جائز حق بن جاتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ، حکومت اور ہر متعلقہ سرکاری ادارہ ایک ہی سوال کا جواب دےکہ کوٹہ کاغذوں میں کتنا ہے اور حقیقت میں کتنا؟ اور اس سوال کا جواب تقریروں سے نہیں اعداد و شمار سے دینا چاہئے۔

تازہ ترین