پاکستان کو درپیش ادائیگیوں کے توازن کا بحران بنیادی طور پر برآمدات میں اضافہ نہ ہونے سے جڑاہے۔ اسکی وجہ سے جہاں ملک میں صنعتی ترقی کا عمل انجماد کا شکار ہے وہیں پہلے سے موجود صنعتیں اور کارخانے بند ہونے سے بیروزگاری میں اضافے کے باعث آبادی کا بڑا حصہ غربت کی لکیر سے بھی نیچے جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ 1960ء کی دہائی میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں برآمدات کا حصہ سات فیصد سے زیادہ تھا جو 2010ءمیں بتدریج اضافے سے 6 . 12فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ تاہم اسکے بعداس عمل میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور اب یہ شیئر دوبارہ کم ہو کر دس فیصد پر آ گیا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ نہیں ہے کہ دنیا میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں کمی آئی ہے بلکہ اس ترقی معکوس کی بنیادی وجہ متضاد حکومتی پالیسیاں ہیں جسکی وجہ سے روپے کی قدر میں بار بار کمی اور ایکسپورٹ پیکیجز دینے کے باوجود برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں ہوا۔ اس عرصے کے دوران خطے کے بہت سے دیگر ممالک کی برآمدات میں پاکستان کی نسبت کئی گنا زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔
اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ 2024ء میں پاکستان کی مجموعی برآمدات کا حجم تقریباً 38ارب رہا جبکہ اسکے مقابلے میں بنگلہ دیش نے 47 ارب ڈالر، ملائیشیا نے 301 ارب ڈالر اور ویتنام نے 429 ارب ڈالر کی اشیاء برآمد کیں۔ اس طرح ملائیشیا کی برآمدات اسکے جی ڈی پی کا 71 فیصد ہیں جبکہ ویتنام کی برآمدات اسکے جی ڈی پی کا 90 فیصد ہیں۔ ان ممالک کے مقابلے میں پاکستان نے برآمدات کو فروغ دینے کیلئے کبھی طویل المدت پالیسی یا فریم ورک تشکیل نہیں دیا بلکہ برآمدی صنعتوں پر پابندیاں اور اضافی معاشی بوجھ ڈال کر مقامی مارکیٹ کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ موجودہ عالمی حالات میں کوئی کاروبار ٹیکنالوجی، معیار، کارکنوں کی تربیت اور بین الاقوامی تقسیم میں سرمایہ کاری کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ تاہم اس کے برعکس پاکستان کی مقامی مارکیٹ کا انحصار اب بھی ٹیرف، ٹیکس میں رعایت، سبسڈی اور ریگولیٹری تحفظ پر ہے۔ اس طرح مقامی مارکیٹ میں کاروبار کرنے والی صنعتوں کو بچانے کیلئے برآمدی صنعتوں کی ترقی کو دائو پر لگایا جا رہا ہے۔ اس سے جہاں درآمدی مشینری، اجزاء، کیمیکلز اور برآمد کنندگان کی جانب سے استعمال کی جانیوالی ٹیکنالوجی کی قیمت بڑھ جاتی ہے وہیں پاکستانی برآمدکنندگان کیلئے عالمی مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک طرف برآمدات میں اضافے کیلئے ویتنام الیکٹرونکس اسمبلی کے اجزا، بنگلہ دیش مشینری اور ٹیکسٹائل ان پٹ درآمد کرتا ہے جبکہ ملائیشیا کی فرمیں سرحد پار سپلائی چین کے اندر کام کرتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں زرمبادلہ کو بچانے کیلئے برآمدات کو درکار درآمدی اشیا کی درآمدات کو محدود کرنے کیلئے بار بار رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ یہ اقدامات عارضی طور پر درآمدات میں کمی کا ہی باعث نہیں بنتے بلکہ برآمدکنندگان کی سپلائی لائنوں کو بھی بند کر دیتے ہیں۔ ورلڈ بینک نے اس پالیسی کو برآمدات مخالف تعصب قرار دیا ہے۔ جی ڈی پی میں برآمدات کا حصہ بڑھانےکیلئے حکومتی سطح پر برآمد مخالف تعصب کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں حقیقی برآمد کنندگان کو پہلے سے ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ادا کیے بغیر تصدیق شدہ ان پٹ درآمد کرنے کی اجازت دینے کے علاوہ ریفنڈز کی مقررہ مدت میں خودکار طریقے سے واپسی یقینی بنانے کے علاوہ ہر سبسڈی، رعایت اور ٹیرف کی سہولت ختم ہو جانی چاہیے جب تک کہ فائدہ اٹھانے والا اضافی برآمدات، پیداوار، سرمایہ کاری یا ٹیکنالوجی کی منتقلی کا عملی ثبوت نہ دے۔ اس طرح حقیقی معنوں میں برآمدات میں اضافے کیلئے کوشش کرنیوالے برآمدکنندگان کی حوصلہ افزائی سے صحت مندانہ مقابلے کی فضا پیدا ہو گی۔
اس حوالے سے طویل المدت پالیسی کے تحت ایک دس سالہ فریم ورک بنانے کی ضرورت ہے جس میں زر مبادلہ کی شرح، ٹیکس، توانائی، درآمدی رسائی اور غیر ملکی کرنسی کے قوانین شامل ہوں۔ علاوہ ازیں روپے کی قدر میں اضافے یا کمی کو مارکیٹ پر مبنی ہونا چاہیے جبکہ تصدیق شدہ برآمد کنندگان کو معیشت کے وسیع درآمدی کنٹرول کی وجہ سے کبھی پروڈکشن ان پٹ سے انکار نہیں کیا جانا چاہیے۔ علاوہ ازیں ہر مالی سال کے بجٹ میں برآمدات سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلیوں کا سلسلہ ختم ہونا چاہئےکیونکہ برآمد کنندگان اسی وقت طویل المدت بنیادوں پر سرمایہ کاری کر سکیں گے جب انہیں یہ یقین ہو گا کہ پالیسیوں میں تسلسل جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو برآمدات پر مبنی بیرونی سرمایہ کاری کے حصول کو اولین ترجیح بنانا ہو گا۔ اس سلسلے میں اسپیشل اکنامک زونز کو سرمایہ کاروں کے آنے سے پہلے بجلی، پانی، کسٹم، لیبارٹریز، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اور قابل نفاذ معاہدے فراہم کرنے کی اہلیت پیدا کرنی ہو گی جبکہ مراعات صرف اعلان کردہ سرمایہ کاری پر نہیں بلکہ برآمدات، تربیت، مقامی سپلائرز اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے مشروط ہونی چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کی صلاحیت کے حامل ویلیو ایڈڈ اور ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، آئی ٹی، اے آئی اور بزنس سروسز، پراسیسڈ فوڈ اینڈ ایگری بزنس، انجینئرنگ گڈز، فارماسیوٹیکلز، میڈیکل پروڈکٹس، سرجیکل اور کھیلوں کے سامان کے کلسٹرز کو مالیات، توانائی اور مارکیٹ تک رسائی کے حوالے سے درپیش رکاوٹوں کو ختم کرنےکیلئے اقدامات ہونے چاہئیں۔ ان اقدامات کے ذریعے برآمدات کو جی ڈی پی کے 10فیصد سے بڑھا کر پانچ سال کے اندر کم از کم 20فیصد اور ایک دہائی کے اندر 30فیصد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کیلئے سیاسی عزم اور قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت تبدیل ہونے سے پالیسیوں کا تسلسل متاثر نہ ہو۔