پٹرول مہنگا ہونے کی جو بھی وجہ ہو، لوگوں کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ اس وقت گاڑی چلانے والا تیل اور کھانا پکانے والا تیل لگ بھگ ایک ہی ریٹ پر جارہے ہیں۔دنیاکتنی انٹرلنک ہے۔دوملکوں کی جنگ میں سب کا بیڑاغرق ہورہاہے۔ یہ جنگ جب بھی ختم ہوگی دنیا زیادہ تیزی سے توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف بھاگے گی۔الیکٹر ک کاریں تو دھڑا دھڑا آہی رہی ہیں اب تو کئی لوکل مکینک پٹرول گاڑیوں کو بھی الیکٹرک میں تبدیل کرنا شروع ہوگئے ہیں بلکہ یہ ٹیکنالوجی موٹرسائیکلوں میں بھی لگنا شروع ہوگئی ہے۔ شکر ہے موسم بدل رہا ہے، آئندہ چند ماہ بجلی کا بل کرنٹ نہیں مارے گا لیکن اگر جنگ تب بھی جاری رہی تو شائدلوگ پٹرول کی بوتلیں بھر بھر کے اپنے بینکوں کے لاکر ز میں رکھوانا شروع کر دیں گے۔اس کمبخت پٹرول کی وجہ سے مہنگائی کا جو طوفان آیا ہوا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مارکیٹ میں لوگ موٹر سائیکل کو لاک کرنے کی بجائے پٹرول کے پائپ کو لاک لگانا شروع ہوگئے ہیں۔ حیرت کی بات مگر یہ ہے کہ سڑکیں اُسی طرح گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے بھری ہوئی ہیں۔ شاید لوگوں کی مجبوری ہے کہ ذاتی سواریوں کے عادی ہوچکے ہیں۔کل پٹرول کے ماروں کا ایک دانشمندانہ اقدام دیکھ کر خوشی ہوئی۔لاہور میں نہر کنارے کافی گاڑیاں ایک طرف لائن میں کھڑی ہوئی تھیں۔پہلے تو لگا کہ شاید کسی شادی میں جانے والے مہمان ہیں لیکن پھر کسی نے بتایا کہ یہ عام گاڑیوں والے ہیں اور سڑک کنارے کھڑے ہیں تاکہ اگر کسی نے نہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے یا درمیان میں کہیں جانا ہے تو چار لوگ مناسب پیسے دیکر بیٹھ جائیں سب کا بھلا ہو جائے۔ موٹر سائیکلوں والے بھی جگہ جگہ یہ پیشکش کرتے نظر آتے ہیں۔ اچھی بات ہے۔ حالیہ مہنگائی کی طوفانی لہر میں بقا کیلئے جو کچھ بھی بن پڑے کرنا چاہئے۔
٭ ٭ ٭
پچھلے دنوں یاسر پیرزادہ کے افسانوں کی کتاب ’کاف کہانی‘ کی تقریب رونمائی میں شرکت کیلئے برادرم وجاہت مسعود اور اجمل شاہ دین کے ہمراہ جہلم جانے کا موقع ملا۔ میں جہلم بک کارنر کے شاہد گگن سے واقف توتھا لیکن انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع پہلی بار ملا۔ نہایت ملنسار اور مہمان نواز شخصیت ہیں۔ کتابوں کو دلہن کی طرح اورادیبوں کو دولہا کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں۔ جہلم کی تاریخی اہمیت پر بھی عبور رکھتے ہیں اور ایک ایک چپے کی تفصیل سے آگاہ ہیں۔ کم وقت میں انہوں نے ہمیں جہلم کے بہت سے حصے دکھا بھی دیے اور بتا بھی دیے۔ بہت کم پبلشرز ایسے ہوتے ہیں جنہیں مل کرمحض کتب فروش کا گمان نہیں ہوتا۔ اُس پبلشر کے کیا کہنے جو خود بھی کتابیں پڑھتا ہو، خود بھی علم کا شوق رکھتا ہوا اور خود بھی ادب کا رسیا ہو۔ آج کل یہی سننے میں آتا ہے کہ کتاب کا دور ختم ہورہاہے لیکن یہاں کا ماحول دیکھ کر ایسا لگا جیسے صرف کتاب کا دور ہی چل رہا ہے۔ گگن صاحب کا نام سن کر سب کے ذہن میں ایک ہی سوال آتاہے کہ اس خوبصورت نام رکھنے کے پیچھے کیا رمز تھی۔ انہوں نے آشکار کیا کہ والد گرامی نے یہ نام ماضی کے معروف گیت’نیلے گگن کے تلے‘ سے متاثر ہوکر رکھا تھا۔ یہاں ’سو لفظوں کی کہانی‘ والے مبشر علی زیدی کی کتاب ’جومیں نے پڑھا‘ دیکھی تو دل مچل اٹھا۔ مبشر زیدی سے کئی باتوں میں مجھے اختلاف ہے لیکن میں ان کی علمی و عملی کاوشوں کابہت معترف ہوں۔ بہت محنتی، بہت عاجز اور بہت ملنسار شخصیت ہیں۔ اُنکی یہ کتاب میں ابھی پڑھ رہاہوں، آدھی سے زیادہ پڑھ لی ہے لیکن تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ انشاء اللہ جب پڑھ لوں گا تب بھی تبصرہ نہیں کروں گا۔
٭ ٭ ٭
اکادمی ادبیات یعنی اکیڈمی آف لیٹرز ادیبوں شاعروں کا ادارہ ہے۔ اس کی چیئرمینی ہر دور میں متنازعہ رہی ہے۔ تازہ ترین غلغلہ یہ ہے کہ اس کا نیا چیئرمین کون ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر نہایت دلچسپ کام شروع ہے۔کچھ انجان اکاؤنٹس سے مختلف شاعروں ادیبوں کی تصاویر اپ لوڈ کرکے زمین و آسمان کے قلابے ملائے جارہے ہیں اور زور ڈالا جارہاہے کہ یہی شخصیت اکادمی ادبیات کے نئے چیئرمین کے لئے بہترین ہے۔کئی لوگوں کو شک ہے کہ اس عہدے کے خواہشمند ادیب خود ہی اپنے حق میں پوسٹ لگا رہے ہیں۔ گویا’خود ہی کو کربلند اتنا‘ والا معاملہ ہے۔ اکادمی ادبیات کی موجودہ چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف ہیں۔آپ محقق ہیں، ادیب ہیں، اُستاد ہیں۔میری ان سے ملاقات تو نہیں لیکن میں ان کے کام سے واقف ہوں۔اکادمی کے بہت سے معاملات کو انہوں نے بہت شاندار انداز میں چلایا ہے، اب ہوسکتاہے وہ چیئرپرسن نہ رہیں لہٰذا ان کی تعریف کرنے میں مضائقہ نہیں۔ویسے وہ برقرار رہ جائیں تو یہ زیادہ بہتر ہے۔نئے چیئرمین جو بھی آئیں ان سے گزارش ہوگی کہ اکادمی کو بیوروکریسی کی طرح چلانے کی کوشش نہ کریں۔ دوردراز کے شاعروں ادیبوں کو بھی ساتھ ملائیں اور بتائیں کہ اکادمی ادبیات اُن کے لیے بھی ہے۔کتنے شاعر ادیب جانتے ہوں گے کہ اکادمی ادبیات کیا کام کرتی ہے؟ فی الحال تو ان کی ویب سائٹ نہیں کھل رہی ورنہ میں بہت سی باتیں وہاں سے دیکھ کربتادیتا۔لیکن ایک عام ادیب لاعلم ہے کہ کسی کی شائع شدہ کتابیں یہ ادارہ کیسے خریدتاہے،ایوارڈ اور انعامات کیسے ملتے ہیں، ممبر شپ کیسے لی جاسکتی ہے، مالی امداد کے مستحق شاعرادیب یہاں سے کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں اورخود کو کیسے اس ادارے سے جوڑا جاسکتا ہے۔ سیکڑوں نہیں ہزاروں ایسے شاعر ادیب ہوں گے جنہوں نے شاید کبھی اکادمی کے دفتر میں قدم تک نہیں رکھا ہوگا۔انہیں بھی بتائیے کہ یہ ادارہ اُن کیلئے کیا کرسکتا ہے۔