حلقہ ارباب ذوق کا اجلاس جاری تھا مرحوم بابا ظہیر کاشمیری صدارت کر رہے تھے جب کہ سعید انجم اپنا افسانہ سنا رہا تھا افسانے کے اختتام پر ظہیر کاشمیری نے کہا ’’خواتین و حضرات اگر کسی صاحب نے افسانہ نہ سنا ہو اور وہ افسانے کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہوں۔ تو فرمائیں‘‘۔ـ مرحومہ ثریا شہاب کی شاعری کی کتاب ’’خود سے ایک سوال‘‘ کے بارے میں بھی میری رائے کچھ ایسی ہی ہے یا لوگ پڑھتےکم ہیں تبصرے زیادہ اگلتے ہیں۔ ویسے اپنی اسی دوست ثریا شہاب کے بارے میں مجھے ایک بات کہنی ہے اور وہ یہ کہ بہت پہلے جنگ کےسنڈے ایڈیشن میں، میں نے آغا ناصر کی یاد داشتیں پڑھی تھیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ـ’’ ثریا شہاب اور اداکار محمد علی شروع سے مجھے پسند تھے میں نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ یہ دونوں ایک دن بڑے آدمی بنیں گے میری بات حرف بحرف درست ثابت ہوئی محمد علی بہت بڑا اداکار بن گیا اور ثریا شہاب نیوز ریڈر ،شاعرہ، صحافی اور ڈرامہ آرٹسٹ بن گئی‘‘۔دراصل آغا ناصر کے اس بے جوڑ تبصرے سے پہلے ثریا کے بارے میں میری رائے بہت اچھی تھی ہم آغا حشر اور (آغا ناصر نہیں) کو ہندو پاک کا شیکسپیئر بھی کہتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم نے دونوں میں سے کسی کو نہیں پڑھا اور اگر پڑھا ہے تو فرق کو نہیں سمجھا ۔یہی وجہ ہے کہ سنتے ہیں پونافلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹیٹیوٹ میں ممتحن کی حیثیت سے جب راجندر سنگھ بیدی نے ایک امیدوار سے سوال کیا۔ آپ کو کون سا مصنف پسند ہے؟تو اس نے آنکھ جھپکے بغیر جواب دیا مجھے دو ہی رائٹر پسند ہیں سر، گلشن نندہ اور شیکسپیئر۔جیسا کہ میں نے اوپر کہا ہے کہ یار لوگ پڑھتے کم ہیں تبصرے زیادہ کرتے ہیں اسی لیے آج یہاں مجھے یہ کہنا ہے کہ آپ ثریا شہاب کی کتاب ’’خود سے ایک سوال‘‘ ضرور پڑھیں ۔
گزشتہ مہینے اس کتاب کی آسٹریا میں ایک تقریب تھی جس میں بہت سے لوگ جمع ہوئے آسٹریا ہی میں بہت سے لوگوں سے ملاقات رہی۔ میرےایک بہت پرانے ہم جماعت اور دوست، جو کہ آسٹرین ہیں ،سے اچانک ملاقات ہو گئی، وہ ان دنوں ویا نا میں اپنا نفسیاتی کلینک چلا رہے ہیں ۔فلم ہدایتکاری کی ٹریننگ لے کر بعد میں ڈاکٹری کی ٹریننگ لینا مجھے کچھ عجیب سا لگا۔ اس نے چھٹتے ہی مجھ سے پاکستان کی سیاسی صورتحال کے بارے میں پوچھا۔ میں نے اپنے حساب سے اسے صورتحال سے آگاہ کیا۔ کہنے لگا فوجی حکومتوں کی وجہ سے تمہاری نفسیات تک تبدیل ہو چکی ہوگی۔ میں نے سوچا اچھا موقع ہے ایک ماہر نفسیات کی حیثیت سے اس کی رائے لی جائے،میں نے کہا’’تھامس مارشل لا زندگی کے تمام پہلوؤں پر اثر انداز ہوتا ہے اس دوران سیاست دان سیاسی کارکن اور اہل فکر نظر مختلف وجوہ کی بنا پر مختلف بیماریوں (نفسیاتی) کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ ایک ماہر نفسیات اور دماغی امراض کے ماہر کی حیثیت سے تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ کہنے لگا’’پیشہ ورانہ اخلاقیات کے حوالے سے میں صاف صاف نہیں بتا سکتا صورتحال کو بیان کر سکتا ہوں، اس میں ذہنی اور جسمانی دونوں بیماریوں کے لاحق ہونے کا خطرہ رہتا ہےـ‘‘ پھر کہنے لگا دیکھو منزل مقصود کو جانے والی راہ یا اس کے حصول کی کوشش رک جائے یا اس میں رکاوٹ پیدا کر دی جائے تو ایسی کوشش کرنے والا نارمل آدمی خاص قسم کے نفسیاتی اور جسمانی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ کسی گروہ جماعت یا سوسائٹی کی بھی ایسی صورتحال میں یہی حالت ہوتی ہے اگر یہ دباؤ زیادہ دیر تک جاری رہے تو اس سے تیزابیت، السر ،بلڈ پریشر، پژ مردگی، ذہنی پریشانی، دل کا دورہ اور دیگر ذہنی امراض جنم لیتے ہیں۔ بعض اوقات ایسے افراد اور گروہ خودکشی تک بھی پہنچ جاتے ہیں اگر کسی فرد یا گروہ کو کسی خاص منصب یا اقتدار کی وجہ سے شہرت ،دولت ،عزت ،طاقت اور خاص مقام حاصل ہو تو اس کے چھن جانے سے اس فرد یا گروہ میں مالی مشکلات اور احساس کمتری جنم لیتا ہے۔ انا مجروح ہونے سے فرسٹریشن جیساتکلیف دہ مرض لگ جاتا ہے کوئی معاشرہ یا گروہ جتنا زیادہ جذباتی اور پس ماندہ ہوگا اس کا جارحانہ رد عمل اتنا ہی شدید ہوگا۔ ترقی یافتہ معاشرہ ایسے جارحانہ رد عمل کو مسترد کر دیتا ہے اس کا اظہار کرنے والے افراد یا گروہ معاشرے کی نظر میں گر جاتے ہیں ۔اس کی مجروح انا بحال ہونے کی بجائے مزید مجروح ہو جاتی ہے۔ ایسے مریض بعض اوقات اپنا غصہ نکالنے کے لیے کسی کمزور طبقہ یا گروہ کو تختہ مشق بناتے ہیں ۔قومی مذہبی اور لسانی تعصبات کو فروغ دیتے ہیں اور کمزور طبقوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔جب ایسے افراد کو کھلے عام اپنے غصے کے اظہار کا موقع نہیں ملتا تو......
میں نے کہا۔’’رک جاؤ تھامس تم اپنے معاشرے کی نفسیات کے حوالے سے مجھے بتا رہے ہو اور میں پاکستانی معاشرے کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں تمہاری نفسیاتی رائے ان پر منطبق نہیں ہوتی‘‘
یہ کہہ کر میں نے مزید کچھ سننے سے انکار کر دیا کہ ہم اپنے مسائل کو اثر انداز ہونے والی قوتوں سے علیحدہ کر کے دیکھنے جانچنے کے عادی ہو چکے ہیں۔