• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیاست کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسکے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ شاید اسی لئے بعض لوگوں کی وفاداری اقتدار کے دروازے تک زندہ رہتی، منصب کی کرسی تک ساتھ چلتی اور مفاد کی آخری قسط وصول ہوتے ہی دم توڑ دیتی ہے۔ ایسے لوگ جماعت میں آکر قیادت کی قربت حاصل کرتے اور ہر فیصلے کی تعریف کرتے ہیں۔ خوشامد کو وفاداری اور ذاتی مفاد کو جماعتی خدمت کا لباس پہنا کر اقتدار کی غلام گردشوں میں جگہ بنالیتے ہیں۔پھر کسی کو وزارت، کسی کو گورنری اور کسی کو وزارتِ عظمیٰ تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ کارکن نعرے لگاتے، دھکے کھاتے اور انتخابی مہم چلاتے ہیں، مگر اقتدار کا پھل مخصوص لوگوں کی جھولی میں گرتا ہے۔ ستم یہ کہ منصب رخصت ہوتے ہی یہی لوگ ٹیلی وژن پر سابق قیادت میں وہ خامیاں تلاش کرنے لگتے ہیں جو اقتدار میں دکھائی نہیں دیتی تھیں۔

مسلم لیگ ن میں شاہد خاقان عباسی نمایاں مثال ہیں۔ نواز شریف نے مشکل وقت میں انہیں وزیراعظم نامزد کیا، مگر بعد میں وہ جماعت کی فیصلہ سازی، بیانیے اور قیادت کے ناقد بن گئے۔ مفتاح اسماعیل کو دو مرتبہ معیشت سنبھالنے کا موقع ملا، لیکن وزارت سے رخصتی کے بعد انہوں نے اسحاق ڈار، معاشی پالیسیوں اور جماعتی فیصلوں پر اعتراضات کیے۔ محمد زبیر کو گورنر سندھ اور نواز شریف و مریم نواز کا ترجمان بنایا گیا، مگر بعد میں وہ مسلم لیگ ن کی حکومت اور حکمتِ عملی پر تنقید کرتے دکھائی دیے۔ چوہدری نثار علی خان کو اہم وزارتیں ملیں، لیکن اختلافات کے بعد انہوں نے نواز شریف کی حکمتِ عملی اور مریم نواز کے سیاسی کردار پر سوالات اٹھائے۔

پیپلز پارٹی میں ذوالفقار مرزا کو سندھ کی وزارتِ داخلہ اور غیرمعمولی اثرورسوخ ملا۔ اقتدار سے الگ ہوکر انہوں نے آصف علی زرداری اور پارٹی پالیسیوں پر ایسی تنقید کی جس نے برسوں کی دوستی کو دشمنی میں بدل دیا۔ تحریک انصاف میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ بعض شخصیات عمران خان کے نام پر وزارتیں اور گورنریاں حاصل کرتی رہیں، مگر مشکل وقت آتے ہی جماعت چھوڑ کر اسی قیادت کو موردِ الزام ٹھہرانے لگیں۔ قوم نام لکھے بغیر بھی انہیں پہچانتی ہے۔ اختلافِ رائے جرم نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ضمیر اقتدار ختم ہونے کے بعد ہی کیوں جاگتا ہے؟ خامیاں وزارت کے دوران کیوں دکھائی نہیں دیتیں؟ جو بات اقتدار میں سرگوشی میں بھی نہیں کہی جاتی، وہ کرسی چھنتے ہی ٹیلیوژن کی سرخی کیوں بن جاتی ہے؟ یہی دوہرا معیار کارکنوں اور ووٹروں کو تکلیف دیتا ہے۔چنیوٹ کے قیصر احمد شیخ کا معاملہ مختلف مگر چشم کشا ہے۔ مسلم لیگ ن نے انہیں بار بار قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا، وفاقی وزیر برائے بحری امور بنایا اور پھر وفاقی وزیر کے درجے کے ساتھ چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ مقرر کیا۔ اسکے باوجود وہ جماعت، حکومتی نظام اور قیادت کے فیصلوں پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ کبھی وزراء کی بے اختیاری، کبھی بیوروکریسی کے غلبے اور کبھی جماعت میں مشاورت اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہیں۔راقم کو بھی متعدد تقریبات اور نجی نشستوں میں قیصر احمد شیخ سے گفتگو کا موقع ملا۔ ان ملاقاتوں میں وہ جماعت کے بعض قائدین اور فیصلوں کے متعلق خاصی سخت زبان استعمال کرتے رہے۔ میڈیا کے سامنے بھی وہ اپنے خیالات چھپاتے دکھائی نہیں دیتے۔ نجی محفل ہو یا ٹیلی وژن کا کیمرہ، قیادت سے ناراضی ان کی گفتگو میں نمایاں رہتی ہے۔

اس داستان کا زیادہ تکلیف دہ پہلو شیخ قیصر محمود جاپان والے ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن جاپان کے صدر اور مسلم لیگ ن اوورسیز کے جنرل سیکریٹری رہ چکے ہیں۔ تقریباً تین دہائیوں تک بیرونِ ملک جماعت کیلئے کام کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا تو بڑے بڑے وفادار خاموش ہوگئے، مگر شیخ قیصر محمود نے بیگم کلثوم نواز مرحومہ کیساتھ جماعت کو متحرک رکھنےکیلئے دن رات کوشش کی۔ اس دور میں جماعتی دفاتر چلانا اور کارکنوں کو منظم رکھنا آسان نہ تھا۔ شائع شدہ ریکارڈ کے مطابق متعدد پارٹی دفاتر کے اخراجات شیخ قیصر محمود برداشت کرتے رہے۔ نواز شریف کی گرفتاری کے بعد بیگم کلثوم نواز سے گفتگو میں انکی آواز کا دکھ اور وابستگی بیگم صاحبہ کو بھی متاثر کرگئی۔ مخدوم جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے زمانے میں ان کے خاندان کی مدد ہو یا بیرونِ ملک جماعت کو زندہ رکھنے کی جدوجہد، وہ محض تصویروں کے نہیں بلکہ مشکل وقت کے ساتھی تھے۔ ان کے قریبی حلقوں کے مطابق مشرف دور میں نواز شریف سے وابستگی کے باعث انہیں گوادر میں تقریباً آٹھ سو ایکڑ زمین کے معاملے سمیت بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

میاں نواز شریف نے2013ء کے انتخابات میں چنیوٹ کی نشست پر شیخ قیصر محمود سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر سیاسی مجبوریوں اور مقامی مصلحتوں کے باعث ٹکٹ قیصر احمد شیخ کو مل گیا۔ شیخ قیصر محمود نے آزاد انتخاب لڑ کر بائیس ہزار کے لگ بھگ ووٹ حاصل کیے۔ ٹکٹ نہ ملنے اور شکست کے باوجود انہوں نے مسلم لیگ ن اور نواز شریف سے تعلق ختم نہیں کیا، بلکہ جماعت کے ساتھ کھڑے رہے اور اندرون و بیرونِ ملک نواز شریف کا نام بلند کرتے رہے۔

سنہ 2022ء میں، جب قبل از وقت انتخابات کی باتیں ہورہی تھیں اور قیصر احمد شیخ کے تحریک انصاف میں جانے کی اطلاعات گردش کرنے لگیں، شیخ قیصر محمود کے حامیوں نے انہیں ممکنہ امیدوار کے طور پر میدان میں لانے کی تیاری کرکے نام درج کرایا۔ جب واضح ہوا کہ مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دوبارہ قیصر احمد شیخ کو ملے گا تو شیخ قیصر محمود نے نام واپس لے لیا، انتخاب نہ لڑا اور جماعتی نظم و ضبط میں رہتے ہوئے مسلم لیگ ن سے وابستگی برقرار رکھی۔ یہی فرق منصب کے خواہش مند اور نظریاتی کارکن کے طرزِعمل کو نمایاں کرتا ہے۔

آج اعلیٰ منصب حاصل کرنیوالے جب اپنی قیادت کیخلاف سخت گفتگو کرتے ہیں تو دکھ صرف قائدین کو نہیں، ان کارکنوں کو بھی ہوتا ہے جنہوں نے بہترین دن، کاروبار اور وسائل جماعت کے نام کیے۔ سیاست میں اختلاف ضرور ہونا چاہیے، مگر احسان کی پہچان، تعلق کا احترام اور مشکل وقت کے ساتھیوں کی قدر بھی باقی رہنی چاہیے۔ ورنہ تاریخ لکھے گی کہ قربانیاں کارکن دیتے رہے، عہدے خوشامدی لے گئے اور اقتدار ختم ہوتے ہی وفاداری بھی رخصت ہوگئی۔

تازہ ترین