جنرل حمید گل اپریل 2015 میں ایک ٹی وی انٹرویو میں یمنی صورِتحال کی پیچیدگی بیان کرتے ہیں کہ امریکہ نے القاعدہ کے خلاف یمن پر ڈھائی سو ڈرون حملے کر کے القائدہ کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا لیکن پھر اچانک امریکہ بوریا بستر لپیٹ کر جبوتی جا بیٹھا۔ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک جال ہے جس میں پاکستان کے دوست (عرب ممالک) پھنس سکتے ہیں اور جو ان کے ساتھ ہوگا وہ بھی۔
1962 سے 1967 تک مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے حوثی قبائل کے خلاف 70 ہزار فوجی بھیجے تھے جو ان سے جنگ لڑ ،لڑ کر کمزور ہو گئے حتٰی کہ جب اسرائیل ان پر بھرپور طریقے سے حملہ آور ہوا تو مصری فوج میں لڑنے کی سکت تک نہ رہی تھی۔ وہ تجزیہ کرتےہیں کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر "شیطن یاہو" انہیں کمزور ہونے پر یعنی نرم کر کے نیمبو کی طرح نچوڑ دے گا۔ ماضی میں بھی مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر مشرقِ وسطیٰ کو اسرائیل کے رحم و کرم پر رکھا گیا اور خلیجی ریاستوں میں آپسی بدگمانی پیدا کر کے انہیں اسلحہ و ہتھیار بیچ کر، اپنے مشیر مسلط کرکے، آپس میں جنگیں کروائی جاتی رہیں۔ جب متحارب ممالک کی معیشت ان بے مقصد جنگوں کے بھار نیچے دب جاتیں تو قرض دے کر انہیں مزید باندھا جاتا ہے حتٰی کہ حکمرانوں میں پر مارنے کی سکت تک نہیں رہتی۔ جنرل حمید گل مسلمانوں کو اشارہ دیتے ہیں کہ باہمی چپقلشوں سے ہم کمزور ہو گئے تو دشمن ہمارا شکار کر لے گا۔ خدانخواستہ!
پاکستان میں سہ ملکی ڈیفنس الائنس کے حوالے سے بہت قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ خصوصاً سعودی عرب اور یمن کی حالیہ کشیدگی سے معاہدے پر ہر کوئی من مرضی کی رائے دے رہا ہے کیونکہ عوام کو معاہدے کے حوالے سے کوئی واضح معلومات میسر نہ ہیں۔ ادھر وزیرِ دفاع نے بیان دیا کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو مکہ معاہدہ فعال ہو جائے گا، تاہم 10 ستمبر کو وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ مکہ معاہدے کے تحت حوثیوں کے خلاف تاحال کسی قسم کی فوجی کارروائی پر بات نہیں ہوئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان پر سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لئے کوئی دباؤ نہیں۔ درحقیقت یہ دباؤ ہمارے اپنے متعصب اور جانبدار حلقوں کی جانب سے ہے جو پاکستان کو حوثیوں سے لڑوانے کے خواہشمند ہیں۔ علاوہ ازیں ہندوستان اور فتنۃ الخوارج کے ہمدرد اور سیاسی جانبدار بھی ہر صورت پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے ازلی دشمن اسرائیل اور ہندوستان بھی اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا کر پاکستان کو حوثیوں سے الجھانا چاہتے ہیں۔ ادھر امریکہ تو ویسے ہی پاکستان کا ناقابلِ اعتبار، عارضی اور سطحی پارٹنر ہے جو کسی بھی لمحے دغا دے سکتا ہے۔ سہ فریقی معاہدہ تینوں فریقین کے دفاع کے لیے ہے۔ اگر آج پاکستان حوثیوں سے سعودیہ کے لئے لڑے گا تو کل سعودیہ اور ترکیہ کو بھی ہماری خاطر ہندوستان سےجنگ کرنا ہو گی۔ یہ بات زیرِ نظر رہے کہ آپریشن سیندور جاری ہے اور سندھ طاس معاہدہ بھی فعال نہیں ہوا جبکہ مسئلہ کشمیر ابھی تک جوں کا توں ہے۔ لگتا ہے کہ یہ معاہدہ ملکوں کی سرحدوں کے اندر بیرونی حملوں سے دفاع کرنے، اسلحہ و ہتھیاروں سے معاونت، عسکری تربیت، دفاعی منصوبہ سازی اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کے لیے ہے۔ بنیادی طور پر پہلا باہمی معاہدہ مسلمانوں کے لئے مقدس اور مقدم سعودی سرزمین کے تحفظ اور اسرائیلی مہم جوئی کے خلاف ہے۔ شمالی یمن کے حوثی قبائل اپنے جغرافیائی محل و وقوع اور عقیدے کے لحاظ سے انتہائی جنگجو قوم ہیں۔ تاریخ دان اس علاقے کو "سربستہ راز" اور فاتحین کا قبرستان کہتے ہیں۔ ماضی کی کئی بڑی سلطنتوں اور حکمرانوں نے انہیں بزورِ شمشیر قابو کرنے کی کوشش کی۔ سلطنتِ عثمانیہ نے دو مختلف ادوار میں ان پر قبضے کی کوشش کی لیکن زیدی قبائل کی مزاحمت کے سامنے ناکامی ان کا مقدر ٹھہری۔ مصر کے جمال عبدالناصر اور یمنی صدر علی عبداللہ نے بھی مسلسل حوثیوں کے خلاف ناکام فوجی مہمات چلائیں لیکن ہر بار حوثی مزید طاقتور ہو کر ابھرتے رہے۔ سعودی عرب اور نوملکی اتحاد سے مسلسل پنجہ آزمائی کے سات سال2015- 2022کے بعد اقوامِ متحدہ نے فریقین میں جنگ بندی کرائی جو جولائی 2026میں ٹوٹ گئی۔ حالیہ حوثی تنازع میں شدت آنے کی دو وجوہات ہیں۔ایک سعودی علاقوں پر حوثی حملے جن کا سعودی فوج بھر پور جواب دے رہی ہےجبکہ دوسری یمن کی تسلیم شدہ حکومت جو حوثیوں سے برسرِ پیکار ہے ۔ 2022 میں یمنی صدر ہادی نے اپنی تمام تر طاقت ایک صدارتی راہنما کونسل کے سپرد کر دی جس کی صدارت اب صدر رشد العلیمی کرتے ہیں۔ اس کونسل کو سعودی عرب کا بھرپور عسکری اور مالی تعاون حاصل ہے۔ سعودی عرب کا مطمعء نظر ایک متحدہ یمن ہے جو اس کی سرحدیں محفوظ رکھ سکے جبکہ سعودیہ کا دیرینہ اتحادی امارات اس کے برعکس دوسرے گروپ ایس ٹی سی کی معاونت کرتا تھا۔ 2025 میں باہمی اختلافات کی بنیاد پر یہ اتحاد ختم ہو گیا، نتیجتاً یمنی فوج کمزور پڑ گئی۔ بالآخر 10 ستمبر کو حوثیوں نے "مخا" بندرگاہ، پیرم جزیرہ، دھوباب، کے علاوہ باب المندب سے جڑتا تمام یمنی ساحل قبضہ کر لیا ہے جو حالیہ کشیدہ حالات میں انتہائی اہم پیشرفت ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اسے کھلوانے کے حوالے سے پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت بھی کروائی لیکن امریکہ نے حسبِ سابق اس کی پاسداری نہ کی۔ باب المندب سعودی عرب سے تیل بردار جہازوں کے لیے دوسری اہم آبی گزرگاہ ہے جس پر حوثیوں نے قبضہ کر کے سعودی عرب کی مکمل ناکہ بندی کر دی ہے۔ ایسے میں 14 ملکی اتحاد فعال ہو جائے گا جس نے اس بحری راستے کا تحفظ کرنا ہے، اس میں پاکستان اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔
اسرائیل ایسے میں خاموش تماشائی بنا اپنی ہی لگائی ہوئی آگ تاپ رہا ہے جبکہ امریکہ نے بھی سعودی عرب کے دفاع سے ہاتھ کھینچ لیے ہیں۔ اس گریٹ گیم کا مقصد مشرق وسطیٰ کو کمزور اور لاچار کرنا، ایران کو تنہا کرنا، ترکیہ اور جوہری پاکستان کو جنگ میں الجھا کر ان سب کا شکار کرنا ہے۔ اسرائیل کو ادراک ہے کہ ایران، ترکیہ اور پاکستان جیسی طاقتوں کی موجودگی میں وہ خطے میں اپنی اجارہ داری قائم نہیں رکھ سکتا۔ ادھر اسرائیل اور ہندوستان بذریعہ افغانستان، پاکستان میں اپنا لچ تلنے سے باز نہیں آ رہے۔ پس اندیشی کے تحت دیکھا جائے تو پاکستان کو مئی 2025 میں امریکہ کے کہنے پر جنگ بندی کے بجائے ہندوستان کی ساری فضائیہ تباہ کر دینی چاہیے تھی۔ بعنیی افغانستان میں بھی دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر مسلسل بنا وقفہ بمباری کی جاتی تاکہ دہشت گرد وقفے کی آڑ میں اپنے ٹھکانے نہ تبدیل کر سکتے۔ ہندوستان اور اسرائیل کی سازشیں ختم ہونے نہیں آتیں جو ہمیں کسی صورت یکسو نہیں ہونے دیتیں۔ اس پر ہر روز ہمارے قیمتی اثاثے، ہمارے بہادر فوجی جوانوں کی شہادتیں، ہمارا مستقل زخم بنتی جا رہی ہیں۔ پاکستان کو اب واقعی ہارڈ اسٹیٹ بننا ہوگا، ہندوستان کے آپریشن سیندور 2,3,4 کا جواب دینا ہوگا۔ ان سب کے خلاف بھی آہنی شکنجہ بننا ہوگا جو ملک کی بقاء و سلامتی سے کھیل رہے ہیں۔
؎سالارِکاراوں ہے میرِ حجازؐ اپنا
اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا