وطن عزیز پاکستان میں پٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر عائد کیا جانے والا ایک ظالمانہ بوجھ ہے ۔ جس کے باعث مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ اس ظالمانہ ٹیکس کو ختم ہونا چاہیے ۔ اس وقت جماعت اسلامی تقریباً ایک ماہ سے لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ، سرگودھا، فیصل آباد، اسلام آباد، راولپنڈی، چترال، دیر، حیدرآباد سمیت پاکستان کے 35 مختلف اضلاع اور مقامات پر پٹرولیم لیوی اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف دھرنے دے رہی ہے، اب توامیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے 20 ستمبر کو اسلام آباد میں بڑے لانگ مارچ کا بھی اعلان کر دیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے دھرنے اور اب اسلام آباد میں لانگ مارچ کی کال عوامی حقوق کی جدوجہد کا تسلسل ہیں۔ اس وقت جماعت اسلامی ہی واحد پارٹی ہے جو عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور جب تک حکومت عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم نہیں کرتی،اس کی یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ جماعت اسلامی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور مذاکرات کو محض لیت و لعل، بہانے اور وقت گزاری کیلئے استعمال کرنے سےباز رہے۔ وگرنہ اس کے نتائج حکومت کو خود بھگتنا پڑیں گے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 45 روپے فی لیٹر اضافہ عوام کے ساتھ سراسر زیادتی اور انتہائی تشویشناک اقدام ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ، بجلی، صنعت، زراعت اور روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں پر پڑتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک طرف عوام کو ریلیف دینے کے دعوے کیے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات پر مسلسل اضافی بوجھ ڈال کر مہنگائی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے بھی نجی دوروں کیلئے سرکاری جہاز کےاستعمال سے حکومتی کفایت شعاری کی دھجیاں اڑ گئی ہیں۔ غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدن کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔ پٹرول کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ بھی عام شہری کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے، جبکہ 45 روپے کے قریب ظالمانہ اضافہ عوام کیلئے ناقابلِ برداشت بوجھ ہے۔ حکومت کو عوام کی مشکلات کا احساس کرنا ہوگا اور محض بیانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لے، پٹرولیم لیوی کا خاتمہ کرے اور عوام کو حقیقی اور فوری ریلیف فراہم کرے۔ جماعت اسلامی کسی سیاسی مفادکیلئے نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق، سستی بجلی، سستا پٹرول، روزگار اور مہنگائی سے نجات کیلئے میدان میں موجود ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے واضح اعلان کیا ہے کہ عوامی احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے عوام کو عملی ریلیف فراہم نہیں کرتی ۔ پٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کو مکمل ختم کیا جائے ۔ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ عوام کی آواز سنے، مطالبات تسلیم کرے اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، بصورت دیگر عوامی ردعمل مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اس وقت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، پٹرولیم لیوی اور مختلف ٹیکسوں کا بوجھ عوام کی معاشی مشکلات میں خطرناک حد تک اضافہ کر رہا ہے۔ ارباب اقتدار نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مہنگائی اور ٹیکسوں کا ایسا بوجھ ڈال دیا ہے جس نے عام آدمی کیلئے زندگی گزارنا مشکل بنا دیا ہے۔ جماعت اسلامی عوام کے حقوق، سستی بجلی، پٹرولیم مصنوعات کی مناسب قیمتوں اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خاتمے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی ۔حکومت کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام اب مزید مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کے کرائے، اشیائے خورونوش، کاروباری اخراجات اور ہر شعبہ زندگی متاثر ہوتا ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی بجلی، گیس، اشیائے ضروریہ اور دیگر بنیادی اخراجات پورے کرنے کیلئے شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ پٹرولیم لیوی اور مختلف ٹیکسوں کے نام پر عوام کی جیبوں پر مسلسل بوجھ ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ۔ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے، مراعات یافتہ طبقے کو دی جانے والی سہولیات ختم کرنے اور معاشی پالیسیوں کا رخ عوامی مفاد کی طرف موڑنے کی ضرورت ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ملک کی معیشت کا استحکام عام آدمی کا خون مزید نچوڑنے سے نہیں بلکہ پیداواری سرگرمیوں، صنعت و تجارت کے فروغ اور منصفانہ ٹیکس نظام سے ہو گا ۔ جماعت اسلامی کی حالیہ کامیاب ہڑتال پر تاجر برادری اور عوام نے اتحاد اور یکجہتی سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ظالمانہ ٹیکسوں اور معاشی ناانصافیوں کیخلاف یک آواز ہیں۔ کامیاب ہڑتال عوام کے جذبات کی واضح ترجمانی ہے اور ہمارے حکمرانوں کیلئے ایک سنجیدہ پیغام بھی ہے کہ اب اسلام آباد کا 20ستمبر کا لانگ مارچ بھی کامیاب ہو گا ۔عوامی مطالبات کو اب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔جماعت اسلامی کا احتجاج کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق اور بہتر معاشی مستقبل کیلئے ہے۔ ہمارا حکمران طبقہ ایسا معاشی نظام تشکیل دے جس میں عام شہری عزت اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے۔