• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شیخ ایاز کی ’’نیل کنٹھ اور نیم کے پتے‘‘والی شاعری کے فلیپ میں فہمیدہ ریاض نے کیا خوب لکھا ہے کہ نیل کنٹھ وہ رنگ برنگا پرندہ ہے جس نے زہر کا گھونٹ بھرا ہے جو اس کے گلے پر نیلی دھاری بن گیا ہے لیکن وہ نیم کے درخت پر پھر بھی نغمہ سرا رہتا ہے۔ فہمیدہ ریاض نے شیخ ایاز کو نیل کنٹھ کہا ہے جو نیم کے درخت پر بیٹھ کر ناانصافیوں کے خلاف ایک تند و تیز احتجاج بن کر سامنے آیا ہے اور اسکی شاعری میں سو رنگ ہیں جن میں کہیں گہرا دکھ، کہیں بھڑکتا غصہ، کہیں کٹیلا طنز تو کہیں تسلی بھری شفقت کے بول موجود ہیں۔یہ صرف شیخ ایاز تک محدود نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو بھی وہی نیل کنٹھ ہیں جو اس ملک کی شب گزیدہ سحر کےمہیب سائے تلے کچلے ہوئے طبقات کا دکھ اور ظلم و جبر کا زہر اپنی گردن میں جذب کرتے رہے پھر دار و رسن اور گرز و آہن کی نذر ہوگئے مگر پھر بھی نعرہ حق بلند کیا۔

یہ سب باتیں میرے ذہن میں اس لئے محو گردش ہیں کہ ان دنوں ایک خاص کتاب زیر مطالعہ رہی۔ یہ کتاب ’’آنسوؤں کی خوشبو ‘‘ ہے جس کے مترجم ہمارے دوست فخر عباس ہیں۔ کتاب کا اصل نام The fragrance of tears ہے اور یہ برطانوی محققہ وکٹوریا سکوفیلڈ کی کتاب ہے اور انہی کی اجازت سے فخر عباس نے اسے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ فخر عباس کے فن و شخصیت پر جسارت بعد میں پہلے وکٹوریا سکوفیلڈ کا تذکرہ جسکی اس شاندار کتاب کو فخر عباس نے ہم سب اردو دان طبقے تک پہنچایا ہے۔

وکٹوریا سکوفیلڈ برطانیہ کی ممتاز محقق، مصنفہ، صحافی اور کشمیر تنازع کی تاریخ کی ماہر ہیں۔ ان کی کئی کتابیں مشہور ہوئیں جن میں مسئلہ کشمیر سے متعلق کتابیں بہت اہم ہیں۔ میرے پاس انکی کتابیں  Kashmir in the crossfire اور Kashmir in conflict کافی عرصہ پہلے سے موجود تھیں اور مسئلہ کشمیر سے متعلق موضوع پر انکی گرفت اور تحقیق بہت شاندار ہے۔ ان کی کتابوں میں جہاں کشمیر کے قضیہ کا تجزیہ ہے وہیں پر گلگت بلتستان کی پوزیشن پر بھی تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ وکٹوریا نے افغانستان، ساؤتھ ایشیااور برطانیہ کی رجمنٹل ہسٹری پر بھی بہت کام کیا ہے۔ ان کی ایک کتاب Bhutto trial and execution بھی پاکستان کی عدالتوں اور اقتدار کی غلام گردشوں میں کی جانے والی سازشوں اور گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتی ہے۔سید فخر عباس سے ہماری شناسائی اس وقت ہوئی جب وہ اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان تعینات ہو کر اسکردو پہنچے۔ علم و ادب کے رسیا فخر عباس نے جلد ہی بلتستان کے شاعر ادیبوں سے دوستی گانٹھ لی اور خوش قسمتی سے ہم بھی ان کی نظر کرم میں شامل رہے۔ لمبا قد ، سانولی رنگت اور ہاتھ میں ہر وقت جلتا سگریٹ اور بات بات پر بلند قہقہہ ان کی خاص نمایاں پہچان تھی۔ فخر عباس کا تعلق پنجاب کے خوب صورت علاقہ جھنگ سے ہے۔ فخر عباس نے اسکردو سے پہلے گلگت ریڈیو اسٹیشن میں بھی بطور پروڈیوسر کام کیا ہے۔فخر عباس فلسفہ تاریخ، ، انگریزی اُردو لٹریچر ، سیاست اور سوشلزم پر کمال کی دسترس رکھتے ہیں ۔ کالج یونیورسٹی دور سے بائیں بازو کی سیاست میں شامل رہے ہیں ، لاٹھیاں کھائیں اور جمہوریت کے حوالے سے ایک خاص نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ وکٹوریا سکوفیلڈ نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم پائی ہے۔ وہ بینظیر بھٹو کی جونیئر تھیں مگر ان دونوں میں محبت اور دوستی کا رشتہ بہت گہرا تھا۔ بینظیر بھٹو 1976میں آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کی صدر منتخب ہوئیں اور یہ جنوبی ایشیا کی کسی بھی طالب علم کا واحد بڑا اعزاز تھا۔ وکٹوریا سکوفیلڈ بھی بینظیر بھٹو کے بعد 1977 میں اسی یونین کی صدر بن گئیں۔ آنسوؤں کی خوشبو اسی آکسفورڈ سے شروع ہوتی ہے جب وکٹوریا سکوفیلڈ پہلی بار بینظیر بھٹو سے ملتی ہیں اور پھر ان ناتمام آنسوؤں پر ختم ہوتی ہے جب گڑھی خدابخش میں وہ ننگے پاؤں بینظیر کے مرقد پر پھول چڑھا رہی تھیں۔ وکٹوریا سکوفیلڈ فخر عباس کی دوست ہیں لہٰذا انہی کی اجازت سے فخر نے  The fragrance of tears کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ ترجمے کے بارے میں یہ بات زبان زد عام ہے کہ یہ وہ شخص کرسکتا ہے جسے بیک وقت دونوں زبانوں پر عبور حاصل ہو۔ لیکن صرف زبان دانی کافی نہیں بلکہ ادبی ذوق بھی بہت اونچا ہونا ضروری ہے اور فخر عباس میں یہ صفات بہ درجہ اتم موجود ہیں۔ یوں اب یہ ترجمہ صرف ایک روایتی ترجمہ نہیں رہا ہے بلکہ لگتا ہے کہ یہ فخر عباس ہی کی معجز بیانی ہے۔ وکٹوریا سکوفیلڈ نے صرف اپنی ایک دوست کی کہانی نہیں لکھی ہے بلکہ پاکستان کی تاریخ کے ایک اہم باب کے خون آلود صفحات کی شیرازہ بندی کی ہے۔اس کتاب میں جہاںآکسفورڈ یونیورسٹی کے دنوں کی نٹ کھٹ، یونین کی صدارت کے لئے لابنگ، مختلف مباحثے اور بے فکری کے دنوں کا تذکرہ ملتا ہے وہیں پر پاکستان کی فضا میں1977 کے دوران چھائے کالے بادلوں اور پھر خرمنِ جمہوریہ پر بجلی گرنے کی روداد پڑھنے کے لائق ہے۔ ایک تنہا لڑکی کی، جس کا باپ ملک کا مقبول منتخب وزیراعظم تھا اور پس دیوار زنداں تھا اسے انصاف دلانے کے لئے کی گئی، آبلہ پائی کو آنسوؤں کی روشنائی سے لکھا ہے۔ وکٹوریا پاکستان آتی جاتی رہیں اور وہ بھٹو صاحب کے ٹرائل اور عدالتی قتل کی چشم دید گواہ تھیں ۔ انہوںنے ایک نہتی لڑکی کے باپ کی المناک موت کا غم سہنے اور ملک کی بدترین ڈکٹیٹر شپ سے مقابلہ کرنے کی روداد نہایت سچائی کے ساتھ بیان کیا ہے۔

غرض آنسوؤں کی خوشبو ذاتی تعلق کی ایک ڈائری نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے وہ اوراق ہیں جو ’’یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر‘‘کی داستان بیان کرتے ہیں۔

تازہ ترین