• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابھی تک قوم کراچی کے گُل پلازہ کے حادثے کے غم سے باہر نہیں نکل پائی تھی کہ اسلام آباد کے پِمز ہسپتال میں ظالم آگ نے 14معصوم ہم سے چھین لیے۔ دل دہلا دینے والے دونوں واقعات میں تین باتیں مشترک ہیں۔ایمرجنسی راستے میسر نہیں تھے، مقامی طور پر آگ پر قابو پانے کیلئے ساز و سامان موجود نہیں تھا اور فائر بریگیڈکو دیر سے اطلاع دینے کی مجرمانہ غفلت برتی گئی۔یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کراچی میں اتنا بڑا واقعہ ہوا تھا تو سارے ملک میں متعلقہ محکمے حرکت میں آ گئے تھے کیا؟ تمام کمرشل اور پبلک بلڈنگز کو فائر فائیٹنگ اور فائر سیفٹی کے اصول و ضوابط کے مطابق بنا دیا گیا تھا کیا؟اِس سوال کے جواب میں ہی اصل داستانِ ظلمت پنہاں ہے۔سانحہ گل پلازہ کے بعد تو کیا سانحہ پِمز کے بعد بھی متعلقہ اداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ یہ ادارے نااہلی کا مظہر ہیں۔ قدرت کی طرف سے اتنی بڑی تنبیہ ہو جانے کے باوجود ملک کے کسی حصے میں بھی معاملات درست کرنےکیلئے ہلچل نہیں مچی۔ چونکہ ہر جگہ صورتحال برابر ہے۔ اسلئے میرے مشاہدے میں آنے والے کیسِز میں سے لاہور کی ایک مثال سے بات واضح ہو جائے گی۔ میری رہائش کے پاس واقع ایک پانچ منزلہ کمرشل عمارت میں صرف ایک چھوٹا سا دروازہ ہے جس میںدو افراد کاندھے سے کاندھا ملا کر بہ یک وقت نہیں گزر سکتے۔ اِس بلڈنگ کے تین اطراف میں پرائیویٹ رہائش گاہیں ہونے کے ناطے اُس طرف کسی قسم کا ایمرجنسی دروازہ یا کھڑکی ممکن ہی نہیں۔ اِس لیے اِس کا نقشہ قوانین کے مطابق تو پاس ہو نہیں سکتا تھا۔ یقیناََکسی نے رشوت دیکر پاس کرایا ہو گا۔ اِس بلڈنگ میں آگ بجھانے کے انتظام کا نام و نشان تک نہیں اور راستے اتنے تنگ ہیں کہ خدا نا خواستہ اگر تمام متعلقہ افراد کی موجودگی میں آگ بھڑک اٹھے تو بھگدڑ میں کُل سَو افراد میں سے اکثریت ایک دوسرے کے اوپر ،سیڑھیوں سے گر کر اوردھوئیں میں دم گھٹنے سے مر جائیں۔ چونکہ بلڈنگ کے مالکان کے پولیس کیساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں اسلئے یہاں سیاہ ہو جائے یا سفید انہیں نہ کسی نے ماضی میں پوچھا ہے اور نہ ہی وہ مستقبل میں متعلقہ اداروں کے سامنے جواب دہ ہونگے۔

ہمارے ملک میں فائر فائٹنگ ڈرلز اور ریہرسلز کا تو تصور ہی نہیں۔ اِن دو سانحات کے بعد بھی ہسپتالوں میں ڈرلز کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ متعلقہ ادارے یہ شروع نہیں کروائیں گے تو عملے کی یہ تربیت کون کرے گا؟ جب بھی کسی معاملے کو بہتر بنانے کی تجویز دی جاتی ہے تو بیوروکریسی کا بہانہ ہوتا ہے کہ ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے ہمارے پاس وسائل نہیں۔ کروڑ روپے ایک نرس کو دیکر یہ بہانہ بھی وزیرِ اعظم نے ختم کر دیا ہے۔جس نرس کی تنخواہ ایک لاکھ تیس ہزار روپےماہانہ سے زیادہ نہیں اُس کو ایک بچہ بچانے پر جو حقیقت میںاُس کی ڈیوٹی تھی۔ اگر پانچ لاکھ روپےانعام دے دیا جاتا تو بھی مناسب تھا۔ تاہم دس لاکھ روپےسے زیادہ کا جواز تو تھا ہی نہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس مغرب کےترقی یافتہ ممالک سے بھی زیادہ وسائل ہیںکیونکہ وہاں پر اگر کوئی ملازم ایسا کام کرے جو کرنے کی وہ تنخواہ لیتا ہے تو اُس پر اسطرح بادشاہوں کی طرح پیسوں کی بارش نہیں کی جاتی۔ ساتھ ہی اس نرس کو ستارہ خدمت دینے کا فرمان بھی جاری ہوا ہے۔ مزید یہ کہ چند گھنٹوں کی عمر کے 14بچوں کی وفات پر ان کے والدین کو چیک بھی پیش کیے گئے۔ اتنا غیر ضروری انعام و اکرام نچھاور کرنے کا واحد مقصد ہے عوام میں حکومتی امیج بہتر کرنا ! لیکن اس کُل انعام کی رقم کے نصف سے بھی کم یعنی صرف پچاس لاکھ ہی اگر پِمز کا نظام بہتر کرنے پر خرچ کیے ہوتے تو یہ سانحہ پیش آتا ہی نہیں۔

اسلام آباد وفاقی ٹیریٹری ہونے کے ناطے یہاں کے ادارے ڈائریکٹ وفاقی کابینہ کے ماتحت ہیں۔ اِس سانحہ سے پہلے وفاق نے پِمز کا سسٹم بہتر کیوں نہیں کیا؟ اب وفاقی وزیرِ صحت مصطفٰی کمال پِمز میں میٹنگز کی صدارت کرتے ہوئے تکنیکی عملے کی کمی پوری کرنے کے احکامات جاری کرتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے اس سے پہلے اپنی یہ ذمہ داری کیوں نہیں نبھائی؟ اب فیڈرل سیکرٹری صحت کو ہٹایا گیا اور پِمز کے آٹھ آفیسرز کو معطل کیا گیا۔ وفاق نے اِس سانحہ سے پہلے کرپٹ اور نااہل آفیسرز کے بارے کیوں نہیں پتا کیا؟ وفاقی وزیرِ صحت نے پچھلے اڑھائی سال میں جتنا وقت کراچی کے ہر محلے میں جا کر تقریریں کرنے پر خرچ کیا جو انکی ذمہ داری نہیں تھا ، اگر اس کا آدھا وقت بھی اپنی وزارت چلانے پر خرچ کرتے تو شاید انکو اِس حادثے سے پہلے علم ہو جاتا کہ انکی ناک کے نیچے نااہلی اور کرپشن ہو رہی ہے۔ Over Invoicing کر کے نرسری کیلئے غیر معیاری سازوسامان خریدا گیا جو آگ لگنے کا باعث بنا اورسفارش پر تعینات ہوئے نااہل عملے کیوجہ سے آگ لگنے کے بعد سنبھالی نہ گئی۔ انتہائی مضحکہ خیز حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد جیسی مرکزی جگہ کے اِس سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کے سیکورٹی عملے ، آفیسرز اور ماتحتوں میں سے کسی کو بھی فائر بریگیڈ کا فون نمبر ہی معلوم نہیں تھا ۔پِمز وفاقی کابینہ کے ماتحت ہونے کے ناطے یہاں وزیر داخلہ کا کردار بھی بنتا ہے۔ کیا وہ بتائیں گے کہ اگر پاکستان میں انکی خواہش کے مطابق تیس پینتیس صوبے ہوتے تو وفاقی کابینہ بہتر کام کرتی اور 14 معصوم جانیں ضائع ہونے کا ہولناک حادثہ نہ ہوتا؟

تازہ ترین