سو رج قضا ہو رہا تھااجا لو ں کے شکستہ ارمان شام کے شبستانوں میں تحلیل ہونے لگے تھے، سورج کی کرنیں اپنا دن بھر کا دفتر لپیٹ کر ملگجی اندھیروں سے لپٹ رہی تھیں ،مد بھری شام کی خا موشی کئی رنگوں میں ظاہر ہو رہی تھی، بے کراں نیلگوں آسمان پر شام کے مہیب سائے خنک اور پر کیف تھے ۔اسی رنگین شام کی مخملی رداؤں پر خراماں خراماں چلتے ہوئے میں آرٹس کونسل ملتان پہنچا تو نہایت سنجیدہ اور پرو قار مجمع منتظر تھا ۔گورنر پنجاب کے مشیرسلیم الرحمن میو خو ش دلی سے منعقدہ تقریب کے وسیع ہال میں لے گئے یہ ملتان کی سیا سی و سما جی تنظیم کی جانب سے منعقد کی گئی ایوارڈ تقریب تھی جس میں تنظیم کے بانی و چیف آرگنا ئزر سلیم الرحمن میو نے اس نا چیز کو بہترین صحا فتی ایوارڈ دینے کیلئے مدعو کیا تھا۔ دورانِ تقریب مو ضو ع ِ گفتگو کبھی یہ نا چیز ٹھہرتا اور کبھی بھرے مجمع میں سے ملتان کو نیا صوبہ بنا نے کی با زگشت سنا ئی دیتی ، جو ں ہی آنے والا مقرر ملتان کو نیا یو نٹ بنانے اور ملتان کے حقو ق کی استحصالی کی با ت کرتا تو ہال تا لیو ں سے گو نج اٹھتا تھا۔ مقررین کے تر کش کے تیر با رہا میری جانب بھی لپکے جن کا یہی مطالبہ تھا کہ میں واپس جا کر بذریعہ کا لم ان کے آ ئینی حق کی ما نگ وزیر اعلیٰ پنجا ب کے گو ش گزار کرو ں بہترین صحا فتی ایوارڈ دیتے ہو ئے سا بق وزیر اعظم یو سف رضا گیلا نی کے بھا ئی اور گیلا نی خا ندان کے سربراہ مخدوم گیلانی نے بھی مجھ سے اس با ت کا پرزو ر مطا لبہ کیامیں نے ان سب کو مکمل یقین دہا نی کر وائی کہ میں ضرور اس موضو ع پر طبع آزمائی کروں گا۔ یہ رواں سال ماہ فروری کی بات ہے ملتان والوں کی بے مثل محبت ابھی تک قلب و ذہن کو مسحور کئے ہوئے ہے مگر شب وروز کی مصروفیات میں یو ں الجھا کہ ملتا نیوں کا مطالبہ بالائے طا ق رکھا رہا لیکن حالیہ دنو ں میں قومی سطح پر نئے یو نٹس کے قیا م کے پر زور مطا لبے نے اہل ملتا ن کے سا تھ کئے گئے عہد کہن کو عملی شکل میں بد ل دیا کیو نکہ پا کستان میں پہلی با ر حکو مت ہی نہیں بلکہ پورا نظام سلطنت قومی مطالبات کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے دیئے گئے حالیہ بیان کے بعد نئے صوبوں یا خود مختار یونٹس آرٹیکل 40Aمیں ترمیم اور اس کی واضح تشریح کا مطالبہ اب زبان زدِعام ہوچکا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں آئینی ماہرین اور دانش وراس نکتے پر متفق ہیں کہ صوبوں کا قیام اور انتظامی یونٹس کی تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے۔ شاید پاکستانی سیاست بھی نئے عہد میں داخل ہو رہی ہے کیونکہ کئی دہائیاں گزرنے کی بعد یہ احساس تواناہوتا جا رہا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام اس شکل میں چلنے سے قاصر ہے جسکی بڑی وجہ شاید ان دنوں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت کو سمجھا جا رہا ہے ۔
مگر اس بات سے انحراف بھی کسی طور نہیں کیا جاسکتا کہ انتظامی بد حالی بیڈ گورننس یا بار ہا کئے گئے ناکام تجربات نے بھی وطن عزیز کے بخیے ادھیڑ ڈالے۔ ضروری تھا کہ ہر دور میں سیاسی استحکام اور جمہوریت کو فروغ دیتے ہوئے گڈگورننس اور قومی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تعلیم ،صحت اور انصاف کو اولین تر جیح دی جاتی انتظامی طور پر ہر لحاظ سے ایڈمنسٹر یٹو یونٹس قائم ہوتے اور بنیادی حقوق شہریوں کی دہلیز پر مہیا کئے جاتے ۔بنیادی مسئلہ آئے روز بڑھتی ہوئی غربت کی شرح ہے اقوام متحدہ کی 2026کی ریورٹ کے مطابق سائوتھ ایشیا میں اشیائے خورونوش پاکستان میں سب سے سستی ہیں لیکن انتہائی کم پاکستانیوں کے پاس اسکی قوت خرید موجودہے گزشتہ برس 16کروڑ پاکستانی ایک وقت کا معیار ی کھانا بھی نہیں کھا سکتے تھے اس کے برعکس مجموعی طور پر دنیا بھر میں بھوک کم ہورہی ہے ۔موجودہ حالات میں پاکستان کو بہت سارے چیلنجز در پیش ہیں سب سے بڑا چیلنج صوبوں کی تشکیل نوکا ہے کیونکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں اور آزاد کشمیر میں بھی امن وامان کی صورتحال تشویشناک ہے۔ ایسے دگر گوں حالات میں آئینی و سیاسی مبا حثے کو نقطہ موضوع تصو ر کرنا دانش مندانہ فیصلہ نہ ہو گا ۔وطن عزیز اگر چہ انتظامی بدحالی کا شکا ر ہے مگر اس کا حل شاید نئے صوبوں کو تشکیل دینا نہیں ہے بلکہ مقا می حکو متو ں کا قیا م ہے جنہیں مضبوط اور با اختیار بنا یا جا ئے اور انہیں ہر لحاظ سے آئینی تحفظ فرا ہم کیا جا ئے۔ اس سے کسی طور بھی اختلا فا ت نہیں کہ اگر ڈویژنوں کو صوبے بنا دیا جا ئے تو شا ید بنیا دی حقو ق شہریوں کی دہلیز پر پہنچیں اور امور مملکت بہتر طریقے سے انجام پذیرہو سکتے ہیں۔ اس با ت سے بھی ہر گز اختلا ف نہیں کہ بلو چستا ن رقبے کے لحا ظ سے اور پنجا ب آبا دی کے اعتبار سے دنیا کے کئی ممالک سے وسیع ترہیں جغرا فیا ئی حقائق کے اعتبا ر سے دیکھا جا ئے تو نئے صوبو ں کا قیا م ملک و ملت کے مفا د میں بہتر ہو سکتا ہے لیکن خدشہ یہ ہے کہ بعدازاں بھی اگر انتظامی بدحالی قائم رہی تو پھر کیا ہوگا۔