پاکستان کی سیاست میں ’’دھرنا ‘‘ اب محض احتجاج کا ایک طریقہ نہیں رہابلکہ سیاسی دبائو بڑھانے کا ایک موثر ہتھیار بن چکا ہے۔مہاتما گاندھی نے دھرنا ایجاد نہیں کیا18ویں صدی کے اواخر میں بنارس کے حوالے سے دھرنے کی باقاعدہ تاریخی تفصیل ملتی ہے جہاں کوئی شخص دوسرے شخص کے دروازے پر بیٹھ کر اپنا مطالبہ منوانے کی کوشش کرتا۔ قدیم ہندوستان میں بالخصوص برہمنوں اور مقروض سے رقم یا انصاف حاصل کرنیوالے افراد کے دھرنے کی روایات ملتی ہیں۔ البتہ مہاتما گاندھی نے دھرنے ، ہڑتال ، بائیکاٹ ، مرن برت اور عدم تشددکو اپنی’’ ستیہ گرہ تحریک‘‘ کا حصہ بنایا 1917ء کی چمپارن تحریک گاندھی کی ہندوستان میں پہلی بڑی ستیہ گرہ سمجھی جاتی ہے ۔جماعت اسلامی کا قیام 26اگست1941ء کو گنتی کے چند افراد کے اجتماع میں عمل لایا گیا جماعت اسلامی کی بنیاد اسلامی نظام کے نفاذکیلئےرکھی گئی ۔ سید ابوالا علی مودودیؒ سے لے کر حافظ نعیم الرحمنٰ تک جماعت اسلامی کے6امراء کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کی85سالہ تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی اس کا نظم و ضبط ہے۔ جماعت اسلامی نے قاضی حسین احمد کی امارت میں دھرنے کی سیاست کا آغاز کیا پھر جماعت اسلامی کی دیکھا دیکھی دیگر جماعتوں نے بھی دھرنے دینا شروع کر دئیے ،تاہم جماعت اسلامی کا طرہ امتیازاس کا ڈسپلن ہے۔ پاکستان میں جماعت اسلامی نے مہنگائی ، بجلی کے بلوں ، کرپشن ، کشمیر ، فلسطین سمیت دیگر قومی مسائل پر لانگ مارچ کئے اور دھرنے دئیے۔جماعت اسلامی کے بعد جمعیت علماء اسلام دوسری بڑی جماعت ہے جسکے دینی مدارس سیاسی قوت ہیں۔ جماعت اسلامی کے دھرنوں کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ جماعت اسلامی ایشوز پر دھرنے دیتی ہے۔پی ٹی آئی کا شمار ملک کی بڑی جماعتوں میں ہوتا ہے۔اس جماعت نے عمران خان کی قیادت میں 126دن تک دھرنا دیا لیکن آج ملک کی سب سے بڑی جماعت ہونے کی دعویدار اپنے لیڈر کی رہائی کیلئےموثر احتجاج نہیں کر سکی۔ 27ستمبر2026ء کو20لاکھ افراد کے سیاسی لشکر کی اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان تو کیا گیا لیکن اگر پی ٹی آئی اڈیالہ جیل کے باہر ایک لاکھ پر امن لوگوں کا خاموش احتجاج کرے تو حکومت پی ٹی آئی کے سامنے سرنڈر کرنے پر مجبور ہو جائےلیکن پی ٹی آئی جماعت اسلامی جیسا پر امن احتجاج کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان کی سیاست میں دھرنے نے اب باقاعدہ سیاسی حکمت عملی کی شکل اختیار کر لی ہے اگر کوئی جماعت پارلیمنٹ میں کمزور ہو تو وہ سڑکوں پر اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرتی ہے ۔ اپوزیشن حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے اسلام آباد کے ریڈ زون کارخ کرتی ہے۔جماعت اسلامی کے احتجاج کی یہ خوبی رہی ہے اس نے دھرنے کی آڑ میںشاہراہیں مکمل طور بند کرنے سے گریز کیا ہے اور اپنے احتجاج کو ایک مدت تک محدود کرنے کی کوشش کی ہے اسے ستم ظریفی کہیے یا کچھ اور جماعت اسلامی کی طرف سے پٹرول کی قیمتوں اضافے بالخصوص پٹرول میں لیوی شامل کرنے کیخلاف احتجاج کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے طنز کے تیر چلائے جا رہے ہیں ۔بعض سیاسی جماعتیں جو بڑی جماعتیںہونے کی دعوے دار ہیں سیاسی مارکیٹ سے غائب ہونے کی وجہ سےغیر موثر ہو رہی ہیں جبکہ جماعت اسلامی نے دھرنا کو صرف حکومت مخالف احتجاج تک محدود نہیں کیا بلکہ اس نے یہ ثابت کرنے کی موثر کوشش کی ہے کہ میدان سیاست میں ہم ہی موجود ہیں ۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پاکستان کی کئی بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں جماعت اسلامی کا ووٹ بینک محدود ہے لیکن اس کی تنظیمی طاقت پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے ۔ 18اپریل 2024ء کو حافظ نعیم الرحمٰن نے جماعت اسلامی کے چھٹے امیر کی حیثیت سے حلف اٹھا یا تھا پچھلے سوا دوسال کے دوران شاید ہی انہوں نے کوئی دن اپنی فیملی کے سا تھ سکون سے گزارا ہو وہ حلف اٹھانے کے بعدسے ’’حالت جنگ ‘‘ میں ہیں انہوں نے اپنی تمام تر توجہ جماعت اسلامی کی عوامی سطح پر مقبولیت میں اضافے پر مرکوز کر رکھی ہے،انہوں نے دھرنے کی سیاست کو انتخابی سیاست میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔وہ اپنی کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں اس بارے میں سردست کچھ کہنا مشکل ہے البتہ اس سوال کا جواب آئندہ انتخابات میں ہی مل سکے گا۔موجودہ انتخابی قوانین میں ایک ایسی جماعت جو پورے ملک میں اپنا وجود رکھتی ہے متناسب نمائندگی کے ذریعے پارلیمنٹ میں خاصی تعداد میں نمائندگی حاصل کر سکتی ہے ۔ جماعت اسلامی کیلئے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے احتجاجی بیانئےسےکس حد تک سیاسی ثمرات سمیٹنے میں کامیاب ہوتی ہے۔پچھلے سوا دو سال کے دوران جماعت اسلامی کی احتجاجی سیاست کو میڈیا کی طرف سے نمایاں کوریج ملی ہے لیکن اس کامیابی کا اصل پیمانہ آئندہ انتخابات ہی ہیں۔ دھرنا مطالبات منوانےکیلئےایک کامیاب ہتھیار ضرور ہے جو حکومت کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے پر مجبور کر سکتا لیکن یہ مستقل سیاسی پروگرام نہیں ہوتا دھرنے کی سیاست پر کسی سیاسی جماعت کے بے پناہ مالی وسائل خرچ ہو تے ہیں۔ سراج الحق نے اپنی سبکدوشی کی تقریب میں تاریخی جملہ کہا تھاکہ ’’ وہ جماعت اسلامی کی امارت اپنے سے بہتر شخص کے حوالے کر رہے ہیں ‘‘حافظ نعیم الرحمٰن نے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد کارکنوں کو ’’فارم47کی مسلط کی گئی حکومت کے خلاف بڑی تحریک برپا کرنے کا پیغام دیا تھا سو وہ اس پر عمل پیرا ہیں ۔ ‘‘حافظ نعیم الرحمٰن کی سیاسی ٹیم میں لیاقت بلوچ ، فرید پراچہ ، نذیر جنجوعہ اور شکیل ترابی سمیت دیگر رہنما دھرنے کی سیاست کو اجاگر کرنے میں پیش پیش ہیں۔ سیاسی موسم گرم ہو یا سرد جبرکا ماحول ہویا مارشل لاکے ذریعےجماعت اسلامی پر پابندی عائد کر دی گئی ہو جماعت اسلامی کا شیرازہ کبھی بکھرا اور نہ ہی دھڑے بندی ہوئی۔ جماعت اسلامی کا امیر 5سال کے منتخب کیا جاتا ہے جس قدر امیر باختیار ہوتا ہے اسی قدر جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے سامنے بے بس ہوتا ہے۔جماعت اسلامی نےکبھی قدامت پسندی پر معذرت خوانہ طرز عمل اختیار نہیں کیا جماعت اسلامی نے ہی نے ’’سرخ انقلاب‘‘ کے مقابلے میں ’’سبز ہے ایشیا سبز ہے‘‘ کا نعرہ متعارف کرایا خطے کی بدلتی صورتحال نے ان دونوں نعروں کی شدت میں کمی تو پیدا کر دی ہے لیکن آج بھی بائیں بازو کی باقیات جماعت اسلامی کو ہی اپنا سب سے بڑا مخالف سمجھتی ہیں۔