چہار سو نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کی ہی تکرار ہے، پہلے آپ یہ سوچئے تو سہی کہ یہ کس کی حکومت ہے اور کس کا اقتدار ہے، کس کا اختیار ہے اور نئے صوبے ،نئے صوبے جیسے یہ جو اسباق ہیں، مقتدر حلقوں یا صاحبان سیاست و جمہوریت میں سے کس کی پکار ہیں۔ اگر ہم آئین سے پوچھیں تو 1973ء کا پہلا متفقہ آئین بھی سبھی صوبائی اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت کے بغیر اس اکھاڑ پچھاڑ کی اجازت نہیں دے گا، ماضی میں ہماری تمام سیاسی جماعتیں صوبائی خود مختاری کیلئے متحد ہوئی تھیں اور اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو ایک اہم آئینی حیثیت حاصل ہوئی اور اختیار بھی، آخر ایسا کیا ہوا کہ اچانک ہم ایک ہی بات پہ اڑ گئے ہیں اور بنام انتظامی یونٹس چھوٹے صوبے بنانے میں پڑ گئے ہیں۔ ہم نے سب سے پہلےدیکھنا اور سوچنا یہ ہے کہ اس گلشن میں خزاں ہے یا بہار ہے۔ غربت، مہنگائی و بے روزگاری ہے، معیشت درست کرنے میں حکومت ناکام ہے، یہ سارا سیاسی سسٹم ہی بے بیانیہ بلکہ بے کار ہے، نوجوان بسلسلہ روزگار باہر بھاگ رہے ہیں کیونکہ ملک میں کوئی نوکری ہے نہ کاروبار ۔ اب آپ ہی بتائیں کہ کیا نئے انتظامی یونٹس یا چھوٹے صوبے بنانے کیلئے یہ ماحول ساز گار ہے۔؟ خبر چھپی ہے کہ بجلی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے صارفین پر 12ارب 66 کروڑ کا بوجھ پڑے گا، دوسری جانب پیٹرول 12 روپے 90 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ عالمی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ نے دو نفسیاتی حدیں کھو دیں، سرمایہ کاروں کے 194ارب روپے ڈوب گئے، ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں بے یقینی اور تیل مہنگا ہونے کے باعث یہ دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ابھی برقرار ہے۔ وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں حکومتی نظام، بیوروکریسی اور کرپشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’’کوشش پوری کرتا ہوں لیکن تکلیف میں ہوں، میں نتائج نہیں دے پا رہا، کئی بار سنجیدگی سے وزارت چھوڑنے کا سوچا، میں نے اپنا 60 سالہ تجربہ بھی استعمال کیا لیکن یہاں ہر لیول پر کرپشن ہو رہی ہے، میں پوری محنت کے بعد جب آگے بات کرتا ہوں تو بیوروکریٹس اس پر عمل ہی نہیں کرتے‘‘۔ حکومتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اس ملک میں حکومتیں تو بدلتی ہی رہی ہیں لیکن غریب عوام کی حالت میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘۔ سانحہ پمز کے زخم ابھی تازہ ہیں، ابھی ان 14 معصوم بچوں کے کفن بھی میلے نہیں ہوئے تھےکہ لاہور کے ایک ہسپتال میں بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آگیا، اللہ کا شکر ہے انسانی جانیں بچ گئیں، تھر پارکر کے سول ہسپتال مٹھی میں 8 ماہ کے دوران 480 نومولود بچوں کی اموات کا انکشاف ہوا ہے، ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق 480 بچے جانبر نہ ہو سکے جبکہ 106 بچوں کو مزید علاج کیلئے دوسرے ہسپتال منتقل کیا گیا، ہسپتال انتظامیہ نے مختلف بیماریاں اور غذائی قلت بچوں کی اموات کی وجوہات بتلائی ہیں۔ پاکپتن کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں آکسیجن نہ ملنے اور عملے کی مبینہ غفلت کی نتیجے میں 20 بچوں کی اموات کا ایک مقدمہ 5 جولائی 2025ء کو اس وقت درج کیا گیا جب وزیراعلیٰ پنجاب نے ہسپتال کا دورہ کیا اور لوگوں نے شکایات کے انبار لگا دئیے، جس پر وزیراعلیٰ نے دونوں ملزمان کو موقع پر ہی گرفتار کرا دیا تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سنائے گئے اس کیس کے فیصلے میں عدالت نے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر سہیل اصغر اور ایم ایس عدنان غفار کو بری کر دیا، بریت کی پہلی وجہ بچوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور طبی ماہرین کی رائے نہ ہونا بتائی گئی جبکہ دوسری وجہ اندراج مقدمہ کیلئے پی ایچ سی کی سفارش نہ ہونا قرار دی گئی۔
اخبارات کے مطابق فیصل آباد میں مختلف واقعات میں معاشی حالات سے تنگ آ کر خاتون سمیت تین افراد نے خودکشی کر لی، سرگودھا میں حالات سے تنگ آ کر 35 سالہ شخص نے زہریلی گولیاں کھا کر خود کشی کر لی، مغلپورہ لاہور میں 55 سالہ نور محمد نے گلے میں پھندہ ڈال کر زندگی کا خاتمہ کر لیا، شاہ باغ کے علاقہ میں 17 سالہ نبیل نے مالی مشکلات سے تنگ آ کر خودکشی کر لی۔کیا ان سب مسائل و مشکلات کا حل نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبے بنانے میں ہے۔ کیا یہ وقت ہے ایسے فیصلے کرنے کا جن سے سارے صوبوں میں ایک ہلچل سی پیدا ہوجائے، افراتفری پھیلے اور صوبائی تعصب جاگے۔ اس سب کے باوجود اگر آپ واقعی سچے دل سے، نیک نیتی سے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کی خاطر ایسا کر رہے ہیں تو ان مشکل ترین حالات میں بھی آپ نئے انتظامی یونٹس یعنی چھوٹے صوبے ضرور بنائیں لیکن اس سے زیادہ ضرورت چھوٹے ڈیم بنانے کی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ضرورت پہلے سے موجود صوبوں کو ساتھ چلانے کی ہے۔