غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض افراد میں ہیموگلوبن معمول کے مطابق ہونے کے باوجود خون میں آئرن کا ذخیرہ کم ہو سکتا ہے جس کے باعث مسلسل تھکن، بے چینی، نیند میں خلل، رات کے وقت ٹانگوں میں بے قراری اور بالوں کے جھڑنے جیسی شکایات سامنے آ سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہیموگلوبن جسم میں استعمال ہونے والے آئرن کی عکاسی کرتا ہے جبکہ ’فیریٹن‘ جسم میں ذخیرہ شدہ آئرن کی مقدار کا بتاتا ہے، اس لیے صرف ہیموگلوبن کا ٹیسٹ آئرن کی مکمل صورتِ حال جاننے کے لیے کافی نہیں۔
خاص طور پر ایسی خواتین کو بھی آئرن کی جانچ کا مشورہ دیا جاتا ہے جنہیں تھکن کے ساتھ بے چینی، رات میں ٹانگوں کی بے قراری، نیند کے مسائل یا بال جھڑنے کی شکایت ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فیریٹن کی سطح بعض لیبارٹریوں میں 15 تک معمول سمجھی جاسکتی ہے تاہم ٹانگوں میں بے قراری کی مخصوص صورتِ حال میں طبی رہنما اصول 75 یا اس سے کم فیریٹن پر آئرن کے علاج پر غور کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔
غذائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فیریٹن کو اکیلے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ جسم میں سوزش جانچنے والے ٹیسٹ کے ساتھ اس کا جائزہ لینا چاہیے کیوں کہ 50 فیصد سے زائد خواتین میں ہیموگلوبن معمول پر ہونے کے باوجود فیریٹن کی سطح کم پائی جاتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔