امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی چپ ساز کمپنی این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جینسن ہوانگ کو لاس اینجلس میں جاری ایک ٹیکنالوجی کانفرنس کے دوران فون کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جینسن ہوانگ سے فون پر بات کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’ہوکس‘ یعنی جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا۔
انہوں نے اے آئی کی ترقی میں سست رفتاری کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ضرورت سے زیادہ پابندیوں کی وجہ سے امریکا اس ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ میں چین سے پیچھے رہ سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کی مخالفت دراصل ان لوگوں کے مفاد میں کام کر رہی ہے جو نہیں چاہتے کہ یہ ٹیکنالوجی آگے بڑھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کی مخالفت کرنے والے سیاسی عناصر بھی ہو سکتے ہیں، چین بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب جینسن ہوانگ نے بھی اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی کے انتہائی خطرناک نتائج سے متعلق بعض پیش گوئیوں کو غیر سائنسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حفاظتی خدشات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے لیکن انہیں ٹیکنالوجی کی ترقی روکنے کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔
