• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کا خلائی مدار میں ہتھیار تعینات کرنے کا پہلی بار باضابطہ اعتراف

—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

امریکا نے خلائی مدار میں ہتھیار تعینات کرنے کا پہلی بار باضابطہ اعتراف کر لیا۔

امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک (Troy Meink) کا کہنا ہے کہ دشمن کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کے خلاف امریکی افواج کے تحفظ کے لیے مدار میں موجود (on orbit) یہ ہتھیار ضروری تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایئر اسپیس اینڈ سائبر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مینک نے کہا کہ امریکا بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے تاہم انہوں نے اس ہتھیار کی صلاحیتوں یا اسے مدار میں کب بھیجا گیا، اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

امریکی اسپیس فورس کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ یہ ہتھیار ضرورت پڑنے پر دشمن کے اثاثوں کو مفلوج یا تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں (combatant commands) کی ہدایت پر جارحانہ و دفاعی دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے گراؤنڈ گولڈن ڈوم دفاعی نظام کے تحت خلاء میں تعینات یہ ہتھیار اور انٹرسیپٹر میزائل امریکی دفاع کا کلیدی حصہ ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 1967ء کے ایک معاہدے کے تحت مدار میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (WMDs) کی تعیناتی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید