• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد اسلامی کو آئی اے ای اے کانفرنس میں شرکت سے روکنے کیلئے امریکا نے آسٹریا پر دباؤ ڈالا: ایران

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ایران نے اپنے جوہری سربراہ محمد اسلامی کو آئی اے ای اے کی کانفرنس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار پر آسٹریا اور امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا ہے امریکا نے اس ضمن میں آسٹریا پر دباؤ ڈالا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ محمد اسلامی 2021ء میں ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ مقرر ہونے کے بعد سے آئی اے ای اے کی جنرل کانفرنس میں باقاعدگی سے شرکت اور خطاب کرتے رہے ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ امریکا نے آئی اے ای اے کانفرنس میں سیاسی دباؤ کے ذریعے آسٹریا سے یہ فیصلہ کروایا ہے۔

کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی اے ای اے میں ایرانی مندوب رضا نجفی نے وفود کو بتایا کہ محمد اسلامی کا ویزا ابتدائی طور پر منظور کر لیا گیا تھا۔

انہوں نے اس فیصلے کو رکن ملک کی حیثیت سے ایران کے حقوق کی براہِ راست خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ ہماری مکمل اور مؤثر شرکت میں رکاوٹ ڈال کر رسائی سے انکار، آئی اے ای اے کے اجلاسوں میں شرکت سے متعلق قانونی فریم ورک کی روح اور اس کی واضح دفعات، دونوں کے منافی ہے۔

رضا نجفی نے کہا ہے کہ ویانا کی جانب سے محمد اسلامی کو ویزا جاری نہ کرنے کا فیصلہ میزبان ملک کی ذمے داری کی خلاف ورزی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کے جوہری سربراہ محمد اسلامی کو ویانا میں قائم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ہیڈکوارٹرز میں اس ہفتے ہونے والی سالانہ جنرل کانفرنس میں شرکت سے روک دیا ہے۔

یہ اقدام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اسنیپ بیک پابندیوں سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آسٹریا کی جانب سے ویزا منسوخ کیے جانے کے بعد محمد اسلامی اور ان کے وفد کو 5 روزہ کانفرنس میں شرکت کے لیے اپنا دورہ منسوخ کرنا پڑا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی سفری پابندی کے دائرے میں آتے ہیں، یہ پابندی 2015ء سے قبل کے کثیر ملکی اسنیپ بیک طریقۂ کار کے تحت عائد ہے، جسے گزشتہ برس یورپی فریقوں نے دوبارہ نافذ کیا تھا۔

اس پابندی کے تحت رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ ان نامزد ایرانی عہدیداروں کو اپنی حدود میں داخل ہونے یا اپنی سر زمین سے گزرنے کی اجازت نہ دیں جن کا تعلق ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں سے ہے۔

ایران اور روس دونوں نے اس واقعے کو ایرانی عہدیداروں کے لیے بین الاقوامی سفری ویزے کے حصول میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک مربوط کوشش قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید