• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کی بذریعہ ڈاک ووٹنگ پر پابندیوں کی درخواست مسترد

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے ووٹوں سے متعلق نئی پابندیوں پر عمل درآمد کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کر دی۔

قدامت پسند اکثریت رکھنے والی عدالت نے امریکی ضلعی جج اندرا ٹلوانی کے اس حکم کو ختم کرنے سے انکار کر دیا، جس کے تحت ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام کو روک دیا گیا تھا۔

 یہ فیصلہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈاک کے ذریعے ووٹنگ محدود کرنے کی ٹرمپ کی کوششوں کے لیے دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی محکمۂ ڈاک نے یہ ضابطہ ٹرمپ کی جانب سے مارچ میں جاری کیے گئے انتظامی حکم کے بعد نافذ کیا تھا، جس میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے قواعد سخت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

نئے ضابطے کے تحت ریاستوں کو محکمۂ ڈاک کو ووٹروں کی فہرست فراہم کرنا اور محکمۂ ڈاک سے پہلے سے منظور شدہ بیلٹ لفافے استعمال کرنا لازم قرار دیا گیا تھا۔

محکمۂ ڈاک کو ایسے بیلٹ مسترد کرنے کا اختیار دیا گیا تھا جو نئے معیار پر پورا نہ اترتے ہوں یا رجسٹرڈ ووٹروں کی فراہم کردہ فہرست میں شامل افراد سے متعلق نہ ہوں۔

جج اندرا ٹلوانی نے اس ضابطے کے خلاف حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ممکنہ طور پر امریکی آئین کی خلاف ورزی ہے اور وسط مدتی انتخابات قریب ہونے کے باعث اس پر عمل درآمد بھی ممکن نہیں ہو گا۔

اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے ہنگامی درخواست کی تھی کہ اسے اس پالیسی پر عمل درآمد کی اجازت دی جائے، جسے انتظامیہ نے ڈاک کو ووٹوں میں دھاندلی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے اہم وفاقی پالیسی قرار دیا تھا۔

اگست کے اواخر میں سپریم کورٹ نے عارضی طور پر ٹرمپ کو انتظامی حکم پر آگے بڑھنے کی اجازت دی تھی، تاہم عدالت نے اس وقت منصوبے کی قانونی حیثیت پر فیصلہ نہیں دیا تھا۔

تازہ فیصلے میں عدالت نے بغیر دستخط جاری کیے گئے حکم میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس مقدمے میں کامیاب ہونے کے امکانات کم ہیں۔

جسٹس سیموئل ایلیٹو اور جسٹس کلیرنس تھامس نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔ 

جسٹس ایلیٹو نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض درخواست گزاروں کے پاس مقدمہ دائر کرنے کی قانونی حیثیت نہیں تھی۔

ٹرمپ کی جانب سے مقرر کیے گئے جسٹس بریٹ کیوانا بھی انتظامیہ کے خلاف اکثریتی فیصلے میں شامل رہے، تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ مستقبل میں اس پالیسی کی حمایت کر سکتے ہیں۔

الاباما، نارتھ کیرولائنا اور وسکونسن میں وسط مدتی انتخابات سے قبل بیلٹ بھیجنے کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

ٹرمپ طویل عرصے سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی سیکیورٹی پر سوال اٹھاتے رہے ہیں اور انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے ان دعوؤں کو دہراتے رہے ہیں جنہیں مسترد کیا جا چکا ہے، حالانکہ وہ خود بھی 2024ء کے انتخابات سمیت ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈال چکے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید