پاکستانی سفیر کامران اختر ملک نے اس امر پر زور دیا ہے کہ خلائی سائنس اور جدید سائنسی تحقیق کے فوائد صرف چند ترقی یافتہ خلائی طاقتوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ ترقی پذیر دنیا کو بھی ان سے فائدہ پہنچنا چاہیے۔
ویانا میں اقوام متحدہ کے اداروں کے مرکز میں چین کے تاریخی چانگ ای-6 قمری مشن سے حاصل کیے گئے قمری نمونوں کی اقوام متحدہ کو حوالگی کے سلسلے میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔
اس تقریب میں پاکستان کے سفیر برائے آسٹریا و مستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ و بین الاقوامی تنظیمیں ویانا، محمد کامران اختر ملک نے شرکت کی۔
ویانا میں تقریب کا اہتمام اقوام متحدہ کے لیے چین کے مستقل مشن کی جانب سے کیا گیا۔
کامران اختر ملک نے تقریب کے دوران چین کو اس غیر معمولی سائنسی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی صرف چین کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ کامیابی ہے۔
انہوں نے سائنسی تحقیق، خلائی ٹیکنالوجی اور عالمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
کامران اختر ملک نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین خلائی تحقیق اور بیرونی خلاء کی کھوج کے شعبے میں قریبی شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون وقت کے ساتھ مختلف اہم شعبوں تک پھیل چکا ہے۔ ان شعبوں میں ریموٹ سینسنگ، قدرتی آفات سے نمٹنے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ، زراعت، آبی وسائل کا جائزہ اور گہرے خلاء و چاند کی تحقیق شامل ہیں۔
انہوں نے پاکستان اور چین کے خلائی تعاون کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے 2023ء میں International Lunar Research Station (ILRS) پروگرام میں ابتدائی شراکت دار کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی اور پاکستان نے اپنا ICUBE-QAMAR CubeSat چین کے چانگ ای-6 مشن کے ذریعے خلاء میں بھیجا جس نے چاند کی سطح کی تصاویر حاصل کیں۔
کامران اختر ملک کے مطابق یہ پاکستان کا پہلا گہرے خلاء کا مشن تھا جو چین کے تعاون سے مکمل ہوا۔ یہ کامیابی پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے سائنسی و خلائی تعاون کی ایک اہم مثال قرار دی جا سکتی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ چانگ ای-6 مشن سے حاصل کیے گئے نمونوں کو اقوام متحدہ کے حوالے کرنا اس تصور کی عملی عکاسی ہے کہ انسانیت کا مستقبل مشترکہ ہے اور سائنسی کامیابیوں کو عالمی برادری کے وسیع تر مفاد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
اس تقریب میں کامران اختر ملک کی شرکت نے خلائی تحقیق، سائنسی ترقی اور عالمی سائنسی تعاون کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو نمایاں کیا۔
پاکستان اور چین کے درمیان خلائی شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون مستقبل میں تحقیق، ٹیکنالوجی، ماحولیاتی نگرانی، قدرتی آفات سے نمٹنے اور چاند و گہرے خلاء کی تحقیق میں مزید مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
پاکستان سفارتخانہ ویانا کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق یہ تقریب ویانا میں 14 ستمبر 2026ء کو منعقد ہوئی۔