کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا ہے کہ میر رضا کیس میں اب تک پولیس 78 افراد کے بیانات ریکارڈ کر چکی ہے، تاہم کسی بھی شخص سے قتل کے حوالے سے کوئی سراغ نہیں ملا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کے معاملے پر کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔
کراچی پولیس چیف نے بتایا ہے کہ میر رضا کی موت 28 جولائی کو ہوئی، جبکہ 29 جولائی کو ان کے والد نے واقعے کی رپورٹ درج کرائی، ابتدائی معلومات کے مطابق جائے وقوع پر گھاس سے خون، ایک پھول دان اور خون سے بھرا لفافہ ملا، جبکہ پولیس نے 30 بور پستول کی گولی کا خول بھی برآمد کیا۔
آزاد خان کے مطابق میر رضا کیس کی پہلی تفتیشی ٹیم یکم اگست کو تشکیل دی گئی، جبکہ 9 اگست کو دوسری تفتیشی ٹیم بنائی گئی۔
اجلاس کے دوران سینیٹر قرۃ العین مری نے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ میر رضا نے موت سے قبل اپنے بینک اکاؤنٹ سے تمام رقم والدین کو منتقل کر دی تھی؟ کیا انہوں نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی خود بند کر دیے تھے؟ اور کیا عام طور پر اپنی گاڑی میں سفر کرنے والے میر رضا نے قتل کے روز آن لائن گاڑی منگوا کر سفر کیا تھا؟
کراچی پولیس چیف نے تصدیق کی ہے کہ یہ تمام باتیں درست ہیں، میر رضا اس روز گھر سے بندوق لے کر بھی گئے تھے۔
کمیٹی میں میڈیکو لیگل کرنے والی ڈاکٹر کے میڈیا پر بیان دینے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے۔
قرۃ العین مری نے پوچھا کہ کیا ڈاکٹر سمعیہ نے پولیس کو بیان دینے سے پہلے میڈیا پر اپنا بیان جاری کیا تھا؟ پولیس چیف نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر سمعیہ نے ٹی وی پر بیان دیا تھا۔
آزاد خان نے بتایا ہے کہ 29 جولائی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی سامنے سے لگنے کا ذکر ہے، جبکہ 8 اگست کی ایگزیومیشن رپورٹ میں گولی پیچھے سے لگنے اور سینے سے نکلنے کی بات لکھی گئی ہے۔
کمیٹی کی چیئرپرسن نے کہا ہے کہ اُمید ہے کہ اس معاملے میں کسی کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا، انہوں نے سوشل میڈیا پر میر رضا کو مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کا بھی ذکر کیا۔
پولیس چیف نے بتایا ہے کہ میر رضا کی شرٹ پر ہائیڈروکلورک ایسڈ کے کچھ نشانات پائے گئے، جبکہ چہرے پر بھی تشدد کے نشانات تھے۔
آزاد خان کے مطابق میر رضا 28 جولائی کو 3 بج کر 42 منٹ پر بہادر آباد سے سیکیورٹی گارڈ کی پستول لے کر نکلے، وہ 3 بج کر 52 منٹ پر گھر پہنچے اور 3 بج کر 57 منٹ پر گھر سے آن لائن رائیڈ بک کی۔
پولیس چیف نے بتایا ہے کہ میر رضا اپنی گاڑی کی چابی، گھڑی، گاڑی اور بٹوا گھر چھوڑ گئے تھے، وہ 4 بج کر 9 منٹ پر سفید گاڑی میں گھر سے نکلے اور 4 بج کر 28 منٹ پر منظور اسٹریٹ گلستان جوہر پہنچ کر ڈرائیور کو ادائیگی کی، میر رضا 4 بج کر 38 منٹ پر نرسری کی جانب جاتے ہوئے دکھائی دیے۔
آزاد خان نے کہا ہے کہ میر رضا کے والدین اس واقعے کو قتل قرار دے رہے ہیں، اسی لیے پولیس بھی قتل کے پہلو سے تفتیش کر رہی ہے۔
کراچی پولیس چیف کے مطابق میر رضا کو جولائی میں ساڑھے 4 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا، جبکہ ان کے دونوں ہاتھوں پر پستول کے نشانات بھی ملے ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق 24 ستمبر کو کراچی میں اجلاس کرے گی۔
کمیٹی نے 24 ستمبر کے اجلاس میں میر رضا کیس کی تفتیشی ٹیم کو پیش ہو کر بریفنگ دینے کی ہدایت بھی کر دی۔