قازقستان میں آستانہ اے آئی فلم فیسٹیول (AAIFF 2026) کا انعقاد کیا گیا، جسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی جانے والی فلموں کا دنیا کا سب سے بڑا بین الاقوامی مقابلہ قرار دیا گیا ہے۔
قازق خبر رساں ادارے کے مطابق پیر کو جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیسٹیول کے لیے 125 ممالک سے مجموعی طور پر 8,067 فلمیں جمع کرائی گئیں۔
جمع کرائی گئی فلموں کی تعداد کے لحاظ سے قازقستان 829 فلموں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ امریکا 1,395 فلموں کے ساتھ سرِفہرست رہا۔
اس کے علاوہ بھارت سے 702، چین سے 550 اور جنوبی کوریا سے 349 فلمیں جمع کرائی گئیں۔
آستانہ اے آئی فلم فیسٹیول کے شریک بانی اور بورڈ کے چیئرمین الماس ژالی نے کہا ہے کہ صرف چند ماہ قبل ہم ایک بین الاقوامی مقابلے کا آغاز کر رہے تھے اور آج ہمیں 125 ممالک سے 8 ہزار سے زائد فلمیں موصول ہو چکی ہیں۔
فیسٹیول کے شریک بانی اور تخلیقی ڈائریکٹر عزت اللّٰہ حسین نے بتایا کہ تخلیقی ویڈیو ٹیکنالوجی میں تیز رفتار پیش رفت کے دوران اس فیسٹیول کا تصور دسمبر 2025ء میں آستانہ میں پیش کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اب ہم واضح طور پر کہہ سکتے ہیں کہ آستانہ اے آئی فلم فیسٹیول دنیا کا سب سے بڑا اے آئی فلم فیسٹیول ہے، خواہ بات اس کی 20 لاکھ ڈالرز کی مالی معاونت کی ہو یا جمع کرائی گئی فلموں کی تعداد کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جمع کرائی گئی فلموں میں سے تقریباً 40 فیصد، یعنی 3,138 فلموں میں فیسٹیول کے مرکزی موضوع ’مستقبل قابلِ رہائش‘ کو موضوع بنایا، جمع کرائی گئی فلموں کا مجموعی دورانیہ 1 لاکھ منٹ سے زائد ہے، یہ فلمیں 4,756 فلم سازوں نے 80 سے زائد تخلیقی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی مدد سے تیار کی ہیں۔
فیسٹیول کے لیے مجموعی طور پر 10 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم مختص کی گئی ہے، جس میں 7 لاکھ 50 ہزار ڈالرز مرکزی موضوعاتی پروگرام کے لیے جبکہ 2 لاکھ 50 ہزار ڈالرز 5 اوپن کیٹیگریز کے لیے رکھے گئے ہیں۔