ورلڈ بینک نے اپنی غربت سے متعلقہ رپورٹ میں بتایا کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا کے غریبوں کا نصف پاکستان میں رہتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غریب یومیہ 3 ڈالر سے بھی کم کماتے ہیں، طویل اقتصادی اصلاحات سے حقیقی گھریلو آمدنی کم ہوئی۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سے ملک میں غربت میں اضافہ ہوا، روزگار کے مواقع بھی کم ہو گئے اور غربت کی شرح بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان خطے کے 48 فیصد غریبوں کا گھر ہے، یومیہ خط غربت 3 ڈالر مقرر ہے جو تقریباً 840 روپے بنتے ہیں، 3 ڈالر والی لائن میں اضافہ 6 اعشاریہ 4 فیصد جبکہ 4 اعشاریہ 2 ڈالر والی لائن پر یہ 3 اعشاریہ 2 فیصد رہا۔
ورلڈ بینک کے مطابق یہ اضافہ 19-2018ء سے 25-2024ء کے دوران ہوا، پاکستان کو مسلسل کئی منفی جھٹکے لگے، ان میں کوویڈ وبا بھی شامل تھی۔
رپورٹ کے مطابق سال 2022ء کے تباہ کن سیلاب بھی آئے، معاشی بحران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر گری، مالی سال میں پاکستان کی جی ڈی پی نمو 2 اعشاریہ 2 فیصد رہے گی، جو تقریباً گزشتہ سال جیسی ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق لبنان اور پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں 40 فیصد بڑھیں، شام اور متحدہ عرب امارات میں بھی ایسا ہوا، ڈیزل کی قیمتیں لبنان میں 80 فیصد سے زیادہ بڑھیں۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ڈیزل کی قیمتیں تقریبا 70فیصد بڑھیں جبکہ پاکستان میں 40 فیصد سے تجاوز کرگئیں، مشرق وسطیٰ تنازع کے آغاز سے ایسا ہوا۔
ورلڈ بینک کے مطابق جبوتی، مصر، اور اردن بھی تیل درآمد کرتےہیں، مراکش، پاکستان اور تیونس بھی اس میں شامل ہیں، یہ ممالک اقتصادی چینلز کے ذریعے متاثر ہیں۔ تیل اور اشیا کی قیمتوں سے مہنگائی بڑھ رہی ہے، اس سے مالیاتی گنجائش کم ہو رہی ہے، خلیجی معیشتوں سے آنے والی ترسیلاتِ زر گھٹ گئیں۔
ورلڈ بینک کے مطابق قرض لینے کی لاگت میں اضافہ ہوا، خطرات کی وجہ سے انشورنس مہنگی ہوگئی، پاکستان کا نجی شعبہ ابھی تک نہیں ڈھلا، وہ معیشت کی ابھرتی ضروریات کے مطابق نہیں۔
رپورٹ کے مطابق جبوتی، مصر، اور عراق، اردن، عمان، پاکستان، شام، اور یمن اس فہرست میں ہیں، یہ 8 ممالک بینچ مارک لائن سے نیچے ہیں، ان ممالک میں موبائل براڈ بینڈ سبسکرپشن کم ہیں۔