امریکی ایوان نمائندگان نے روس کے خلاف سخت نئی پابندیوں کے بل کی 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے منظوری دے دی جس کے بعد اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
اس بل کے تحت روس کے توانائی اور دفاعی شعبے، صدر ولادیمیر پیوٹن اور دیگر اعلیٰ حکام پابندیوں کی زد میں آئیں گے جبکہ روسی تیل کی ترسیل میں مدد دینے والے بحری جہازوں پر بھی پابندیاں عائد ہوں گی۔
نیا بل امریکی صدر ٹرمپ کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے جن میں ممکنہ طور پر چین اور بھارت بھی شامل ہیں۔
امریکی سینیٹ پہلے ہی گزشتہ ماہ 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے بل منظور کر چکی ہے جبکہ ٹرمپ اس پر دستخط کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
بل کا مقصد روس کی جنگی آمدنی محدود کر کے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ماسکو پر دباؤ بڑھانا ہے۔