• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ اسپورٹس پالیسی نافذ العمل ہو چکی: منور علی مہیسر

سند ھ کے سیکریٹری کھیل و امورِ نوجوانان منور علی مہیسر—فائل فوٹو
سند ھ کے سیکریٹری کھیل و امورِ نوجوانان منور علی مہیسر—فائل فوٹو

سند ھ کے سیکریٹری کھیل و امورِ نوجوانان منور علی مہیسر نے کہا ہے کہ سندھ اسپورٹس پالیسی نافذ العمل ہو چکی ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی جو ایسوسی ایشنز سندھ اسپورٹس بورڈ سے منسلک ہوں گی انہیں ہی تسلیم کیا جائے گا۔

سیکریٹری اسپورٹس منور علی مہیسر نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے محکمہ کھیل کی جانب سے مرتب کی گئی اسپورٹس پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں اس وقت ایک کھیل کی 2 یا 3 ایسوسی ایشنز موجود ہیں، جس کی وجہ سے کھیل اور کھلاڑی ہمیشہ سے مسائل سے دوچار رہے ہیں۔

سیکریٹری اسپورٹس کا کہنا ہے کہ کسی بھی کھیل کی ایسوسی ایشن چاہے وہ پی او اے سے منسلک ہو یا فیڈریشن سے یا پاکستان اسپورٹس بورڈ سے ، ہم اسے تسلیم کریں گے جو سندھ اسپورٹس بورڈ سے منسلک ہو گی۔

ان کا کہنا ہے کہ سندھ اسپورٹس پالیسی کھیلوں کی ترقی کے لیے جامع فریم ورک ہے ’کھیل سب کے لیے‘ سندھ اسپورٹس پالیسی کا بنیادی اصول ہے، 18 ویں ترمیم کے تحت سندھ حکومت کو کھیلوں میں قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔

اس موقع پر موجود ڈپٹی ڈائیریکٹر اسپورٹس اسد اسحاق نے کہا کہ وزیرِ کھیل سردار بخش مہر کی سربراہی اور سیکریٹری منوری علی مہیسر کی رہنمائی میں نئی اسپورٹس پالیسی سے مسائل حل ہوں گے اور سندھ کے ہر ڈویژن میں ملٹی پرپز اسپورٹس کمپلیکس، اکیڈمیز اور اسپورٹس سٹی قائم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں فزیکل ایجوکیشن اور کھیلوں میں شرکت لازمی قرار دی گئی ہے۔

چیف انجینئیر اسلم مہر نے کہا کہ سندھ میں اسپورٹس سائنس سینٹرز اور بائیو مکینکس لیبز قائم کی جائیں گی، کھلاڑیوں کے لیے ماہانہ وظائف، تعلیمی وظائف اور انشورنس کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین، اسپیشل ایتھلیٹس اور پنک گیمز کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات ہوں گے، اولمپک اور نان اولمپک کھیلوں کو سندھ اسپورٹس پالیسی میں شامل کیا گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید