بات چیت: سیّد نصر اقبال
سندھ کی سر زمین کھیلوں کے حوالے سے بڑی زرخیز رہی ہے، یہاں کے کھلاڑیوں نے ہر کھیل میں نہ صرف ایشیا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کیا۔ کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، باکسنگ، ٹیبل ٹینس، والی بال، باسکٹ بال، شطرنج، بیڈ منٹن، اسکواش اور اسنوکر سمیت کئی کھیلوں میں کراچی اور سندھ سے تعلق رکھنے والے مرد اور خواتین کھلاڑیوں نے انٹر نیشنل مقابلوں میں پاکستان کا نام روشن کیا۔
اس حوالے سے سندھ کی حکومتوں نے بھی وقتاً فوقتاً کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور سہولتوں کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم، گزشتہ چند برسوں سے کھیلوں کی ایسوسی ایشنز اور کھلاڑی شدید ترین بحرانوں کی زد میں ہیں۔کھلاڑیوں کے شکوے اور بے توجہی کی داستانیں اب مستقل طور پر اخبارات اور میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔ صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور نئے منصوبوں کا شور تو ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
اس پس منظر میں، صوبے میں کھیلوں کی زوال پذیر صورت حال، ایسوسی ایشنز کے شکووں، شکایتوں اور حکومتِ سندھ کے کھیلوں کے فروغ اور ترقیاتی منصوبوں کی حقیقت آشکار کرنے کے لیے سیکریٹری کھیل اور امورِ نوجوانان سندھ، منور علی مہسر سے خصوصی گفتگو کی گئی، جس کی تفصیل نذرِ قارئین ہے۔
س: سب سے پہلے تو یہ بتائیے کہ سندھ میں کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کو پچھلے کئی برسوں سے سالانہ گرانٹ نہیں دی گئی، اس کی کیا وجہ ہے؟
ج: بدقسمتی سے صوبے میں ماضی میں کئی کھیلوں میں اختلافات کی وجہ سے متوازی ایسوسی ایشن قائم ہوگئی، جس نے کھیلوں کا بیڑا غرق کردیا، اقربا پروری، عہدوں کی بندر بانٹ کی وجہ سے نہ صرف باصلاحیت مرد اور خواتین کھلاڑی آگے نہ آسکے، بلکہ بعض اچھے کھلاڑی جو قومی سطح پر نام پیدا کررہے تھے، مایوس ہوکر کھیل ہی چھوڑ گئے۔
تاہم، متعلقہ حکام نے اب متوازی فیڈریشنز پر کسی حد تک قابو پا لیا ہے اور گرانٹ نہ ملنے کے باوجود کھلاڑیوں کی مالی اعانت، انعامات اور تقاریب کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، کھلاڑیوں کو انعامات بھی دیئے۔ نیز، میڈلز حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کی نہ صرف مالی مددکی، بلکہ میڈلز حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو نقد انعامات دیے گئے اور ان کے اعزاز میں تقریبات بھی منعقد کی گئیں۔
س: کھیلوں کی فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز طویل عرصے سے سرکاری امداد پر انحصار کرتی چلی آ رہی ہیں۔ یہ ادارے مالی خود کفالت کے لیے نجی شعبے سے اسپانسر شپ حاصل کرنے کی موثر کوششیں کیوں نہیں کرتے؟
ج: یہ بات درست ہے کہ ملک بھر میں کھیلوں کی فیڈریشنز کا انحصار روایتی طور پر صرف حکومتی گرانٹس پر رہا ہے، جب کہ عالمی سطح پر کارپوریٹ سیکٹر کھیلوں کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ فیڈریشنز کو نجی اداروں کا اعتماد جیت کر انہیں میدانِ عمل میں لانا ہوگا۔ دنیا بھر میں کارپوریٹ ادارے کھیلوں کی ترقی اور کھلاڑیوں کی کفالت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں شکوہ صرف حکومت سے کیا جاتا ہے، جب کہ فیڈریشنز خود نجی سرمایہ کاری لانے میں ناکام ہیں۔
ایسے میں حکام کو نجی اداروں کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا، تاکہ کارپوریٹ سیکٹر کھیلوں کی ترویج کے لیے آگے آ سکے۔ میرے خیال میں مؤثر حکمتِ عملی سے اشتراکِ عمل کی راہیں ہم وار ہو سکتی ہیں، اگر اُن کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مختلف منصوبوں کے حوالے سے انھیں اعتماد میں لیا جائے، تو سرکاری اور نجی ادارے اُن کے ساتھ تعاون پر راضی ہوسکتے ہیں، مگر یہ سب کچھ ایک دوسرے پر مکمل اعتماد ہی سے ممکن ہے۔
ماضی میں اداروں کا کھیلوں کی ترقی میں جو کردار رہا ہے، اُسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ 2022ء میں حکومت کے خاتمے کے بعد ملک ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار تھا، مالی بحران کا سامنا تھا، مگر اس کے باوجود حکومتِ سندھ نے کھیلوں کے حکّام اور کھلاڑیوں کے مسائل حل کرنے میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھی تھی۔
س: تعلیمی ادارے اور کلبز کے مقابلے کھیلوں کے لیے ’’نرسری‘‘ کا کردار ادا کرتے ہیں، اس ضمن میں بہتری کے لیے آپ کیا قدم اٹھا رہے ہیں؟
ج: اس حوالے سے صوبائی وزیرِ کھیل سردار محمد بخش مہر کی ہدایت پر محکمہ کھیل، سندھ نے نئی اسپورٹس پالیسی کو حتمی شکل دے دی ہے، جسے منظوری کے لیے جلد سندھ کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ اس پالیسی کا مقصد متوازی فیڈریشنز کا خاتمہ، کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور تعلیمی اداروں میں کھیلوں کی سرگرمیاں بحال کرنا ہے۔
مذکورہ پالیسی سے کھیلوں میں متوازی فیڈریشنز کا رواج ختم ہوگا۔واضح رہے، محکمۂ تعلیم، صحت، قانون اور سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کی مشاورت سے تیار کی گئی پالیسی کے بنیادی اہداف میں قدیم و جدید کھیلوں کا فروغ، کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود، انفرااسٹرکچر کی توسیع، اسپورٹس ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کے نئے ضابطے اور اسکولز، کالجز اور جامعات میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی ازسرِنو بحالی شامل ہے۔
مجوزہ سندھ اسپورٹس پالیسی کی منظوری کے بعد صوبے میں کھیلوں اور کھلاڑیوں کے لیے ایک نئے دَور کا آغازہوگا۔ سندھ اسپورٹس پالیسی پر محکمۂ تعلیم، کالجز، جامعات، بورڈز، صحت، قانون، ڈی پی ڈی اور سندھ اولمپک ایسوسی ایشن سمیت متعلقہ اداروں سے تجاویز طلب کی گئیں ،جن سے مشاورت کے بعدہی اسے حتمی شکل دی گئی ہے۔ ہمیں بھرپور امید ہے کہ ماضی کی طرح اس پالیسی سے تعلیمی اداروں اور کلبزکے مقابلے دوبارہ فعال کرنے میں مدد ملے گی۔
س: آپ نے ماضی کی بات کی، تو اُس دَور میں تعلیمی اداروں میں کھیلوں کا مخصوص کوٹا ہوتا تھا، جس پر طلباء و طالبات کو داخلے میں مدد ملتی تھی،اب ان اداروں میں کھیلوں کا خاتمہ ہوگیا ہے، اس حوالے سے کیا قدم اٹھائیں گے؟
ج: میری ذاتی رائے یہ کہ تعلیم اور کھیلوں کی وزارت کے درمیان صوبوں کی سطح پر کوآرڈینیشن بہت ضروری ہے، وزارت کھیل، اسکولز، کالجز اور جامعات میں ٹیمز کے نہ ہونے پر کوئی بازپُرس نہیں کرسکتی، کیوں کہ یہ ہماری وزارت کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ تاہم ہماری خواہش ہے کہ تعلیمی اداروں میں داخلوں کے دوران اسپورٹس کوٹا دوبارہ نافذ کیا جائے۔
فی الحال، وزیرِ کھیل، سردار محمد بخش مہر بھرپورکوششیں کررہے ہیں کہ کھیلوں میں تعلیمی اداروں کی سطح پر بہتری کے لیے مل کرموثر و ٹھوس اقدامات کیے جائیں،تاکہ نرسری سے نئے کھلاڑی سامنے آسکیں۔
س: اٹھارہویں ترمیم کے تحت کھیلوں کی وزارت تو صوبوں کو مل گئی، مگر وفاق کے اثاثے نہ مل سکے؟
ج: جی، یہ حقیقت ہےکہ نیشنل کوچنگ سینٹر اسٹیڈیم روڈ کو حاصل کرنے کے لیے متعدد بار اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا گیا، لیکن تاحال یہ مرکز صوبائی حکومت کے حوالے نہیں کیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر سندھ حکومت کو عملے کو تن خواہیں دینے کی ذمّے داری تو سونپی گئی ہے، مگر عمارت کی ملکیت صوبائی حکومت کو منتقل نہیں کی جا رہی۔
اگر نیشنل کوچنگ سینٹر سندھ حکومت کی تحویل میں آجائے، تو اندرونِ ملک کھیلوں کے مقابلوں کے بیش تر مسائل بآسانی حل ہو سکتے ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف قومی مقابلوں میں شرکت کے لیے آنے والی مختلف ٹیمز کو جدید ہاسٹل کی سہولت فراہم کی جا سکے گی، بلکہ کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے بھی بہترین انتظامات ممکن ہو سکیں گے۔
س: حکومت نے قدیم عبدالستار ہاکی اسٹیڈیم کی از سرِ نو تعمیر کے لیے خطیر فنڈز کا اعلان کرنے کے باوجود تاحال گرانٹ کیوں جاری نہیں کی؟
ج: حکومتِ سندھ کو اس کا ذمّے دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل ناکامی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام کی ہے، جس نے فعال کردار ادا نہیں کیا۔ حکومتِ سندھ تو اپنے وعدے پر آج بھی قائم ہے۔ ہاکی اسٹیڈیم ہمارا تاریخی اثاثہ ہے، جس سے قومی ہاکی ٹیم کی شان دار فتوحات کی یادیں وابستہ ہیں اور پھر یہ اسٹیڈیم جس عظیم شخصیت سے موسوم ہے، تو حکومت کیوں اس کی تعمیر کے لیے تعاون نہیں کرے گی۔
دراصل، حکومتِ سندھ نے کئی بار ہاکی فیڈریشن کے حکام سے رابطہ کیا، مگر فیڈریشن کے حکام نے فعال کردار ادا نہیں کیا اور مسلسل رابطہ کرنے کے باوجود متحرک نہیں ہوئے۔
س: یہ بتائیے، کھیلوں کے فروغ کے لیے آئندہ برسوں میں صوبے میں کون کون سی سرگرمیاں اور بڑے منصوبے زیرِ غور ہیں؟
ج: جی، اس سلسلے میں حکومتِ سندھ نے یومِ دفاع پر صوبے بھر میں کھیلوں کے شان دار مقابلوں کا اعلان کر دیا ہے۔ قومی یک جہتی اور حبّ الوطنی کا جذبہ اجاگر کرنے کے لیے فٹ بال، کرکٹ اور مارشل آرٹس سمیت مختلف روایتی و جدید کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ برس بھی حکومت نے قومی گیمز کی کام یاب میزبانی میں مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی، جسے ملک بھر کے کھلاڑیوں اور آرگنائزرنے کافی سراہا بھی۔
جہاں تک کھیلوں کے فروغ اور منصوبوں کی بات ہے تویومِ دفاع پر کراچی کے تمام اضلاع سمیت پورے صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے ذریعے قومی یک جہتی، حبّ الوطنی اور آزادی کی اہمیت اجاگر کی جائے گی۔ سیلف ڈیفینس، فٹ بال، کرکٹ، مکسڈ مارشل آرٹس، باکسنگ سمیت روایتی کھیلوں، بیڈمنٹن، جمناسٹک اور رولر اسکیٹنگ ایونٹس کے علاوہ بدین، ٹنڈوالٰہ یار، دادو، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، قمبر شہدادکوٹ، تھرپارکر، شکارپور، جیکب آباد، حیدرآباد، ٹھٹھہ، لاڑکانہ، میرپورخاص، گھوٹکی، شہید بے نظیرآباد، سکھر اور سانگھڑ میں ’’یومِ دفاع اسپورٹس فیسٹیول‘‘ کے تحت مختلف کھیلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔
حکومتِ سندھ نےجون 2027ء تک صوبہ سندھ کے 30اضلاع میں بڑے اسپورٹس اور یوتھ ایونٹس کروانے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔رواں برس، نومبر میں 19ویں سندھ گیمز سکھر، جب کہ اسپیشل گیمز سکھر اور سندھ پنک گیمز اکتوبر میں شہید بے نظیر آباد میں، آئندہ سال تھر جیپ ریلی تھرپارکر اور سندھ بیچ گیمز رواں سال دسمبر میں منعقد کیے جائیں گے، جب کہ اکتوبر میں سچل گوٹھ کراچی میں میگا ملاکھڑا، نومبر میں کوہستان بیل گاڑی دوڑ مقابلہ، ٹھٹھہ، حیدرآباد میں اقبال ڈے اسپورٹس فیسٹیول، شہید بے نظیر آباد میں سخی جام داتار کے عرس کے موقعے پر ٹریڈیشنل گیمز، ملاکھڑا اور کبڈی ٹورنامنٹ ، نومبر میں سیکنڈ ای اسپورٹس چیمپئن شپ کراچی میں منعقد کیے جائیں گے، نیز 30اضلاع میں ونٹر کوچنگ کیمپ لگائے جائیں گے۔
شطرنج چیمپئن شپ حیدرآباد، جنوری میں، تھر فیسٹیول مٹھی میں جب کہ دریا اسپورٹس فیسٹیول حیدرآباد میں لعل شہباز قلندرؒ کے عرس پر آل پاکستان ملاکھڑا ، فروری میں ڈویژنل شہید بے نظیر آباد، اپریل میں لیاری اسپورٹس فیسٹیول، مئی میں سندھ پنک فٹ بال چیمپئن شپ، جون میں گدھا گاڑی ریس کراچی میں اور سمر کیمپس سندھ بھر میں منعقد کروائے جائیں گے۔
علاوہ ازیں، سندھ بھر میں ملاکھڑا، کوڈی کوڈی، کبڈی، شوٹنگ بال، اسٹریٹ چلڈرن گیمز (فٹ بال، کرکٹ، گلی ڈنڈا، رسّا کود) سمیت روایتی کھیلوں کا بھی انعقاد کروایا جائے گا۔ ہاکی، نیٹ بال، بیڈمنٹن، تھرو بال سمیت مختلف کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کو کھیلوں کے فروغ کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی، اس کے علاوہ سندھ اسپورٹس بورڈ کو مزید فعال کیا جائے گا۔
س: کچھ نئے ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے جارہے ہیں؟
ج: جہاں تک ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی بات ہے، تو سندھ کے موجودہ مالی سال2026-27ء کے بجٹ میں دیگر شعبوں کی طرح کھیلوں کے لیے بھی کوئی نئی ترقیاتی اسکیم جاری نہیں کی گئی۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ پہلے سے 11ارب 2 کروڑ 81 لاکھ 78 ہزار روپے کی لاگت سے جاری 75 ترقیاتی اسکیمز کے لیے 2ارب3 کروڑ 41 لاکھ 28 ہزار روپے رکھے گئے ہیں، لیکن ان ترقیاتی اسکیمز پر پہلے ہی 4ارب 25 کروڑ 34 لاکھ 48 ہزار روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
س: سندھ کارڈ کا اجراء کب ہوگا اور اس سے نوجوانوں اور کھلاڑیوں کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟
ج: اس حوالے سے عرض ہے کہ سندھ یوتھ کارڈ کے ذریعے صوبے کے 30اضلاع کے 15سے 29سال عمر کے ایک لاکھ نوجوانوں کو مختلف سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ یوتھ کارڈ کے تحت نوجوانوں کو تعلیمی ا سکالرشپس، کاروبار کے لیے بلا سود قرضے، مالی معاونت، عالمی معیار کی ا ِسکلز ٹریننگ اور سفری سہولتوں سمیت مختلف شعبوں میں خصوصی رعایتیں فراہم کی جائیں گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ یوتھ کارڈ کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور یہ منصوبہ جلد نوجوانوں کے لیے متعارف کروادیا جائے گا۔ نیز، وزیرِ کھیل نے محکمہ امور ِنوجوانان کو نوجوانوں کے لیے مزید فلاحی اور ترقیاتی پروگرام متعارف کروانے کی بھی ہدایت دی ہے۔
نوجوانوں کو صوبے کے تمام اضلاع کے یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹرز میں تربیت دی جائے گی اور انھیں فعال کیا جائے گا۔ سندھ یوتھ کارڈ گرلز، بوائز، اقلیتی اور خصوصی افراد کو ملے گا، کارڈ کے حامل نوجوانوں کے لیے اسکالرشپ، بلاسود قرض، انٹرن شپ اور بیرونِ ملک روزگار کے لیے خصوصی ٹریننگ کی فراہمی کے ساتھ نوجوان خواتین کے لیے پنک اسکوٹی یا متبادل آمد و رفت کے ذرائع کی فراہمی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ نیز، یوتھ کارڈ کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت اور صحت کی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔