• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مغربی بنگال میں مسلمان ٹیچر سے زبردستی استعفیٰ لے کر کمرہ ’شدھی‘ کیا گیا

مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے کے بعد ہندوتوا کے نت نئے مظاہر سامنے آنے لگے۔

اب کولکتا میں سنگھ پریوار کی طلبا تنظیم کے گروپ نے سریندر ناتھ کالج کی وائس پرنسپل اور ٹیچر ان چارج محمدی ترنم کو دن بھر محصور رکھ کر زبردستی استعفے پر دستخط کرالیے۔

بھارتی اخبار کے مطابق محمدی ترنم کو طلبا تنظیم اے بی وی پی سے وابستہ طلبا نے گھیر لیا اور انہیں ان کے کمرے میں 23 گھنٹے تک محصور رکھا، طلبہ اپنے ساتھ استعفی لے کر آئے تھے، جس پر ٹیچر سے زبردستی دستخط کرالیے۔

محمدی ترنم کے جانے کے بعد طلباء کے گروپ نے ان کے کمرے میں داخل ہو کر اگربتیاں جلائی اور گنگا جل چھڑکا اور کہا کہ وہ کمرے کو ’شدھی‘ کر رہے ہیں۔

محمدی ترنم نے طلبہ کے حصار سے نکلتے ہی اعلی حکام کو ای میل بھیجی کہ ان پر دباؤ ڈال کر دستخط لیے گئے۔

طلبہ اور ٹیچر کے درمیان تنازع کی اصل وجہ طلبہ کی غیر حاضری سامنے آئی۔ قانون کے طلبا کو امتحانات میں بیٹھنے کے لیے 65 فیصد حاضری درکار ہوتی ہے، بیشتر طلبہ یہ شرط پوری نہیں کر رہے تھے۔

ہائیر ایجوکیشن اتھارٹی نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ ترنم کا استعفیٰ کا خط منظور ہوا یا نہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید