مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کے لیے مبینہ طور پر باہمی رابطے اور معاہدے پر اینتھروپک، اوپن اے آئی، اسپیس ایکس اے آئی اور گوگل کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا گیا۔
مقدمہ کیلیفورنیا کی شمالی ضلعی عدالت میں دائر کیا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کی ترقی سست کرنے پر اتفاق کر کے مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے جس سے صارفین کو مصنوعی ذہانت کی خدمات سے حاصل ہونے والا فائدہ کم ہو سکتا ہے۔
دائر مقدمے کے متن کے مطابق 12 ستمبر کو اینتھروپک کے سربراہ ڈیریو اموڈی نے مصنوعی ذہانت کی پیش رفت سست کرنے اور حفاظتی اقدامات بڑھانے کے لیے صنعتی سطح پر تعاون کی تجویز دی تھی جس پر اسی روز اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین، اسپیس ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک اور گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ ڈی مس ہسابس نے اتفاق کا اظہار کیا تھا۔
مقدمہ 4 ایسے صارفین کی جانب سے دائر کیا گیا ہے جو چیٹ جی پی ٹی، کلاؤڈ، گروک یا جیمنائی کی رکنیت کے خریدار ہیں جبکہ اسے ملک بھر کے دیگر صارفین کی نمائندگی کرنے والے اجتماعی مقدمے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
درخواست گزاروں کے وکیل نک رولی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانی قابو سے باہر ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر اس کی حفاظت سے متعلق فیصلے نجی اور مفاد پرستانہ معاہدوں کے ذریعے نہیں ہونے چاہئیں۔
کمپنیوں نے مقدمے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔