• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وطن عزیز میں سیاسی عمل جمود کا شکار ہو چکا ہے۔ ڈائیلاگ اور ووٹ کی طاقت سے وجود میں آنے والے ملک میں اپنے ہی ہم وطنوں کیلئے گفتگو کے دروازے کھولنے کے بجائے ان پر جیلوں کے دروازے کھولے جا رہے ہیں،وفاق اور صوبوں میں سیاسی بیانیہ عملی طور پر غائب ہوچکا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیاسی جماعتوں اور عوام کے مابین رابطہ انتہائی کمزور پڑ چکا ہے،بڑی سیاسی جماعتیں عوامی مسائل پر بات کرنے کے بجائے ذاتی مسائل پر سیاست کر رہی ہیں۔عام آدمی مہنگائی اور بدامنی کے بوجھ تلے دبا ہوا جبکہ سیاسی اشرافیہ کی ذاتی مصروفیات کی چکا چوند سے غریب کی آنکھیں چندھیا گئی ہیں۔مہنگی بجلی، بے لگام پٹرولیم مصنوعات پر ماتم کرنیوالے عام آدمی کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہے اور اس پر مستزاد کہ دھرنوں اور لانگ مارچ نے پورے ملک کو ایک بےیقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔حکومت بے رحمی کے ساتھ عوام کی پیٹھ پر مہنگائی کے کوڑے برسا رہی ہے اور عوام سے ووٹ لینے والے اپنے محفوظ جزیروں پر سکون سے آنکھیں موندے لیٹے ہوئے ہیں۔پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کی کوششیں جاری ہیں، دوسری طرف سیاسی ماحول میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ تحریک انصاف نے 27ستمبر کو احتجاج اور اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ حکومت نے اسے روکنے کیلئے اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔

یہ صورت حال ہمیں اپنی سیاسی تاریخ کے کئی ابواب یاد دلاتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی تصادم نیا نہیں۔ 1950ء کی دہائی کے آئینی بحران سے لیکر 1958ءکے مارشل لا، 1977ءکی احتجاجی تحریک اور اسکے نتیجے میں طویل مارشل لا، 1988ء سے 1999ء تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی باہمی محاذ آرائی،اور پرویز مشرف کا مارشل لا، تاریخ بار بار یہ بتاتی رہی ہے کہ جب اختلاف مذاکرات کے بجائے تصادم میں تبدیل ہو جائے تو اسکے اثرات ایک جماعت کے بجائے پوری قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

1988 ء کے بعد کی سیاست اس حوالے سے ایک اہم سبق رکھتی ہے۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف ایک دوسرے کے بڑے سیاسی حریف تھے، مگر وقت نے دونوں کو یہ سمجھنے پر مجبور کیا کہ مستقل کشمکش جمہوری نظام کو کمزور کرتی ہے۔ بالآخر 2006ء کا میثاقِ جمہوریت سامنے آیا۔ یہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ شدید سیاسی اختلاف رکھنے والے رہنما بھی قومی مفاد میں ایک میز پر بیٹھ سکتے ہیں۔ آج پاکستان پھر ایک ایسی ہی ضرورت محسوس کر رہا ہے۔عمران خان کی حکومت کا 2022ء میں عدم اعتماد کے ذریعے خاتمہ، اسکے بعد احتجاج، گرفتاریوں، مقدمات، انتخابی تنازعات اور حکومت و تحریک انصاف کے درمیان مسلسل کشیدگی نے سیاست کو ایک طویل محاذ آرائی میں تبدیل کردیا ہے۔ حکومت کا مؤقف اپنی جگہ، تحریک انصاف کے اعتراضات اپنی جگہ، مگر اس کشمکش کا ایک مشترکہ فریق بھی ہے پاکستان اور پاکستانی قوم۔کیا کوئی جماعت یا راہنما پاکستان کیلئے بھی سوچ رہا ہے؟

موجودہ بحران کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ سیاسی مسئلہ سیاسی میدان سے نکل کر معاشرتی تقسیم کا سبب بن رہا ہے۔ اگر 27ستمبر کا احتجاج اور اس کے خلاف ریاستی اقدامات ایک دوسرے کے مقابل بڑھتے ہیں تو سیاسی کشیدگی کے ساتھ معاشی سرگرمی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حالیہ احتجاج کے ممکنہ معاشی نقصان کے حوالے سے روزانہ 120ارب روپے تک کا تخمینہ پیش کیا ہے۔ یہ حکومتی تخمینہ ہے، لیکن اس سے کم از کم یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سیاسی عدم استحکام کی قیمت بالآخر عام شہری ادا کرتا ہے۔ مذاکرات کا مطلب کسی فریق کی شکست نہیں، بلکہ اختلاف کو آئینی اور پارلیمانی دائرے میں منتقل کرنا ہے۔ حکومت کو اپوزیشن کو سننا ہوگا اور اپوزیشن کو بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر سیاسی مطالبے کا حل سڑک پر نہیں نکلتا۔ احتجاج جمہوری حق ہے، مگر پرامن اور آئینی احتجاج، ریاست کی ذمہ داری بھی ہے کہ قانون نافذ کرتے ہوئے سیاسی اور شہری حقوق کا احترام کرے۔یہاں پاکستان کی موجودہ سیاسی نسل کے تین بڑے نام خصوصی توجہ کے مستحق ہیں: عمران خان، نواز شریف اور آصف علی زرداری۔ یہ تینوں اپنی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ گزار چکے ہیں۔ اقتدار دیکھا، مخالفت دیکھی، کامیابیاں دیکھیں اور تلخیاں بھی۔ شاید اب ان کے پاس اپنی سیاست کا سب سے اہم باب لکھنے کا موقع ہے۔تمام سیاسی جماعتیں اور رہنما مل بیٹھیں، ایک دوسرے کو معاف کریں۔ معافی کا مطلب سیاسی انتقام کے چکر کو ختم کرنا اور آنے والی نسل کو ایک بہتر سیاسی ماحول دینا ہے۔

ضرورت ایک نئے سیاسی میثاق کی ہے، جس میں کم از کم یہ اصول طے ہوں کہ انتخابات کا فیصلہ آئینی طریقے سے ہوگا، حکومت کی تبدیلی پارلیمان کے ذریعے ہوگی، احتجاج پرامن ہوگا، احتساب قانون کے مطابق ہوگا اور سیاسی مخالف کو دشمن نہیں سمجھا جائیگا۔ پاکستان کو اس وقت ایک دوسرے کو شکست دینے والے سیاست دانوں سے زیادہ، ایک دوسرے کو سننے والے سیاست دانوں کی ضرورت ہے۔اقتدار عارضی ہے، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں عروج و زوال دیکھتی ہیں؛ مگر پاکستان نے باقی رہنا ہے۔ اس لئے آج کا سب سے بڑا سیاسی سوال یہ نہیں کہ کون فاتح ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہماری قیادت اختلاف کے باوجود ملک کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے؟ تاریخ نے ان رہنماؤں کو بہت کچھ دیا ہے۔ اب انہیں قوم کو کچھ لوٹانا چاہے، اپنی انا سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کا حوصلہ، اپنے مخالف کو معاف کرنے کا ظرف اور پاکستان کو اپنی سیاست سے مقدم رکھنے کا فیصلہ۔مذاکرات کی میز پر بیٹھنا شکست نہیں۔ کبھی کبھی ایک قوم کی سب سے بڑی فتح یہی ہوتی ہے کہ اس کے رہنما ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے اپنے ملک کو بچانے کیلئے اکٹھے ہو جائیں۔ پاکستانی قوم انتظار کر رہی ہے کہ ایران اور امریکہ کیلئے مذاکرات کی میز سجانے والے اپنے ہم وطنوں کیلئے کب مذاکرات کے دروازے کھولیں گے… کیونکہ آخری حل مذاکرات ہی ہیں۔

تازہ ترین