• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کی تاریخ صرف بادشاہوں، قلعوں اور قدیم تہذیبوں کی تاریخ نہیں، بلکہ یہ مزاحمت، قربانی، سیاسی شعور اور اپنی دھرتی سے وفاداری کی بھی تاریخ ہے۔ آج جب سندھ کی وحدت، شناخت اور مستقبل کے حوالے سے نئی بحثیں جنم لے رہی ہیں تو ماضی کے ان واقعات کو یاد کرنا ضروری ہو جاتا ہے جنہوں نے سندھ کی سیاسی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔

17 فروری 1843ء کو حیدرآباد کے قریب میانی کے میدان میں تالپور حکمرانوں اور برطانوی فوج کے درمیان جنگ ہوئی۔ برطانوی فوج کو کامیابی حاصل ہوئی اور سندھ کی خودمختاری کا خاتمہ شروع ہوگیا۔ اسی مزاحمت کے اگلے مرحلے میں ہوش محمد شیدی نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور 24 مارچ 1843ء کو حیدرآباد کی جنگ میں شہید ہوئے۔ ان سے منسوب مشہور نعرہ ’’مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں‘‘ آج بھی سندھ کی اجتماعی یادداشت میں مزاحمت اور اپنی دھرتی سے وفاداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

وقت گزرا، حالات بدلے اور سندھ نے تاریخ کے ایک اور بڑے سیاسی موڑ پر اپنا کردار ادا کیا۔ 3 مارچ 1943ء کو سندھ اسمبلی نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے قیام کے حق میں قرارداد منظور کی۔ یہ برصغیر کی کسی صوبائی اسمبلی کی جانب سے پاکستان کے قیام کے حق میں منظور ہونے والی پہلی قرارداد تھی۔ یوں سندھ نے پاکستان کے قیام کی سیاسی جدوجہد میں بھی ایک نمایاں اور تاریخی کردار ادا کیا۔

پاکستان وجود میں آیا تو سندھ نے نئی ریاست کی تعمیر میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ کراچی پاکستان کا ابتدائی دارالحکومت بنا، لاکھوں لوگوں نے ہجرت کے بعد سندھ کو اپنا مسکن بنایا اور سندھ نے ملک کی معیشت، تجارت اور صنعت میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن آج کئی دہائیوں بعد سندھ خود متعدد مسائل میں گھرا ہوا ہے۔تعلیم، صحت، پانی، روزگار، زراعت، غربت، بنیادی سہولیات اور شہری و دیہی ترقی کے مسائل آج بھی سندھ کے عوام کے سامنے موجود ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں شہری سہولیات اور بلدیاتی اختیارات کا مسئلہ ہے تو اندرونِ سندھ کے کئی علاقوں میں بنیادی ضروریات کا فقدان ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان مسائل کا حل کیا سندھ کی تقسیم ہے؟

حالیہ عرصے میں نئے صوبوں کی بحث ایک مرتبہ پھر سامنے آئی ہے۔ بعض حلقے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کو بہتر حکمرانی کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جبکہ سندھ کے مختلف سیاسی اور قوم پرست حلقے سندھ کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اسے محض نعروں یا سیاسی مفادات کے ذریعے نہیں بلکہ آئین، جمہوری اصولوں اور عوامی رضامندی کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔

اگر کراچی کے مسائل ہیں تو کراچی کو بااختیار اور مؤثر بلدیاتی نظام کیوں نہیں دیا جاتا؟ اگر اندرونِ سندھ پسماندگی ہے تو وہاں تعلیم، صحت، صنعت، زراعت اور روزگار کے مواقع کیوں نہیں بڑھائے جاتے؟ اگر عوام کو حکمرانی سے شکایت ہے تو اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟صوبہ تقسیم کرنا نسبتاً آسان سیاسی نعرہ ہو سکتا ہے، مگر مسائل کا حقیقی حل پیدا کرنا مشکل کام ہے۔ سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے مسائل اپنی جگہ حقیقی ہیں اور ان کا اعتراف بھی ہونا چاہیے، لیکن ان مسائل کو حل کرنے کے لیے سب سے پہلے اچھی حکمرانی، شفافیت، مضبوط بلدیاتی اداروں، منصفانہ وسائل اور احتساب کی ضرورت ہے۔

سندھ کی وحدت کی بات کرنا پاکستان کے خلاف بات نہیں۔ اسی طرح انتظامی اصلاحات کی بات کرنے والوں کو دشمن سمجھنا بھی دانش مندی نہیں۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے کا احترام ضروری ہے، لیکن کسی تاریخی صوبے کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کا فیصلہ معمولی معاملہ نہیں۔ ایسے کسی بھی اقدام کے لیے آئینی تقاضوں کے ساتھ وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی خواہش کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ہوش محمد شیدی سے منسوب ’’مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں‘‘ کو آج صرف ایک سیاسی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک تاریخی احساس کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس احساس کا مطلب یہ بھی ہے کہ سندھ کے لوگ اپنی شناخت، حقوق، وسائل اور مستقبل کے بارے میں فیصلہ سازی میں اپنی آواز چاہتے ہیں۔

لیکن آج سندھ کو صرف ماضی کے نعروں پر فخر کرنے کے بجائے مستقبل کیلئے عملی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ایسا سندھ جہاں کراچی اور اندرونِ سندھ کے درمیان ترقی کا فرق کم ہو، جہاں نوجوانوں کو روزگار ملے، جہاں اسکول اور اسپتال بہتر ہوں، جہاں پانی اور بنیادی سہولیات ہر شہری تک پہنچیں اور جہاں عوام کو اپنے منتخب نمائندوں سے جواب طلب کرنے کا حقیقی اختیار حاصل ہو۔

میانی کے میدان سے لے کر سندھ اسمبلی کی تاریخی قرارداد تک سندھ کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ اپنی سیاسی شناخت اور اپنے فیصلوں میں آواز کا خواہاں رہا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تاریخ کو تقسیم اور نفرت کا ذریعہ بنانے کے بجائے انصاف، ترقی اور جمہوری اتفاقِ رائے کی بنیاد بنایا جائے۔

سندھ کو توڑنے سے پہلے سندھ کے مسائل کو سمجھنا ہوگا، اور سندھ کو بدلنے کیلئے اس کی زمین نہیں بلکہ اس کے نظامِ حکمرانی کو بہتر بنانا ہوگا۔ کیونکہ مضبوط سندھ ہی مضبوط پاکستان کا حصہ بن سکتا ہے، اور مضبوط پاکستان وہی ہوگا جہاں کسی صوبے کو کمزور کرنے کے بجائے اسکے عوام کو مضبوط بنایا جائے۔

تازہ ترین